ہائرایجوکیشن کمیشن کا انجینئرنگ فیکلٹی منصوبہ ختم کرنے کا عندیہ

اسلام آباد ( پ ر) ہائیرایجوکیشن کمیشن نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کوانجینئرنگ فیکلٹی عمارت پر دو ہفتوں کے اندر کام شروع کرانے کی مہلت دی ہے۔ مقررہ مدت کے اندر کام شروع نہ ہونے کی صورت میں انجینئرنگ فیکلٹی کا منصوبہ ختم کردیا جائیگا۔

ہائرایجوکیشن کمیشن کے پلاننگ اینڈ ڈیولمپنٹ ڈویژن نے KIUانتظامیہ کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 80کروڑ روپے لاگت کا یہ منصوبہ منظورہوئے 3سال سے زائد عرصہ گزرچکا ہے اور تاحال یونیورسٹی مختص اراضی پر تنازعہ کے باعث کام شروع نہ کراسکی ہے ۔ اب مزید اس منصوبے کے اجراء میں توسیع ممکن نہیں۔ لہذا یونیورسٹی انتظامیہ فی الفور دو ہفتوں کے اندر اس منصوبے پر کام شروع کرائے ، بصورت دیگر منصوبے کیلئے مختص فنڈ واپس لئے جائیں گے۔

ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے واضح وارننگ ملنے کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے پلاننگ اینڈ ڈیولمپنٹ کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے اور قوی امکان ہے کہ یہ منصوبہ کسی دوسرے ضلع میں منتقل کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان کروڑوں روپے لاگت کے اس عظیم تعلیمی منصوبے سے محروم نہ ہو۔ اس منصوبے کیلئے چھلمس داس میں مختص اراضی کا مسئلہ حل ہونے میں مسلسل تاخیر اس منصوبے کی ناکامی کا باعث بن گیا ہے۔ لہذا مزید چھلمس داس کے تنازعہ میں پڑنے کے بجائے اس منصوبے کو ضلع دیامر ، ضلع غذر یا ضلع سکرد و منتقل کیا جاسکتاہے۔ ان اضلاع کے عوام کی جانب سے اس منصوبے کیلئے بلا عوض اراضی فراہم کرنے کی پہلے ہی پیشکش دے چکے ہیں۔

ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے حتمی وارننگ ملنے کے بعد وائس چانسلر نے بھی یہ منصوبہ کسی دوسرے اضلاع میں منتقل کرنے کا عندیہ دیاہے تاہم اس کی منتقلی کے حتمی فیصلے کیلئے پلاننگ اینڈ ڈیولمپنٹ کمیٹی سے منظوری لی جائیگی۔

واضح رہے کہ 80کروڑ روپے کی لاگت سے انجینئرنگ فیکلٹی کی منظوری مارچ 2015میں ہوئی ہے۔ اس وقت سے تاحال چھلمس داس کے مقام پر KIUکے نام پر الاٹ شدہ 1692کنال اراضی پر یونیورسٹی کو قبضہ نہیں دیا جارہا۔ اس تنازعے کے حل کیلئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے ہر سطح پر کوششیں کی۔ مفاہمتی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ عمائدین اور عوامی سطح پر خود ملاقاتیں کی۔ صوبائی حکومت کے علاوہ صدر پاکستان تک اس مسئلے کے حل کی اپیلیں کی گئیں۔ لیکن تاحال مسئلے کا حل نہ نکلنے کے باعث یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کے امکانات واضح ہوگئے ہیں۔ تاہم وائس چانسلر کی اب بھی کوشش ہے کہ اس منصوبے کو ختم ہونے سے گلگت کے بجائے کسی دوسرے اضلاع میں منتقل کیا جائے ، جہاں آسانی سے اراضی دستیاب ہو۔ اس کا فیصلہ بہت جلد ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments