خصوصی خبرسیاست

سنسنی خیز سیاسی دھماکہ: گلگت بلتستان کی سیاست میں نیا موڑ

ہم خیال گروپ کا 24 حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان، نئی جماعت میں شمولیت قریب

اسلام آباد: گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل اس وقت پیدا ہوگئی جب سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون، سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان، سابق وزیر اطلاعات فتح اللہ خان، سابق وزیر داخلہ شمس لون، سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ، سابق وزیر حاجی شاہ بیگ، سابق اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) شفیع، ظفر شادم خیل اور خان اکبر خان نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہم خیال گروپ کے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل سے پردہ اٹھا دیا۔

قومی پریس کلب اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے اعلان کیا کہ ہم خیال گروپ آئندہ عام انتخابات میں گلگت بلتستان کے تمام 24 حلقوں سے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گا اور الیکشن جیت کر حکومت بنانے کا واضح عزم رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رہنماؤں نے جلد کسی نئی سیاسی جماعت میں شمولیت کا عندیہ بھی دیا اور کہا کہ اہم قومی سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے کہا کہ ہم خیال گروپ میں اس وقت چھ سے سات سابق پی ٹی آئی اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ خالد خورشید کی نااہلی کے بعد انہی رہنماؤں نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت سنبھالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی بڑی سیاسی جماعت میں شامل ہوکر انتخابات لڑتے تو ہمیں جونیئرز کے طور پر کام کرنا پڑتا، جبکہ ہمارے گروپ میں گلگت بلتستان کے سینئر اور تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں، اسی لیے ایک نیا اور خودمختار سیاسی راستہ اختیار کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حالات میں ہم خیال گروپ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ مزید یہ کہ گلگت بلتستان کے 14 حلقوں میں ایسے الیکٹیبلز ہمارے ساتھ ہیں جو کسی بھی بڑی جماعت کے پاس موجود نہیں۔

حاجی گلبر خان نے واضح کیا کہ فی الحال گروپ کا کوئی سربراہ یا وزیر اعلیٰ کا امیدوار مقرر نہیں کیا گیا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ یہ کسی ایک فرد کا گروپ ہے۔ وقت آنے پر قیادت اور عہدوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں سابق وزیر داخلہ شمس لون نے تحریک انصاف اور خالد خورشید سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اب سب کچھ ووٹ کے ذریعے واضح ہو جائے گا کہ اصل ووٹ بینک کس کے پاس ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ الیکشن کی تیاری کرے اور میدان میں آکر مقابلہ کرے تاکہ حقیقت قوم کے سامنے آئے۔

ہم خیال گروپ کے رہنماؤں نے اپنی سابق حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گندم سبسڈی میں نمایاں ریلیف دیا گیا، اساتذہ کے مسائل حل کیے گئے اور سست بارڈر پر تاجروں کے دیرینہ مسائل پہلی بار حل ہوئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ہم خیال گروپ کا یہ اعلان گلگت بلتستان کی سیاست میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور آنے والے انتخابات کو غیر معمولی حد تک دلچسپ بنا سکتا ہے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button