گلگت بلتستان لینگویج اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، ماہرین کا مطالبہ

گلگت:  گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں کے تحفظ ، ترویج اور پالیسی سازی کے لیے’’ گلگت بلتستان لینگویج اتھارٹی ( GBLA) ‘‘اور’’ شینا اکیڈمی ‘‘کا قیام عمل میں لایا جائے ،قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی میں شنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور مقامی زبانوں کے لئے عملی اور تحقیقی کام کا آغاز کیا جائے، شینا زبان اور بلتی زبان سمیت ملک کے آٹھ زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے بل کو نافذالعمل کیا جائے اور گلگت بلتستان میں پرائمری سطح تک تعلیم مادری زبان میں دینے کے لئے نصاب مرتب کیا جائے اور اس کے لئے گلگت بلتستان حکومت باقاعدہ عملی اقدامات اٹھا ئے ۔ ان خیالات کا اظہار شینا لینگویج اینڈ کلچر پروموشن سوسا ئٹی گلگت کے عہدیداروں شکیل احمد شکیل ، عبدالحفیظ شاکر ، غلام عباس نسیم ، اشتیاق احمد یاد ، سلمان علی ،طفیل عباس ، امیر حیدر ، محمد جمیل ، عبدا لصبور، فوزیہ منصور اور عاصم بشیر نے ’’ مادری زبان کے عالمی دن ‘‘ (21فروری ) کی مناسبت سے منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکار کنونشن گولز (1995) میں مادری زبان میں کوالٹی ایجوکیشن تک تمام بچوں کی پہنچ کو 2015تک یقینی بنانے کی آرزو مادری زبان کے عالمی دن کی روح قرار دیں تو اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے کہ مادری زبان ایک بچے کی ذہنی اور فکری ترقی میں کیا مقام رکھتی ہے۔انہوں نے آخر میں گلگت بلتستان کی حکومت ، سیاسی پارٹیوں ، این جی اوز ، سول سوسائٹی ، یو این ایجنسیز اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس حوالہ سے اپنا بھر پور کرادر ادا کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments