چترال کی سرحدیں اور افغانستان کے تعلقات تاریخی حقائق

چترال اور افغانستان کے تعلقات محض ہمسائیگی کا معاملہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک گہرا تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتہ ہیں۔ چترال کی تاریخ اور ثقافت کو بدخشان، واخان اور نورستان کے اثرات کے بغیر سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی حوالوں سے چترال کے روابط شمال مشرقی افغانستان کے ساتھ کم از کم اتنے ہی مضبوط رہے ہیں جتنے گلگت بلتستان سے، بلکہ بعض پہلوؤں میں اس سے بھی زیادہ گہرے اور نمایاں ہیں۔

اس تجزیے میں ہم 1747 کے بعد قائم ہونے والی درانی سلطنت افغانستان اور ریاست چترال کے تعلقات پر روشنی ڈالیں گے، خاص طور پر اس دور پر جب چترال برطانوی سرپرستی میں آ گیا تھا اور برطانوی حکومت اس کے خارجی معاملات سنبھالنے لگی تھی۔

متعلقہ

ڈیورنڈ لائن ایک انتہائی حساس اور متنازع موضوع ہے، مگر ایک اہم پہلو ایسا ہے جسے نہ افغانستان اور نہ ہی پاکستان نے سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔ وہ یہ کہ چترال کے دو سابقہ علاقے، جن کا واضح طور پر معاہدے میں ذکر تھا کہ وہ برطانوی ہند کے سیاسی دائرۂ اثر میں رہیں گے، بعد میں افغانستان نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ساتھ ملا لیے۔

مہتر امان الملک، جو خود کو شاہ کہلوانا پسند کرتے تھے اور جنہیں افغان اور جنوبی پشتون قبائل قشقر کے بادشاہ کے لقب سے پکارتے تھے، نے افغانستان کے دباؤ سے آزادی برقرار رکھنے کے لیے جموں و کشمیر کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے دیرینہ حریف اسمار کے خان اور بدخشان کے میر افغان طاقت کے سامنے شکست کھا چکے ہیں، تو انہیں اندازہ ہوا کہ برطانوی ہند کا نظام، جہاں مقامی حکمران اپنی حکومت برقرار رکھ سکتے تھے، افغانستان کی براہِ راست حکمرانی سے کہیں بہتر تھا۔

اسی پس منظر میں 1885 میں پہلی برطانوی سفارتی مہم چترال پہنچی اور یوں چترال اور برطانوی ہند کے درمیان براہِ راست تعلقات کا آغاز ہوا۔ یہ تعلقات صوبائی حکومت کے بجائے براہِ راست برطانوی فارن سیکرٹری کے ذریعے سنبھالے جاتے تھے، جیسا کہ اس دور میں مسقط، قطر اور افغانستان کے ساتھ کیا جاتا تھا۔امان الملک کی وفات کے بعد چترال میں شدید سیاسی بحران پیدا ہوا اور ان کے چار بیٹے باری باری مختصر مدت کے لیے حکمران بنے۔ اسی دوران ڈیورنڈ معاہدہ طے پایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی ہند نے چترال کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی اور بالائی کنڑ وادی اور کافرستان (موجودہ نورستان) کی بشگل وادی افغانستان کے حوالے نہیں کی۔

برطانوی حکومت اس بات سے متفق تھی کہ امیرِ افغانستان اسمار اور اس کے اوپر کی وادی کو چناک تک اپنے پاس رکھیں گے۔ اس کے بدلے، امیر اس بات پر متفق تھے کہ وہ کبھی بھی سوات، باجوڑ یا چترال میں مداخلت نہیں کریں گے، جن میں ارناوائی اور بشگل وادی بھی شامل ہیں۔ لیکن معاہدے کے صرف دو سال بعد افغانستان نے دونوں وعدے توڑ دیے۔ انہوں نے بشگل وادی کے قدیم مقامی قبائل کو فتح کر کے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا اور بالائی کنڑ میں چترال کے دو قلعوں، نارائی اور برکوٹ، پر قبضہ کر لیا۔

چترال کے لیے سال 1895 ہنگامہ خیز ثابت ہوئے جب خود چترال بھی برطانوی اثر سے نکلنے کے قریب تھا، اس لیے برطانوی حکومت نے ان واقعات پر آنکھیں بند رکھیں۔ بعد میں چترال کو ریاستی ریاست بنا دیا گیا اور یوں اس کی خارجہ پالیسی بنانے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔ اسی دوران دوکالم نامی چترالی گاؤں بھی افغانستان کے حوالے کر دیا گیا۔

اس کے باوجود بشگل وادی کے لوگ مہتر چترال کو اپنا روایتی حکمران مانتے رہے۔ تیسری افغان جنگ کے دوران چترال نے دوبارہ بشگل اور بالائی کنڑ پر اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش کی۔ بشگل کے قبائل نے گوارڈیش اور کامدیش میں چترالی فوج کا خیرمقدم کیا اور مہتر کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا۔ چترالی فوج نے کنڑ میں برکوٹ بھی دوبارہ حاصل کر لیا، لیکن برطانوی حکومت نے ان اقدامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور پہلے والی صورتحال بحال کر دی۔

افغان حکومت اکثر ڈیورنڈ لائن کے مسئلے کو اٹھا کر پاکستان کے اندرونی علاقوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہے، لیکن پاکستان کی وزارت خارجہ کبھی یہ مؤقف پیش نہیں کرتی کہ ڈیورنڈ معاہدے کے مطابق افغانستان کے دو صوبوں، کنڑ اور نورستان کے بڑے حصے تاریخی طور پر چترال کے علاقے تھے۔ اگر یہ علاقے دوبارہ چترال کے ساتھ شامل ہوں تو وہاں کے لوگوں کو امن اور ترقی کے مواقع ملیں گے، اور یہ کوئی توسیع پسندی نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری ہوگی۔

واخان اور تجارت کے راستے چترال کی سرحد صرف مغرب اور جنوب تک محدود نہیں بلکہ ہندوکش کی پہاڑیوں کے ساتھ شمال میں بدخشان اور واخان تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان جغرافیائی سرحد اور ہند آریائی و ایرانی ثقافتی دنیا کے درمیان حد سمجھی جاتی ہے۔

چترال نے کبھی واخان پر دعویٰ نہیں کیا، لیکن یہ علاقہ کاشغر، یارقند اور ختن کی منڈیوں تک تجارت کا اہم راستہ تھا۔ یہ سلسلہ 1930 کی دہائی تک جاری رہا، جب افغانستان نے چترال سے آنے والی تجارت کے لیے سرحد بند کر دی۔ اس کے بعد ہنزہ نے چین کے ساتھ براہِ راست سرحد کی وجہ سے اس تجارت کا بڑا حصہ سنبھال لیا۔

چترال کے لوگوں کو افغانستان میں ہمیشہ عزت اور احترام ملا ہے۔ یہاں تک کہ جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ رہے، تب بھی افغان حکام نے چترالی لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔ چترال کے لوگوں کو افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں، مگر افغانستان کو بھی چترال کے تاریخی تجارتی حقوق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چترال کے تاریخی علاقوں کے دعوے کو اجاگر کرے اور واخان کے راستے تجارتی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کرے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button