کالمز

نئے فضلاء کے لیے عملی سمت

ملک بھر کی دینی مدارس و جامعات سے، خصوصاً گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے، سینکڑوں طلبہ و طالبات ہر سال درس نظامی کی تکمیل کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ کراچی سے لے کر گلگت بلتستان تک سینکڑوں دینی مدارس موجود ہیں جن میں کئی ادارے علمی وقار، تنظیمی صلاحیت اور مالی استطاعت بھی رکھتے ہیں۔ یہ صورت حال ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے کہ ان اداروں کی علمی توانائی کو ایک بامقصد، دیرپا اور اجتماعی علمی منصوبے میں ڈھالا جائے۔

اس ضمن میں ایک نہایت مؤثر اور قابل عمل تجویز ذہن میں آرہی ہے کہ نئے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو گلگت بلتستان سے متعلق تحقیقی و تصنیفی کاموں کی طرف باقاعدہ طور پر راغب کیا جائے۔ بالخصوص خطے کے دینی مدارس، علماء کرام، علمی و دینی شخصیات، دینی و سماجی خدمات، قیام امن میں کردار اور مستقبل کے تعلیمی و فکری منصوبوں جیسے موضوعات کو تحقیقی پروجیکٹس کی صورت میں شامل تحقیق و تالیف بنایا جائے۔ یہ کام نہ پیچیدہ ہے اور نہ ہی غیر معمولی وسائل کا متقاضی؛ محض وژن، منصوبہ بندی اور سنجیدہ نگرانی کی ضرورت ہے۔

اگر تین چار مدارس باہم مل کر سالانہ بنیادوں پر ایک منظم تحقیقی پروجیکٹ ترتیب دیں اور اس کے لیے مناسب بجٹ مختص کیا جائے تو چند ہی برسوں میں گلگت بلتستان میں معیاری تحقیقی و تالیفی کاموں کی ایک مضبوط روایت قائم کی جا سکتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ خطے کی علمی و دینی تاریخ محفوظ ہوگی، اہل علم اور اداروں کی خدمات باقاعدہ دستاویزی شکل اختیار کریں گی، اور یہ علمی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے گا۔ یوں ادارے، افراد اور ان کی خدمات وقت کی گرد سے محفوظ ہو کر دوام اور اثر پذیری حاصل کریں گی۔

بس ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے اور چند تجربہ کار فضلاء پر مشتمل منظم ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ان تحقیقی و تالیفی کاموں پر مامور کیا جائے۔ سینئر فضلاء کی رہنمائی، ادارہ جاتی سرپرستی اور واضح اہداف کے ساتھ یہ کام نہ صرف مؤثر ہوگا بلکہ دیرپا نتائج بھی دے گا۔ اس انداز کار سے نوجوان فضلاء کو تحقیق کے اصول، ماخذ شناسی، تحریری اسلوب اور فکری ذمہ داری کا عملی شعور حاصل ہوگا، جو محض تدریس سے ممکن نہیں ہوتا۔
یوں چند ہی برسوں میں یہ نوجوان فضلاء و فاضلات محض اچھے مدرس و مدرسات ہی نہیں رہیں گے بلکہ سنجیدہ محققین اور معیاری مؤلفین کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ اس کا فائدہ فرد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دینی مدارس کا علمی وقار بڑھے گا، تحقیق و تصنیف کی روایت مضبوط ہوگی اور گلگت بلتستان جیسے خطے کی علمی، دینی اور سماجی تاریخ مستند انداز میں محفوظ ہو سکے گی۔ یہ ایک ایسا سرمایۂ علم ہوگا جو نسل در نسل منتقل ہو کر اداروں، افراد اور پورے خطے کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بنے گا۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button