مادری زبانوں کا عالمی دن اور ریڈیو پاکستان کا کردار۔

ہر سال 21 فروری کو دنیا بھر میں یونیسکو کے زیرِ اہتمام مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، شناخت اور ثقافت کی امین بھی ہوتی ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا میں موجود لسانی و ثقافتی تنوع کو فروغ دینا، مادری زبانوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، تعلیمی نظام میں مادری زبان کی اہمیت کو تسلیم کرنا اور معدوم ہوتی زبانوں کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر شعور بیدار کرنا ہے۔

دنیا بھر میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بہت سی زبانیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ جدید تعلیم اور سرکاری معاملات میں بڑی زبانوں کا غلبہ، شہری علاقوں کی طرف ہجرت، نئی نسل کا مادری زبان کے بجائے قومی یا بین الاقوامی زبانوں کو ترجیح دینا اور تحریری مواد و دستاویزی ریکارڈ کی کمی — یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے بہت سی زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اپنی لسانی شناخت سے محروم ہو سکتی ہیں۔

پاکستان ایک کثیراللسانی ملک ہے جہاں اردو کے علاوہ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، براہوی، ہزارگی، شینا، بلتی، بروشسکی، کھوار اور دیگر کئی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ زبانیں مختلف خطوں کی ثقافت، روایات، لوک داستانوں اور موسیقی کی عکاس ہیں۔ علاقائی زبانیں نہ صرف لوگوں کی شناخت کا حصہ ہیں بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔ جب ہر زبان کو عزت اور نمائندگی ملتی ہے تو معاشرے میں ہم آہنگی اور احترام کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔

گلگت بلتستان لسانی اعتبار سے نہایت زرخیز خطہ ہے جہاں شینا، بلتی، بروشسکی، کھوار، وخی اور دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مگر ان زبانوں کو بھی سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن میں تعلیمی اداروں میں مادری زبان میں تعلیم کا فقدان، تحریری رسم الخط اور معیاری نصاب کی کمی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر محدود نمائندگی اور نوجوان نسل کی دلچسپی میں کمی شامل ہیں۔ ان زبانوں کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی زبانوں میں نصاب اور کتابیں تیار کی جائیں، تحقیق و دستاویزی کام کو فروغ دیا جائے، میڈیا اور سوشل میڈیا پر انہیں جگہ دی جائے اور ثقافتی میلوں و ادبی تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔

ریڈیو پاکستان وطنِ عزیز کا قومی نشریاتی ادارہ ہے جو قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک علاقائی زبانوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ مختلف علاقائی زبانوں میں خبریں، ڈرامے، حالاتِ حاضرہ، موسیقی کے پروگرام اور ثقافتی نشریات پیش کرتا ہے۔ خاص طور پر گلگت بلتستان سمیت دور دراز علاقوں میں ریڈیو پاکستان نے مقامی زبانوں کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریڈیو کی بدولت نہ صرف مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں بلکہ لوک موسیقی، شاعری اور روایتی ادب کو بھی محفوظ کیا جا رہا ہے۔

مادری زبانوں کا عالمی دن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زبان ہماری شناخت کا بنیادی ستون ہے۔ پاکستان جیسے کثیراللسانی ملک میں علاقائی زبانوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے۔ ریڈیو پاکستان جیسے قومی ادارے اس سلسلے میں قابلِ تحسین خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت، تعلیمی ادارے، میڈیا اور عوام سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا — تاکہ ہماری مادری زبانیں آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکیں۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button