تاج برطانیہ کی ریاست ہنزہ نگر کے خلاف فوجی مہم ….. قسط دوئم

برطانوی ہندوستان کے گرمائی دارالحکومت شملہ سے ہدایات موصول ہوئیں کہ سال کے آخر میں ریاستِ ہنزہ نگر کے خلاف جنگ چھیڑ دی جائے۔ بالآخر 16 نومبر 1891ء کو برٹش انڈیا کے زیرِ کمانڈ تمام فوجیں گلگت میں خیمہ زن ہو گئیں۔ بقول ای۔ ایف۔ نائٹ:

"دو ہزار افواج خیمہ زن تھیں جو ریاستِ ہنزہ نگر پر حملے کے لیے حکم کی منتظر تھیں۔ 23 نومبر کو ہنزہ کا ایلچی کرنل ڈیورنڈ کے لیے پیغام لے کر آیا تو نومل قلعے کے انچارج ڈوگرہ میجر نے اس سے پوچھا: ہمارے ساتھ تمہاری جنگ کب ہوگی؟ سیاسی ایلچی نے جواب دیا، ہم ہنزہ والے امن کے داعی ہیں، ہم جنگ کرنا بالکل نہیں چاہتے۔ میجر نے کہا: ’تم جنگ کی تمام تیاری کر چکے ہو۔‘
ایلچی نے کہا: تم عقل کی بات کرتے دکھائی دیتے ہو۔ میجر نے کہا: ’آؤ، ہم جنگ کرتے ہیں۔‘”

میر صفدر علی خان آف ہنزہ کے ایلچی نے کرنل ڈیورنڈ کو میر صفدر خان کا پیغام سنایا کہ چھپروٹ ان کی ذاتی ملکیت ہے، لہٰذا وہ اس کی سرحدوں سے دور رہیں، ورنہ جنگ کے لیے تیار رہیں۔ چھپروٹ ایک علیحدہ چھوٹی سی ریاست تھی، جس میں کئی لڑائیاں لڑی جا چکی تھیں اور کئی مرتبہ یہ علاقہ مختلف راجاؤں کے قبضے میں رہ چکا تھا۔

کرنل ڈیورنڈ نے یہ پیغام سن کر اپنی فوج کو حکم دیا کہ تمام لوگ جو مارچ کی حالت میں ہوں یا کیمپ میں ہوں، انہیں علیحدہ علیحدہ گروپوں میں تقسیم کیا جائے، اور اس کی فوج دریا کے کنارے سے چھپروٹ کی جانب روانہ ہوئی۔ بقول نائٹ، چچار پڑی کی طرف مارچ کے دوران مجھے سب سے پہلے گورکھے، پھر مہاراجہ کی فوج، اور آخر میں جاذبِ نظر پونیال کے لیویز دکھائی دیے جو نسلوں سے سرحدوں کا دفاع کرنے والے تھے۔ ان کے راجہ اکبر خان ان کے ہمراہ تھے، جو ہمارے حلیف تھے۔ استور کا راجہ بھی ہمارے ساتھ تھا۔ گلگت بریگیڈ کا کمانڈر ڈوگرہ جنرل سرم صینرا بھی اپنے عملے کے ساتھ پہنچ گیا تھا۔ امپیریل سروس کی فوج بھی ساتھ تھی؛ ان کا یہ پہلا معرکہ تھا۔ شملہ سے آئے ہوئے چودہ تجربہ کار جنگی ماہرین میں سے ایک افسر کشمیر رجمنٹ کے جوانوں کی رہنمائی کر رہا تھا۔ ڈوگرہ فوج کے اعلیٰ افسران ہمارے ساتھ مل کر کارکردگی دکھا رہے تھے۔ ہماری اپنی چھوٹی فوج کا ایک حصہ اپنے مرکز سے چھلت تک کے علاقے میں واقع مختلف چوکیوں اور قلعوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

اس رات ہم نے وادی اور دریا کے اُس پار پہاڑوں پر جا بجا آگ کے الاؤ جلتے دیکھے۔ یہ اس بات کی نشاندہی تھی کہ قبائلی لڑنا چاہتے تھے۔ ہنزہ نگر والوں نے نلت کے درمیان تمام گھاس جلا دی تھی تاکہ ہمارے خچروں کے لیے چارہ نہ مل سکے۔

یکم دسمبر کو ہمارے لیے سرحد کی جانب پیش قدمی کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

کرنل ڈیورنڈ اپنی مشہور کتاب The Making of a Frontier میں اس جنگ کے بارے میں لکھتے ہیں:

"نومبر کے آخر میں میری افواج چھلت میں جمع ہو چکی تھیں۔ ہمارے پاس بہت سا اسلحہ، بارود اور دو توپیں تھیں۔ میں نے کئی مرتبہ خطوط لکھ کر ہنزہ اور نگر کے راجاؤں سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ انہیں خطوط لکھ لکھ کر آمادہ کرتے ہوئے میں تھک چکا تھا، اس امید سے کہ معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے۔”

قبل ازیں ایک خط میں راجہ صفدر علی خان نے کرنل ڈیورنڈ کو پیغام بھیجا تھا کہ "وہ انگریزوں سے نہیں ڈرتا، کیونکہ روسی اس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔” اس نے ڈیورنڈ کو دھمکی دی کہ میرے لوگ تمہارا سر کاٹ کر میری خدمت میں پیش کریں گے۔ ایک اور خط میں انہوں نے کرنل ڈیورنڈ کو لکھا: "میں تمہارا مقابلہ کروں گا، اگرچہ اس کے لیے مجھے سونے کی گولیاں ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑیں۔ اگر تم نے قسمت آزمائی کی کوشش کی تو اپنے آپ کو تین فوجوں، یعنی ہنزہ نگر، چین اور روس سے لڑنے کے لیے تیار رکھو۔ کرنل ڈیورنڈ! ہم تمہارا سر کاٹ کر ہندوستان کی حکومت کو اطلاع دے دیں گے۔”

بقول ڈیورنڈ:

"آخر میں میں نے اپنے ایک قابلِ بھروسہ ایلچی کو ہنزہ نگر روانہ کیا تھا تاکہ وہ میری طرف سے ان راجاؤں کو متنبہ کرے۔ اس وقت ہنزہ کا راجہ صفدر علی خان اپنی افواج کے ساتھ میون کے مقام پر موجود تھا اور نگر کا راجہ عذر خان نلت میں تھا، جو میرے کیمپ سے آٹھ میل دور تھا۔ نگر کے بوڑھے راجہ نے امن کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن اس کے بیٹے راجہ عذر خان، جو اصل حکمران تھا، اور جنگ کی حامی پارٹی مضبوط تھی، اس لیے بزرگ راجہ مزاحمت نہ کر سکا۔

میرے نمائندے نے مجھے بتایا کہ دورانِ گفتگو جب اس نے میرا واضح موقف ان کے سامنے پیش کیا کہ وہ تاجِ برطانیہ کے لوگوں کو اپنے علاقوں سے مکمل آزادی سے گزرنے کی اجازت دیں، نیز برطانوی وہاں فوجی سڑکیں تعمیر کریں گے اور برطانوی فارورڈ پالیسی کے تحت روسی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ہنزہ کی سرحدوں پر چوکیاں تعمیر کریں گے، البتہ ان کے نظامِ حکومت میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی جائے گی اگر وہ برطانوی حکومت کی فرمانبرداری کریں گے۔”

یہ سن کر ہنزہ کے وزیر نے تلوار نکال کر کہا کہ جو انگریزوں کے ڈیمانڈز پر متفق ہوگا وہ اسے قتل کرے گا۔

"میں نے انہیں سوچنے کے لیے تین دن کی مہلت دی تھی، لیکن اگلے دن میرا نمائندہ پیدل ہی واپس آ گیا۔ ہنزہ نگر کے راجاؤں نے نہ صرف اسے بے عزت کیا تھا بلکہ اس کا گھوڑا بھی چھین لیا تھا اور قتل کرنے کی دھمکی دے کر پیدل واپس بھیج دیا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ دونوں راجاؤں نے لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سفیر نے رپورٹ دی کہ دشمن نے چھلت کے قلعے کو بہت مضبوط کر لیا ہے۔ وہ اس پر دو سال سے کام کر رہے ہیں، اور روسیوں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی مدد کے لیے توپیں اور اسلحہ لے کر آئیں گے۔”

بقول کرنل ڈیورنڈ:

"میرے پاس اب مزید کوئی چارہ نہیں تھا، لہٰذا یکم دسمبر 1891ء کو ہم نے چھلت کے اوپر سے جا کر دریائے ہنزہ پار کیا، جہاں برطانوی افسر کیپٹن ایلمر نے عارضی پل تعمیر کیا تھا۔ اب ہم دشمن کی سرزمین پر تھے۔

امن کے لیے میں نے اپنی پوری کوشش کی تھی، لیکن ناکام ہوا کیونکہ قبائلیوں نے جنگ کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اب ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں تھا، سوائے اس کے کہ جلدی اور پوری قوت سے حملہ کریں۔”

بقول ای۔ ایف۔ نائٹ، ہندوکش کے بہت سے قبائلیوں کے خیال میں لندن، ہنزہ کی طرح ایک مضبوط گاؤں سے زیادہ کچھ نہیں تھا، اور ان کے نزدیک لندن گلگت سے خاصی مسافت پر واقع تھا۔ نیز انہیں روس اور چین کی مدد کا گمان تھا، اور ہماری طاقت کا انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔ بقول ای۔ ایف۔ نائٹ، ریاستِ ہنزہ نگر کی افواج کا نام اس وقت "فیلڈ فورس” تھا، جس نے برطانوی حکومت کے خلاف دفاعی جنگ لڑی۔ اس جنگ کا ذکر اگلی قسط میں ہوگا۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button