وفاداری یا مفاد؟ ریاست، شمولیت اور سچ کا سوال
ریاستیں نعروں سے نہیں، اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور اعتماد اس وقت جنم لیتا ہے جب سچ بولنے کی گنجائش ہو۔ جہاں سوال کو غداری اور تنقید کو بغاوت سمجھ لیا جائے، وہاں وقتی خاموشی تو ممکن ہے مگر پائیدار استحکام نہیں۔
پاکستان کے محروم خطوں، خصوصاً بلوچستان اور گلگت بلتستان، میں سیاست کا ایک المیہ یہ رہا ہے کہ چند مفاد پرست حلقوں نے خود کو ریاست اور عوام کے درمیان ناگزیر پل بنا کر پیش کیا۔ بلوچستان میں سرداری سیاست کی ایک طویل روایت ہے۔ کچھ بااثر سردار اور سیاسی گروہ ریاست کے سامنے خود کو “ضامنِ امن” اور عوام کے سامنے “واحد نمائندہ” ثابت کرتے رہے۔ یوں طاقت چند ہاتھوں میں سمٹتی گئی اور عام آدمی کی آواز پس منظر میں چلی گئی۔
مسئلہ سردار یا رہنما کی موجودگی نہیں؛ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب محرومی کو حل کرنے کے بجائے اسے زندہ رکھا جائے تاکہ سیاسی ضرورت برقرار رہے۔ جب تعلیم، صحت، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے بنیادی مسائل کو مستقل حل کی طرف لے جانے کے بجائے وقتی نعروں میں الجھایا جائے، تو یہ وفاداری نہیں بلکہ مفاد پرستی ہوتی ہے۔
بلوچستان کے تجربے نے یہ دکھایا کہ بعض اوقات مقامی محرومیوں کو یا تو مکمل نظر انداز کیا گیا یا انہیں ریاست مخالف بیانیے میں ڈھال دیا گیا۔ دوسری طرف کچھ مفاد پرست عناصر نے ریاست کو مکمل تصویر دکھانے کے بجائے ادھورا منظر پیش کیا تاکہ وہ خود ناگزیر رہیں۔ یہ طرزِ عمل دراصل ریاست کو اندھیرے میں رکھ کر اپنا فائدہ حاصل کرنا ہےاور یہ کسی بھی زاویے سے وفاداری نہیں۔
یہی سوال آج گلگت بلتستان کے تناظر میں اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ گلگت بلتستان آئینی و بنیادی سیاسی حقوق کے باب میں ایک مخصوص نوعیت کی محرومی کا سامنا کرتا رہا ہے۔ یہاں کی عوام طویل عرصے سے مکمل آئینی شناخت، بااختیار قانون سازی اور قومی دھارے میں واضح و بامعنی شمولیت کی بات کرتی آئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس خطے میں عمومی طور پر علیحدگی نہیں بلکہ شمولیت کا مطالبہ کیا گیا ہے، مرکزی دھارے کا حصہ بننے کی خواہش، آئینی تحفظ اور مساوی حقوق کی تمنا۔ یہاں کی محرومی کو یہاں کا ہر پڑھا لکھا اور باشعور فرد سمجھتا اور اس پر اظہار خیال کرتا ہے۔ اس اظہار خیال یا سیاسی سوچ کو غداری سے تشبہہ دینا دراصل حقائق سے منہ چھپانا ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاسی حیثیت کی بحث کسی بغض یا عناد پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک علمی، آئینی اور پُرامن حقوق کی گفتگو ہے۔ اسے دیوار سے لگانا، مشکوک بنانا یا اسے “مسئلہ” قرار دینا دانشمندی نہیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ اسے سنا جائے، سمجھا جائے اور پالیسی سازی میں جگہ دی جائے۔ جب عوام شمولیت کی بات کریں اور جواب میں انہیں خاموشی یا بدگمانی ملے تو فاصلے بڑھتے ہیں۔ لیکن جب انہی مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جائے تو اعتماد کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی رہا ہے کہ بعض مفاد پرست حلقے اس جائز اور پُرامن حقوق کی تحریک کو یا تو دبانے کی کوشش کرتے ہیں یا اسے بطور سیڑھی استعمال کرتے ہیں۔ کبھی اس مطالبے کو گالی بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اصل بحث دب جائے، اور کبھی اسی بیانیے کو ذاتی سیاسی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چند افراد آگے آ جاتے ہیں، مراعات پا لیتے ہیں، مگر اجتماعی مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ یوں عوام کی جائز خواہشات سیاست کی منڈی میں سودا بن جاتی ہیں۔
حقیقی وفادار کون ہے؟ وہ جو ہر فیصلے پر سر ہلا دے، یا وہ جو غلطی کی نشاندہی کرے؟ ریاست کا سچا خیر خواہ وہ ہے جو کمزوریوں کی نشان دہی کرے تاکہ اصلاح ممکن ہو۔ اگر آئینی ابہام ہے تو اسے واضح کرنے کی بات کرنا دشمنی نہیں؛ اگر سیاسی اختیارات محدود ہیں تو ان کی توسیع کا مطالبہ بغاوت نہیں؛ اگر وسائل کی تقسیم پر سوال اٹھتا ہے تو یہ ریاست سے لاتعلقی نہیں بلکہ ریاست کے اندر بہتر مقام کی خواہش ہے۔
مفاد پرست ٹولہ ریاست کا وفادار نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی وفاداری اصول سے نہیں بلکہ اپنے مفاد سے ہوتی ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ مسائل مکمل طور پر حل ہوں، کیونکہ مسئلے ہی اس کی سیاست کا ایندھن ہوتے ہیں۔ اگر محرومیاں کم ہو جائیں، اگر براہِ راست مکالمہ قائم ہو جائے، اگر شفافیت بڑھ جائےتو اس کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے وہ یا تو مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے یا انہیں حل ہونے نہیں دیتا۔
ریاست کی مضبوطی اس میں نہیں کہ اسے تنقید سے پاک کر دیا جائے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ تنقید کو سننے اور اس سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ جو عناصر ریاست کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، یا ہر اختلاف ریاست دشمنی ہے، وہ دراصل اس کی جڑیں کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اندھیرے میں رکھا گیا نظام دیر تک مستحکم نہیں رہتا۔
دانشمندی اسی میں ہے کہ ریاست براہِ راست عوام پر اعتماد کرے۔ گلگت بلتستان میں آئینی اور سیاسی شمولیت کی آواز کو جگہ دی جائے، اسے عزت دی جائے، اور اسے عملی شکل دینے کے راستے تلاش کیے جائیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی محرومی کو طاقت کا ذریعہ بنانے کے بجائے انصاف اور شراکت کو بنیاد بنایا جائے۔
ریاست کو اندھیرے میں رکھ کر وقتی فائدہ اٹھانا دراصل اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ لیکن غلطیوں کی نشاندہی کر کے، اصلاح کا راستہ دکھا کر، اور عوام کو حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار بنا کر جو سیاست کی جائےوہی اصل وفاداری ہے۔ اور یہی راستہ ریاست کو مضبوط، باوقار اور دیرپا کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔






