دویئکر (التت)، وادی ہنزہ کا مشہور سیاحتی مقام

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: مولا مدد قیزل

ہنزہ یوں تو قدرتی حسن کا ایک حسین شاہکار امتزاج ہے لیکن اس وادی حیرت میں دویئکر التت وادی کی خوبصورتی  یکتا اور قابل دید ہے ۔۔۔۔۔ جب بھی آپ دویئکر التت پر وارد ہوتے ہیں تو اس حسین و دلنشین مقام سے چاروں  اطرات دیکھتے ہی اسکی  سحر انگیز قدرتی جمال آپ کو اپنے کمال  جمیل میں لپیٹ لیتی ہیں۔ یہ وادی نگاہ آفتاب میں سحر انگیز اور اور نگاہ مہتاب میں رومانوی اور مسحور کن ہے۔  جب کوئی سیاح  اپنی عقابی نظریں نیچےپھیلی ہوئی وادی ہنزہ و نگر پر جماتا ہے تو ساری وادی گل پوش اور پہاڈ برف پوش نظر آتی ہے۔1

 جب نیلے پانی کی چادر دھیرے دھیرے بہتی رات میں گم ہونے لگتی ہے تو سورج اپنی سنہری چادر ملکہ۔ راکاپوشی  اوردوسرے برف پوش پہاڈوں  پر اوڑھ دیتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسا  کہ سونا پگھل پگھل کر راکاپوشی سے ٹپکنے لگا ہو اور پھر سارا آسمان رنگوں سے بھر جاتا ہے  رات کی خاموشی اور تاریکی میں جب پورا چاند اپنی سونے جیسی زرد کرنیں بکھیرتا ہے تو  شرماتی ہنستی چاندی کا دودھیا بدن درخت کی شاخوں میں مچلنے لگتا ہے گویا پورے ماحول پر ایک جادو سا چھا جاتا ہے جو رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے

اس بلند و بالا اور دلکش حسین منظر دویکر میں ایک ہوٹل Eagle Nest بھی ہے جہاں سیاح آرام کرتے ہیں۔  صبح سویرے شمسی توانائی لینے طلوع آفتاب سے پہلے اٹھ کر انتظار کرتے ہیں کہ کب  آفتاب اپنی نور کی کرنوں سے انکی جسد کو چھو لے گی تاکہ انہیں وہ تواناکرے۔ جیسے ہی سیاح شمسی توانائی سے حرارت لے کر اپنی اردگرد نظریں گھماتے ہیں تو شبنم سے شرابور  گھاس اور ٹہنیوں پر پھول اسطرح کھلکھلانے لگتے ہیں جیسے نہا دھو کر ننھے ننھے بچےاپنی ماں کی انگلی پکڑے اسکول جاتے ہوں۔2

جب سیاح شمسی توانائی سے اپنی بدن کے ہر خلیے کو تروتاذہ کرتا ہے تو وہ اپنی پوری جسم میں، سوچ،خیال اور احساسات کو سورج کی کرنوں کی طرح پاکیزہ پاتا ہے  اور اگر  سچ کہوں  تو انسان نور میں اس قدر گداختہ ہوجاتا ہے کہ وہ سر تا پا نور بن جاتا ہے  گویا وہ نور سے نہا کر نور بن  جاتا ہے ۔

ایسے میں سیاح خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھنے لگتا ہےیہ احساسات، یہ صبح کی ٹھنڈی ہوایئں ،چائے کی کتیلی سے نکلتا مہک، دیسی پراٹھے شیشر ، دیسی گھی اور  شہد، وادی ہنزہ نگر کے چھپے چھپے میں اترتی دھوپ کی کرنوں کا رقص،سر سبز گھاس اور ہاتھوں میں درانتی لیے کسان اس منطر کو اور حسین بنا دیتے ہیں اور جب ننگے پاؤں  اپنی قدم  اس سرسبز قدرتی قالین پر رکھتے ہیں تو ٹھندی گھاس گدگدنے لگتی ہیں جو چہرے پر ایک مسکان لے آتی ہے، دنیا کے مسائل و الام کے ستائیں ہوئے لوگ، جبر و ظلم، کرب و غم سے جھلسے  لوگ یہاں آکر پھول کی طرح کھل اٹھتے ہیں۔3

چلیں پھر سے اس وادی حیرت میں جہاں سکھ ہی سکھ ہے، شہری زندگی جہاں بدبو دار پانی سے بھرے گلیاں، دیواروں پر پان کی پچکاریاں، ہر طرف گرد و غبار، بتھہ خوریاں،  دھمکیاں، جھڑکیاں، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سب نے انسان کو انسان نما حیوان بنا دیا ہے۔ ۔ چلیں ہنزہ کی اس بلند جنت نظیر دویکر کی طرف جہاں فطرت کا راج ہے ۔ حسن کا راج ہے،خوشبوؤں کا راج ہے، مہکتی ہواﺅں کا راج ہے،

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments