سیدنا حکیم ناصر خسرو کی کتاب ‘زاد المسافرین’ کا اردو ترجمہ
کتاب ‘ زاد المسافرین’ پانچویں/ گیارہویں صدی کے نامور مفکر، فلسفیانیہ شاعری کے بانی اور ممتاز اسمعیلی داعی سیدنا حکیم ناصر خسرو (متوفی۔ 481ھ/ 1088ء) کی اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں ‘ سفر نامہ ‘، ‘ وجہ دین’، ‘ جامع الحکمتین’، ‘ خوان الاخوان ‘، ‘ شش فضل ‘، ‘ روشنائی نامہ’ اور ‘ دیوان اشعار ‘ معروف اور دستیاب ہیں۔ یہ دیوان گیارہ ہزار سے کچھ زیادہ اشعار پر مشتمل ہے
‘ زاد المسافرین’ میں خالص فلسفیانہ مسائل سے بحث کی گئی ہے۔ یہ کتاب صرف اسماعیلیوں کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ خالص فلسفیانہ انداز میں لکھی گئی ہے جس سے وہ تمام مسلم و غیر مسلم افراد بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو جو علم و دانش اور عقل و خرد کے متلاشی ہیں۔ فرقہ ورانہ وابستگیوں سے بالا تر ہو کر لکھی ہوئی یہ کتاب سنی حلقوں میں بھی مشہور ہے۔ اس کتاب کے لکھنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے حکیم ناصر خسرو خود لکھتے ہیں کہ: ” ہم عقلی براہین اور منطقی دلائل کے ذریعے عقلمندوں کو دکھائیں گے کہ انسان کا آنا کہاں سے ہے اور واپسی کس چیز کے ذریعے ہے، اور باری تعالٰی کی کتاب سے آیات کی مدد سے جو کہ قرآن ہے، ظاہر کریں گے، جس کے ساتھ مخلوق کی جانب رسول خدا کو بھیجا گیا ہے، تاکہ سونے والوں کو اس خواب سے جس میں بہت سے لوگ ڈوبے ہوئے ہیں بیدار کریں” (‘ زاد المسافرین ‘، مترجمہ، ص 3)۔
اس کتاب میں مادہ، زمان، مکان، حرکت، خالق، عقل، نفس، روح اور انسان جیسے مضامین زیر بحث آئے ہیں۔ گویا یہ وہ کتاب ہے جو حکیم ناصر خسرو کو بجا طور پر فارابی اور ابن سینا جیسے مسلمان حکماء و فلاسفہ کے ہم پلہ بنا دیتی ہے۔ جیساکہ اردو کے صاحب طرز ادیب، شاعر اور نقاد شمس العلماء مولوی محمد حسین آزاد لکھتے ہیں کہ "فضیلت اور حکمت و فلسفہ میں ناصر خسرو بو علی سینا اور ابو نصر فارابی کے پہلو نشین تھے۔”
سیدنا حکیم ناصر خسرو خود اپنے ‘ دیوان اشعار ‘ میں اس کتاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
ترجمہ: میری تصنیفات میں سے کتاب ‘ زاد المسافرین’ علوم و معقولات کے لئے اصل اور قانون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر یہ کتاب افلاطون کی قبر پر پڑھیں گے تو افلاطون کی مٹی بھی اس کتاب کی تعریف و توصیف بیان کرے گی۔
کتاب ‘ زاد المسافرین ‘ کا ایک قلمی نسخہ فرانس کے قومی کتب خانہ میں موجود تھا جس کو پروفیسر ڈاکٹر بذ ل الرحمان نے پروفیسر ای۔ جی۔ براؤن کی نظارت میں تصحیح و تحشیہ کے ساتھ مرتب کیا اور شرکت کاویانی، برلن نے 1341ھ / ۱۹۲۲میں شائع کیا اور پھر تہران سے بھی بار دیگر یہ کتاب شائع ہوئی۔
اسماعیلی طریقہ اینڈ ریلیجس ایجوکیشن بورڈ برائے پاکستان، کراچی کے مایہ ناز محقق، مترجم اور اسماعیلی علوم و ادبیات کے ماہر جناب ڈاکٹر عزیز اللہ نجیب صاحب نے بڑی محنت و عرق ریزی اور کمال مہارت سے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ جس طرح مصنف کتاب نے ادق فلسفیانہ مسائل کو سادہ و سہل فارسی اسلوب میں بیان کیا ہے اسی طرح مترجم نے بھی سادہ و شستہ اور آسان اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اس کاوش پر استاد محترم قابل صد ستائش ہیں۔
اس ضخیم کتاب کو، جو 520 صفحات پر مشتمل ہے، جناب محمد فہد صاحب نے اپنے معروف اشاعتی ادارے عکس پبلیکیشنز، لاہور سے شائع کیا ہے۔ ایسی اہم اور ضخیم کتاب کی طباعت و اشاعت کا بیڑا اٹھانے پر فہد صاحب کو ہدیہ تبریک پیش کی جاتی ہے۔ یقیناً، وہ بڑے دل والے شخص ہیں۔
امید ہے کہ قارئین اور علم و ادب کے شائقین پانچویں / گیارہویں صدی، جو کہ اسلامی تاریخ میں عروج و ارتقاء کی صدی تھی، کے اس عظیم مسلمان مفکر اور فلسفی کی حکمت و فلسفے پر لکھی ہوئی اس کتاب سے ضرور استفادہ حاصل کریں گے اور اپنے قلوب و اذہان کو علم و دانش سے بھر دیں گے۔ "این دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد”




