نواز خان ناجی کا اعلان انتخاب :اعتراف بے بسی یا نئی حکمت عملی

گلگت بلتستان کی سیاست میں نواز خان ناجی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ حالیہ دنوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد عوامی اجتماع سے ان کا خطاب جہاں ان کے سیاسی عزم کا عکاس ہے، وہی کئی ایسے سوالات کو بھی جنم دیتا ہے جن کا جواب حلقے کے عوام تیرہ سالہ کارکردگی کی روشنی میں تلاش کر رہے ہیں۔
نواز خان ناجی صاحب نے اپنے خطاب میں نظام، اداروں اور بالخصوص پی ڈبلیو ڈی (PWD) میں کرپشن اور ٹھیکیداروں کے اثر و رسوخ کا رونا رویا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ "جو کام میں نہیں کر سکا، وہ کوئی اور بھی نہیں کر سکتا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلسل تین ادوار تک ایوان کا حصہ رہنے والا نمائندہ اگر آج بھی خود کو اتنا ہی بے بس محسوس کرتا ہے جتنا ایک عام شہری، تو پھر اس نمائندگی کا حاصل کیا رہا؟
اگر محکموں میں ٹھیکیدار ہی سربراہ بنے بیٹھے تھے اور سرکاری انجینئرز کرپشن کی دیواریں کھڑی کر رہے تھے، تو ناجی صاحب نے ان تیرہ سالوں میں اسمبلی کی دہلیز پر کتنے احتجاج کیے؟ انہوں نے ان اداروں کے خلاف عوام کو اسی وقت سڑکوں پر کیوں نہیں نکالا جب ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نذر ہو رہے تھے؟ آج "ڈنڈا فورس” کی بات کرنا سیاسی نعرہ تو ہو سکتا ہے، لیکن ایک قانون ساز کے طور پر یہ ان کی اپنی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ناجی صاحب کا کہنا ہے کہ علاقہ کھنڈر بنا ہوا ہے۔۔۔ اس "کھنڈر” میں بھی کچھ حصے ایسے ہیں جہاں نوازشات کی بارش ہوتی رہی جبکہ دور افتادہ علاقے آج بھی بنیادی سہولیات کو ترستے ہیں۔ ترقیاتی کاموں میں مخصوص علاقوں کو ترجیح دینا اور سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم وہ داغ ہے جسے محض "اسٹبلشمنٹ، حکومت اور ریاست کی غلطی” کہہ کر دھویا نہیں جا سکتا۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ان تیرہ سالوں میں مساوی ترقی کا خواب صرف تقریروں تک محدود تھا؟

جہاں تنقید لازم ہے، وہاں ناجی صاحب کی شفافیت کی تعریف نہ کرنا بھی ناانصافی ہوگی۔ سیاست کے اس دور میں جہاں لوگ ایوان میں جا کر کروڑ پتی بن جاتے ہیں، نواز خان ناجی کا یہ دعویٰ کہ ان کے اثاثے 2023 کے مقابلے میں 2024 میں مزید کم ہوئے ہیں، ان کی ذاتی دیانتداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ بات انہیں روایتی سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے کہ انہوں نے سیاست کو مال بنانے کا ذریعہ نہیں بنایا۔

متعلقہ

اور دوسری جانب نواز خان ناجی کے خطاب کا سب سے روشن پہلو وہ ہدایت ہے جو انہوں نے اپنے کارکنوں کو دی کہ "انتخابات کے دوران کسی کی ذاتیات پر حملہ نہ کریں اور دشمنیاں مول نہ لیں۔ یہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی نشانی ہے جو جانتا ہے کہ الیکشن ایک مہینے کا ہے جبکہ سماجی رشتے نسلوں کے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ فیملیز کو ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں سیاسی کلچر میں رواداری کو فروغ دینے کی ایک بہترین کوشش ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
نواز خان ناجی نے ایک بار پھر میدان عمل میں کودنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بار ان کا مقابلہ کسی امیدوار سے نہیں بلکہ بقول ان کے "سسٹم” سے ہے۔ لیکن انہیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ عوام اب صرف "شعور بیدار کرنے” کے دعووں پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک "بے بس ممبر” نہیں بلکہ نظام کو بدلنے کی سکت رکھنے والے ایک حقیقی لیڈر ہیں۔
ناجی صاحب کو اب یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اگلے پانچ سال بھی اداروں کو گالیاں دے کر گزاریں گے یا واقعی اس "سوئٹزرلینڈ” کی بنیاد رکھیں گے جس کا خواب وہ برسوں سے دکھاتے آئے ہیں۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button