چترال میں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ کس کو ملنا مناسب ہے؟

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شمس الحق قمرؔ بونی (چترال)

پیپلز پارٹی چترال جیسے دور افتادہ علاقے میں سن 70 کی دہائی سے چترالی عوام کے دلوں میں دل کی دھڑکن کی مانند زندہ ہے ۔ مجھے 1970 سے لیکر 1978 کی غربت یاد ہے ۔ چترال کی زمیں بانجھ تھی اس زمین کے اندر فصل اُگانے کی صلاحیت نہیں تھی غربت کا یہ عالم کہ شفتل کی فصل اُ گ آتی تو غربت کے شکنجے میں دم توڑتے باسیوں کی جان میں جان آتی ۔ لوگ ایک ایک نوالے کا محتاج تھے ۔امیر گھرانوں میں شفتل کی ساگ میں مٹھی بھر آٹا ملا کے اسکی لذت کو چکھانے کے لیئے ضیافتوں کا اہتمام ہوتا تھا جسے مقامی زبان میں ’’ خنجو دیرو شخ‘‘ کہتے تھے اور جن گھروں میں توت کے سوکھے ہوئے دانے میسر آتے بچے ماہی بے آب کی طرح اُن گھروں کا رخ کرتے تھے ۔

ایسے میں بھٹو صاحت چترال تشریف لے آئے اور اپنی قوم کی یہ ناگفتہ بہہ صورت حال دیکھ کر اپنے تن، من اوردھن کی بازی لگائی اور ہوائی جہاز کے ذریعے چترال کے مختلف علاقوں میں اناج پہنچا دیا تاکہ عوام بھوکوں نہ مرے ۔ انسان تو انسان ہے محسن چترالِ ذولفقار علی بھٹو نے ہمارے حیوانوں تک کی زندگی کا خیال رکھا بروغل جیسے دور افتادہ علاقے تک بھس پہنچانا آپ کی عظیم خدمات کی دلیل ہے ۔ آپ کی خدمات کو مثال بنا کر اور بھٹو صاحب کا اسم گرامی لیکر گزشتہ کئی ایک عشروں سے ہمارے اپنے لوگ الیکشن لڑتے رہے اور کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ نمائندوں نے کام بھی کیا لیکن اکثر سیاستدانبھٹو کے نام کی بھیک سے اپنی جولیاں بھرتے رہے اورچترال ترقی کے میدان میں 1978 تک پہنچ کے رکاوٹوں سے ٹکراتا رہا اور تا حال مسلسل ٹکراو کے نتیجے میں شکستہ صورت میں سب کے سامنے رحم کی اپیل بن کے موجود ہے ۔

اس خطے میں کونسے ترقی کے کام ہوئے ؟ ترقیاتی کاموں میں بونی سے چترال تک پکی سڑک اور لواری ٹینل قابل ذکر کام ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دو منصوبوں کو چترالی قوم کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے یا پھر ہمارے کسی رہنما نے اس سلسلے میں خدمات سرانجام دی ہیں؟ ہماری قوم کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ لواری ٹنل ہمارے لئے تیار نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے پیچھے بہت بڑا مقصد پوشیدہ ہے اگر چترال چین اور پاکستان کو ملانے کے راستے میں حائل نہ ہوتا تو کیا ہمارے کسی نمائندے کی بس کی بات تھی کہ یہ منصوبہ لاتا ؟ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر گلگت چین اور پاکستان کو ملانے والی سرحد پر واقعنہیں ہوتا تو غالبا قراقرام ہائے وے جیسی شاہراہ بھی اس علاقے سے نہیں گزرتی۔ یہ وہ اہم نکتہہے جس پر گہری سوچ کی ضررورت ہے ۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لوارری ٹنل بھٹو یا پھر پرویز مشرف کی مرہون منت ہے ، لیکن یہ درست نہیں ہے۔ بھٹو صاحب کی بلاشبہ خدمات ہیں لیکن اس معاملے میں نہیں ۔

اب دوبارہ الیکشن کا زمانہ آگیا چترالی قوم کو بہت سوں کو آزمانے کے اور قریب سے آزمانے کے مواقع ملتے رہے ۔گزشتہ پانچ سالوں میں کیا ہوا کیا نہیں ہوا وہ عوام کے سامنے ہے ۔میں بالائی چترال میں بونی شندور روڈ کی مثال دینا مناسب سمجھتا ہوں ۔ آپ سب نے دیکھا کہ یہ اہم روڈ کس خستہ حالت میں پڑی ہوئی ہے بونی سے لیکر بروغیل اور شندور تک کے عوام کو ناکردہ گناہوں کی شدید سزا اس روڈ کی شکل میں مل رہی ہے ۔سیاسی بھیڑئے سادہ لوح عوام کا خون چوستے رہے ، اپنی جیبیں بھر نے کے بعد اقربأ کا خیال رکھتے رہے ۔اپنے کاروبار چمکائے ، مختلف شہروں میں پلاٹ لئے ، اپنے جاننے والوں کو ٹھیکے دئے ۔ اگر ووٹ دینے کا سوال ہے تو اُن لوگوں کا بھی ایک ہی ووٹ تھا جو آج عوام کا خون چوس کر خود شیش محلوں میں رہ رہے ہیں ۔اب وقت آیا ہے ہے عوام سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون بھٹو کے طرز پر حکومت کی بھاگ دور سنبھال سکتا ہے ؟ اکثر لوگوں کی نظر میں دو شخصیات ہیں جو کہ قوم کو سہارا دیسکتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ صوبائی اسمبلی کے لئے ٹکٹ لینے پر اپنی سوچ مرکوز کریں۔ فیس بک کے ایک عام سروے کے مطابق بالائی چترال سے سید سردار حسین مقبول سیاسی شخصیت ہے ۔یہ وہ شخصیت ہے جو اپنے بال بچوں اور خاندان سے پہلے دوسروں کا خیال رکھتا ہے ۔اس کی مثال بالائی چترال میں پیش آنے والے مسائل اور ان کی تدارک کے سلسلے میں آن جناب کی بھر پو ر کوشیشیں سب کے لئے عیاں ہیں۔ علاقے میں روڈ کا مسلہ ہو یا بجلی کا ، پانی کا ہو یا صحت کا ، تعلیم کا ہو یا معاشرت کا ہر مسلے میں پیش پیش رہا ہے بہادر اور خوش گفتار اتنا کہ اپنی ذہانت اور زبان سے سب کو زیر کرے ۔ اور یہ وہ خصوصیات ہیں کہ جن سے ایک فرد پوری دنیا پر حکومت کر سکتا ہے ۔ جبکہ نشیبی چترال میں سرتاج کا وہی وزن ہے جو بلائی چترال میں سردار حسین کا ہے ۔چترالی عوام کے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے ان د نوجوانوں کو مل کر عوام کی خد مت کا موقع دیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author