ریڈیو کا عالمی دن

تحریر: واجد علی

ریڈیو کا عالمی دن ہر سال 13 فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں ریڈیو کی اہمیت، اس کی افادیت اور معاشرے میں اس کے مثبت کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ سال 2026 میں یہ دن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب جدید ٹیکنالوجی کے بے پناہ فروغ کے باوجود ریڈیو اپنی سادگی، وسیع رسائی اور مؤثر اندازِ ابلاغ کی بدولت آج بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

ریڈیو نہ صرف خبروں کی فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے بلکہ یہ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور علاقوں کو آپس میں جوڑنے کا مضبوط وسیلہ بھی ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد آج بھی معلومات، تعلیم اور تفریح کے لیے ریڈیو پر انحصار کرتے ہیں۔

اس سال ریڈیو کا عالمی دن "ریڈیو اور اے آئی” کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نشریاتی دنیا کو کس طرح بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ریڈیو پروگرامنگ کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور سامعین کی دلچسپی کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔ اے آئی خبروں کی تیاری، آواز کی پہچان، خودکار ترجمہ اور سامعین کے رجحانات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مستقبل میں اے آئی پر مبنی ورچوئل ریڈیو میزبان، خودکار نیوز ریڈرز اور اسمارٹ ریڈیو ایپس عام ہو سکتی ہیں۔

تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے تاکہ انسانی تخلیقی صلاحیت، پیشہ ورانہ اقدار اور انسانی آواز کی گرمجوشی برقرار رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی احساس اور جذبات وہ عنصر ہیں جو ریڈیو کی اصل روح ہیں اور انہیں مکمل طور پر ٹیکنالوجی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ریڈیو اور اے آئی کا امتزاج مستقبل کی نشریات کو مزید جدید اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان میں ریڈیو کی تاریخ قیامِ پاکستان سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی، لیکن 1947 کے بعد ریڈیو پاکستان نے قومی یکجہتی اور نظریاتی استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ریڈیو پاکستان نے قومی اور بین الاقوامی خبریں بروقت عوام تک پہنچائیں، تعلیمی اور اصلاحی پروگرام نشر کیے، ثقافتی ورثے اور علاقائی زبانوں کو فروغ دیا، اور قدرتی آفات و ہنگامی حالات میں عوام کو بروقت آگاہ کیا۔

خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں، جہاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے، ریڈیو آج بھی معلومات کا سب سے آسان اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔

گلگت بلتستان ایک پہاڑی اور جغرافیائی لحاظ سے دشوار گزار علاقہ ہے، جہاں کئی مقامات پر انٹرنیٹ یا دیگر ذرائع ابلاغ کی رسائی محدود ہے۔ ایسے میں ریڈیو لوگوں کی زندگی کا اہم حصہ بن جاتا ہے۔ ریڈیو پاکستان گلگت بلتستان میں شینا، بلتی، بروشسکی، کھوار اور وخی جیسی مقامی زبانوں میں پروگرام نشر کرتا ہے۔ یہ ادارہ مقامی ثقافت، روایات اور موسیقی کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید برآں، موسم کی صورتحال، سڑکوں کی بندش، ہنگامی اطلاعات اور قدرتی آفات کے دوران بروقت آگاہی فراہم کرنا ریڈیو کی اہم خدمات میں شامل ہے۔ طلبہ اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی پروگرام بھی نشر کیے جاتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں خراب موسم یا کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران ریڈیو ہی وہ ذریعہ ہوتا ہے جو عوام کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے۔

اسی لیے گلگت بلتستان میں ریڈیو نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ یہ زندگی کا ایک لازمی اور ناگزیر جزو بھی ہے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button