صحتکالمز

ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کی بندش: زندگی کے دروازے پر قفل

نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے اپیل نہیں، مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں، ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کی بندش کے فیصلے کو فی الفور کالعدم قرار دیکر غریب مریضوں کے علاج معالجے کا سلسلہ جاری رکھنے کے احکامات صادر کریں

گلگت بلتستان میں چیف منسٹر ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کے تحت پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج کی سہولت کی اچانک بندش نے نہ صرف زیرِ علاج مریضوں بلکہ پورے خطے کو اضطراب، خوف اور بے یقینی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، یہ سینکڑوں گھروں کی امیدوں پر وار ہے۔ سوال مگریہ ہے کہ یہ بندش نگران حکومت کی پالیسی ہے یا بیوروکریسی کی کسی فائل میں لکھی گئی بے حس سطر،وجہ جو بھی ہو، نتیجہ ایک ہی ہے،نقصان ہمیشہ کی طرح غریب عوام کا ہی ہو رہا ہے۔

گلگت بلتستان پہلے سے ہی بنیادی آئینی حقوق سے محروم خطہ ہے۔ یہاں کی محرومیاں صرف سیاسی نہیں، یہ سماجی، تعلیمی اور طبی ہر سطح پر گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ صحت، تعلیم اور سماجی ترقی کے میدان میں یہ علاقہ دہائیوں سے نظرانداز ہوتا چلا آیا ہے۔ یہاں کے پہاڑ جتنے بلند ہیں، اتنی ہی گہری محرومیاں بھی ہیں۔ ایسے میں صاحبِ استطاعت لوگ علاج اور تعلیم کے لیے بڑے شہروں کا رخ کر لیتے ہیں، مگر غریب تو اپنے گھروں میں خاموشی سے مر جاتے تھے

یہ المیہ طویل عرصے تک کسی کے ایوانِ اقتدار میں دستک نہ دے سکا۔ بالآخر 2020 میں سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے اس درد کو محسوس کیا اور جاتے جاتے چیف منسٹر ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کے نام سے 50 کروڑ روپے کا ایک انقلابی قدم اٹھایا۔ اس فنڈ کے منافع سے کینسر، دل کے امراض، بون میرو اور گردے کی پیوندکاری جیسے مہنگے علاج ملک کے بڑے ہسپتالوں میں ممکن بنائے گئے۔

محکمہ صحت کے تحت ایک باقاعدہ سیٹ اپ قائم ہوا، عملہ بھرتی ہوا، اور پہلی بار غریب مریض کو یہ یقین ملا کہ بیماری اب موت کا دوسرا نام نہیں رہی۔ یہ فنڈ محض رقم کا ذخیرہ نہیں تھا، یہ ریاست کی طرف سے غریب شہری کو طبی سہولیات کی فراہمی کی ایک ذمہ داری تھی جو کہ مہذب معاشروں میں شہریوں کو پیدائش کے ساتھ ہی یہ حقوق میسر ہوتے ہیں۔

مگر جیسے ہی مسلم لیگ (ن) کا دور ختم ہوا اور تحریک انصاف کی حکومت آئی، اس فنڈ کو وسعت دینے کے بجائے اسے نظرانداز کیا گیا۔اقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں کو غریبوں کی کوئی پرواہ نہ رہی اور یوں اس فنڈ میں کوئی اضافہ نہ ہوا۔نتیجاً ادارہ مالی بحران میں ڈوبنے لگا، ہسپتالوں میں غریبوں کے علاج معالجے کا سلسلہ رک گیا اورہر طرف سے چیخیں اڑنا شروع ہوئیں تو حکومت کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ بالآخر اس وقت کے وزیر خزانہ جاوید منوا کی ذاتی دلچسپی سے 20 کروڑ روپے ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کے لئےمختص کیے گئے، مگر افسوس کہ بعدازاں،اس وقت کے وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے احکامات پر وہ رقم بھی واپس لے لی گئی۔ یوں امید کا چراغ جلنے سے پہلے ہی بجھا دیا گیا، اور ریاست نے ایک بار پھر اپنے کمزور ترین شہری کو تنہا چھوڑ دیا۔

بعدازاں، جب خالد خورشید کی نااہلی کے نتیجے میں ہم خیال گروپ کی حکومت قائم ہوئی تو وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے نہ صرف ہلیتھ انڈوومنٹ فنڈ سے غریبوں کے علاج پر 36کروڑ کا خسارہ پورا کیا بلکہ اس فنڈ میں مزید ایک ارب روپے شامل کیے۔ یہ فیصلہ محض ایک مالی اقدام نہیں تھا، یہ غریب عوام کے زخموں پر مرہم تھا۔ یوں مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب روپے کا انڈوومنٹ فنڈ وجود میں آیا، جس کے ذریعے ملک کے قریب ڈیڑھ درجن بڑے ہسپتالوں میں دو ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج ممکن ہوا۔ آج بھی ساڑھے تین سو کے قریب مریض مختلف ہسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان میں بچے بھی ہیں، نوجوان بھی، اور وہ بزرگ بھی جو عمر بھر محنت کے بعد بس چند سانسیں مزید مانگ رہے ہیں۔

اب عین اسی لمحے، جب کوئی ماں کیموتھراپی کے کمرے میں بیٹھی ہو، جب کوئی باپ دل کے آپریشن کی تاریخ کا منتظر ہو، جب کسی نوجوان کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کی امید نے زندہ رکھا ہو،اسی وقت اگر سرکار کی جانب سے علاج کے اخراجات بند کرنے کا حکم آ جائے تو سوچئے، ان کے سہارے کہاں ٹوٹتے ہوں گے۔ایک نوٹیفکیشن، ایک دستخط، ایک مہراور کسی کی زندگی معلق ہو جاتی ہے۔ سرکاری بابو کے لیے یہ محض ایک فائل ہے، مگر مریض کے لیے یہ زندگی اور موت کے بیچ کھڑی دیوار ہے۔ اس فیصلے کا بوجھ وہی اٹھاتا ہے جس کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں ہوتا۔

ایسے حالات کی شدت وہی جان سکتا ہے جس نے کسی ہسپتال کی راہداریوں میں راتیں گزاری ہوں، جس نے ڈاکٹر کے ایک جملے پر اپنی دنیا لرزتے دیکھی ہو، جس نے دواؤں کی پرچی ہاتھ میں لے کر جیب میں جھانکر آنسوؤں کو یوں نگل لیا ہو کہ مریض کی آنکھوں میں خوف نہ اترنے پائے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان اپنے رب کے بعد صرف ریاست کی طرف دیکھتا ہے۔

اگر انہی لمحوں میں ریاست بھی منہ موڑ لے تو پھر ریاست ہونے کا جواز کیا رہ جاتا ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ ریاست شہریوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہے، مگر یہاں یہ کیسی ماں ہے جو اپنی اولاد کو زندگی اور موت کے بیچ جھولتے دیکھ کر بھی ہاتھ چھڑا لے۔جو بچوں کی سسکیوں، ماؤں کی آہوں اور باپ کی خاموش چیخوں سے نظریں چرا لے۔ ایسی ماں کا تصور بھی روح کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

لہٰذا، نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے اپیل نہیں، مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں، ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ کی بندش کے فیصلے کو فی الفور کالعدم قرار دیکر غریب مریضوں کے علاج معالجے کا سلسلہ جاری رکھنے کے احکامات صادر کریں ۔ یہ وقت فائلوں میں الجھنے کا نہیں، زندگیاں بچانے کا ہے۔

ریاست کا کام امید چھیننا نہیں، زندگی بچانا ہے۔ گلگت بلتستان کے غریبوں سے ان کی آخری امید بھی مت چھینیے۔ اگر اس پہاڑی خطے میں کہیں کوئی چراغ جل رہا ہے تو وہ یہی فنڈ ہے۔ اسے بجھنے نہ دیجئے، کیونکہ جب امید بجھتی ہے تو صرف ایک مریض نہیں مرتا،پورا معاشرہ مرنے لگتا ہے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button