شعر و ادبکالمز

معروف شینا شاعردادا ملنگ کے مزار پر حاضری

گلگت بلتستان کی قدیم اور مٹھاس سے لبریز زبان شینا کے اولین صاحب دیوان اور معروف شاعر، میرے دادا خلیفہ رحمت ملنگ جان کی ذات شینا ادب میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ طویل عرصے بعد اپنے بیٹے وجہہ الدین کے ہمراہ اپنے آبائی گاؤں شیر قلعہ میں واقع ان کے مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی دراصل صرف ایک خاندانی روایت کی ادائیگی نہیں تھی بلکہ شینا زبان، اس کی تہذیب اور اس کے صوفیانہ ورثے سے ایک روحانی تجدیدِ عہد بھی تھی۔

رحمت جان، جنہوں نے شاعری میں ملنگ کا تخلص اختیار کیا، 1885ء میں شیر قلعہ میں پیدا ہوئے اور 1971ء میں اسی سرزمین میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کی شاعری محض لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ ایک فکری، روحانی اور انسانی پیغام کی حامل ہے۔ وہ تصوف اور صوفیانہ نظریات کے علمبردار تھے اور ان کی فکر کا محور عشق، انسانیت اور احترامِ آدمیت تھا۔

ان کی عشقیہ داستان “یورمس گا ملنگ” شینا ادب میں ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ داستان محض ایک محبوب سے وابستگی کا بیان نہیں بلکہ عشقِ حقیقی اور کائناتی حسن کی رمزوں سے لبریز ایک علامتی بیانیہ ہے۔ ملنگ جان کے نزدیک عشق کسی فرد تک محدود نہیں بلکہ قدرت کی وسعتوں سے جڑا ہوا ایک آفاقی تجربہ ہے۔ان کے تین مجموعہ کلام گلزار ملنگ جان، ندائے ملنگ جان اور یورمس ملنگ جان شائع ہوچکے ہیں۔

بدقسمتی سے وقت کے ساتھ کچھ غیر ضروری، لغو اور ہجویہ اشعار ان سے منسوب کیے جاتے رہے، جو نہ صرف ان کی فکری عظمت کے منافی ہیں بلکہ شینا ادب کے ساتھ بھی ناانصافی ہیں۔ ایسی اشعار ان کے حاسدوں کی ذہنی اختراع کہلا سکتے ہیں لیکن ملنگ کی شاعری ہرگز نہیں کہلاسکتے۔ ملنگ بیک وقت عربی ، فارسی ، اردو اور شینا میں مہارت رکھتے اور وہ اپنے زمانے کے پڑھے لکھے شاعر اور عالم تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کی مستند شاعری وہی ہے جو ان کے مجموعہ کلام میں محفوظ ہے۔ بعد ازاں اسی مستند شینا کلام کو میں نے “ملنگ سمترہ” کے عنوان سے اردو ترجمے کے ساتھ 2011ء میں شینا لینگویج اینڈ کلچر پروموشن سوسائٹی کے تعاون سے شائع کرایا۔ اس علمی و ادبی کاوش میں ممتاز ماہرِ لسانیات محترم شکیل احمد شکیل استاد کا کردار نہایت کلیدی رہا۔

ملنگ جان کے کلام میں پاکیزگی، لطافت اور روحانی جمال نمایاں ہے۔ وہ محبوب کو چاند سے زیادہ شفاف اور گلاب سے زیادہ باحیا قرار دیتے ہیں، اور عشق کو بلبل کی نغمگی سے بھی بڑھ کر حسین تصور کرتے ہیں:

پکیزہ ہن تو یونے جو
گلاب شرم تھئے مکھے جو
چینالی مئے جلی جو لائی شیلی بلبل جو

یعنی
تم چاند سے زیادہ پاکیزہ ہو،
گلاب تمہیں دیکھ کر شرماتا ہے،
مجھے تو تم جان سے زیادہ عزیز ہو،
اور تم بلبل سے بھی زیادہ حسین و جمیل ہو۔

ایک اور مشہور شعر میں وہ اپنے تخلیقی کرب اور فکری وابستگی کو یوں بیان کرتے ہیں:

قلم یاین کاغذے ساتھ
خیال بجن یورمسے ساتھ
فلک نچن ملنگ ساتھ
ظلم تھین ہزار رنگے ساتھ

قلم قرطاس پر رواں ہے،
خیال یورمس کے ساتھ محوِ سفر ہے،
فلک بھی ملنگ سے حسد کرتا ہے،
اور ہزار رنگ کے مظالم ڈھاتا ہے۔

جبکہ عشق کی ماہیت پر ان کا یہ شعر ان کی فکری گہرائی کا عکاس ہے:

یورمس نہ عبارت ہن
معنی عشق قدرت ہن

یورمس محض ایک استعارہ ہے،
عشق کا اصل مفہوم تو قدرت کی رعنائی میں پوشیدہ ہے۔

خلیفہ رحمت ملنگ جان کی شاعری کسی ہجو یا لغویت کی محتاج نہیں۔ وہ شاعرِ عشق بھی ہیں اور شاعرِ انسانیت بھی۔ ان کا اصل تعارف وہی ہے جو ان کے مستند کلام میں محفوظ ہے، اور وہی شینا ادب کا اصل سرمایہ ہے۔
میری خواہش ہےکہ زندگی نے مہلت دی تو ملنگ کی شاعری پر تبصرہ اور ان کے مکمل تعارف پر مبنی کالمز کا سریز شروع کیا جائے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button