تعلیمی اداروں کے قریب بڑھتی ہوئی ڈرگ سرگرمیاں
میری ڈائری کے اوراق سے
گلگت بلتستان اور چترال قدرتی حسن، سماجی ہم آہنگی اور روایتی اقدار کے لحاظ سے دنیا میں منفرد خطے تصور کیے جاتے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں ان علاقوں میں ڈرگ کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر تعلیمی اداروں، بالخصوص اسکولوں کے اطراف ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔رپورٹس کے مطابق بعض مبینہ نشہ فروش مختلف حلیوں میں، جیسے طالبِ علم، ریڑھی بان یا مزدور، اسکولوں کے پریمیسس میں داخل ہو کر کم عمر طلبہ کو نشے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عمل نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
چترال میں حالیہ کارروائی: چترال ٹائمز (23 اگست 2025) کے مطابق مختلف تھانوں کے حدود میں پکڑی گئی منشیات نذر آتش کی گئی، جس میں 29 کلو چرس، ایک کلو سے زیادہ آئس اور دیگر منشیات شامل تھیں۔ عدالتی موجودگی میں یہ منشیات تلف کی گئیں۔
گلگت میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔ ڈیلی انڈیپنڈنٹ (16 دسمبر 2025) کے مطابق پولیس نے اسکول کے قریب سے ایک مشتبہ شخص کے قبضے سے 450 گرام ہاشش برآمد کی۔ تفتیش کے دوران گرفتار شخص نے اعتراف کیا کہ وہ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فراہم کرتا تھا۔اکثر ایسے واقعات میں پولیس بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیتی ہے، لیکن جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے، کسی شخص کو مجرم قرار دینا قانونی اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں گواہ کی حیثیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ عینی شہادت اور مستند ثبوت کے بغیر انصاف ممکن نہیں تاہم حالات اس کے بر عکس ہیں جیسا کہ فیض احمد فیضؔ نے کہا
بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
اندھیروں میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ معاملات کے پیچھے لمبے ہاتھ بھی ہیں، جو بظاہر ان عوامل کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں، مگر یہ سمندر ہے کہ رکتا اور تھمتا نہیں۔
آج کل اسکولوں کی پالیسیاں اور قوانین بھی بعض اوقات استاد کو نصیحت آمیز لہجہ استعمال کرنے سے روک دیتی ہیں، حالانکہ مقصد طلبہ کی بہتری ہوتا ہے۔ خیر یہ موضوع چھوڑیے لیکن آج والدین اپنے بچوں کے ہاتھوں اتنے مجبور ہو ئے ہیں کہ خود اپنے بچوں کو سنبھاتے ہو ئے ڈر تے ہیں اور وہ بھی سکول انتظامیہ اور استاتذہ کو مورد الزام بناتے ہیں ۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں اور دوستوں پر نظر رکھیں ۔ اساتذہ بھی غیر مر ئی انداز سے اس لعنت کی روک تھام کےلیے کوشش کریں ، آگاہی پروگرامز اور لیکچرز کے ذریعے طلبہ کو نشے کے نقصانات سے آگاہ کریں اور زمہ دار طلبہ کو یہ کام تفویض کریں کہ وہ ایسے طلبہ کی نشادہی کریں جو سکول کے اندر غیر ضروری اور نقصاندہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ عوام مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع پولیس کو دیں۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ اسکولوں کے اطراف نگرانی سخت کرے اور نشہ فروش عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ اس کے علاوہ مساجد ، جماعت خانہ اور تمام عبادت گاہوں میں اس کی روک تھام پر سر جوڑ کو غور کریں ۔ ہم ان عبادت خانوں میں اللہ کی عبادت تو کرتے ہیں لیکن جو اہم احکامات ہیں اُن پر عمل نہیں کرتے ۔ اگر آُپ کو یقین ہے کہ آگے کچھ ہے تو آپ جوابدہ ہوں گے ۔
نوجوان نسل کو محفوظ اور روشن مستقبل دینے کے لیے یہ مشترکہ کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے۔






