انجمن امامیہ کا یکم مارچ کے “قتلِ عام” میں ملوث ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
گلگت (خصوصی رپورٹ) امامیہ جامع مسجد میں مرکزی انجمن امامیہ گلگت، انجمن امامیہ بلتستان، انجمن امامیہ استور اور ہیئتِ آئمہ جمعہ و جماعت گلگت کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سید راحت حسین الحسینی نے کی۔ اجلاس میں تینوں ڈویژنز کے صدور، کابینہ اراکین اور علمائے کرام نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یکم مارچ 2026 کو گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آنے والے واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے میں ان واقعات کو دلخراش سانحہ اور “نہتے نوجوانوں کا قتلِ عام” قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طاقت کا بے جا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد کمسن نوجوان جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ عوامی ردعمل کے پیش نظر مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے اور بعد ازاں صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے براہِ راست فائرنگ کی گئی۔ شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدامات انتظامی غفلت کو چھپانے کی کوشش تھے۔
اجلاس میں بعض اعلیٰ سطحی بیانات، ممکنہ فوجی عدالتوں کے قیام اور اضافی فورسز کی تعیناتی پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق، ایسے اقدامات خطے میں مزید بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دے سکتے ہیں۔
تنظیم نے سرکاری و فوجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم واضح کیا کہ انسانی جانوں کا نقصان سب سے زیادہ اہم ہے اور اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے اختتام پر مشترکہ چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا، جس میں اہم مطالبات یہ ہیں:
- یکم مارچ کے واقعات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کو مکمل خودمختاری دی جائے
- تحقیقات مکمل ہونے تک گرفتاریوں کا سلسلہ روکا جائے
- جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ، زخمیوں کو مالی امداد اور متاثرہ خاندانوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں
- فوجی عدالتوں کے قیام سے گریز کیا جائے
- اضافی فورسز کی تعیناتی واپس لی جائے
- متاثرہ خاندانوں سے معافی اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے
اجلاس میں مختلف مکاتبِ فکر، سیاسی و سماجی حلقوں اور عوام کی جانب سے اظہارِ تعزیت پر شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ ملک میں اتحادِ امت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔





