نئی دکان  پرانا سودا ۔۔۔

ایس ایم مرموی 

گلگت بلتستان میں 2026 کے الیکشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے مگر یہ بازگشت کچھ ایسی ہے جیسے کسی بند کمرے میں تالی بجائی جائے آواز تو آتی ہے مگر گونج کہیں نہیں جاتی یہ الیکشن بظاہر جمہوریت کا جشن لگتے ہیں مگر اندر سے یہ ایک خاموش بیعت کا عمل محسوس ہوتے ہیں جہاں ووٹ کم اور وفاداریاں زیادہ گنی جاتی ہیں یہ خطہ، جسے قدرت نے حسن دیا، وسائل دیے اور ایک الگ شناخت دی وہی خطہ سیاسی شناخت کے بحران کا شکار ہے یہاں نمائندے منتخب کم اور مقرر زیادہ دکھائی دیتے ہیں یہ لوگ عوام کے ترجمان ہونے کے بجائے اکثر طاقت کے ایوانوں کی بازگشت بن جاتے ہیں ان کی زبان سے وہی نکلتا ہے جو کہیں اور طے ہوتا ہے اور ان کے فیصلے وہی ہوتے ہیں جن کی منظوری کہیں اور سے آتی ہے یہ سیاست کم اور نفسیات زیادہ ہے یہاں ووٹر کا ہاتھ بٹن دباتا ہے مگر اس کا ذہن نعروں کے سحر میں قید ہوتا ہے جئے بھٹو شیر آیا تبدیلی آئ نہیں آگئی ہے جیسے نعرے جذبات کو گرما دیتے ہیں مگر عقل کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں عوام ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہے وہ جانتی بھی ہے اور مانتی بھی نہیں

یہ 78 سالہ کہانی صرف محرومی کی نہیں بلکہ عادت کی بھی ہے غلامی جب روایت بن جائے تو زنجیریں زیور لگنے لگتی ہیں اور جب قوم سوال کرنا چھوڑ دے تو جواب دینے والے خود بخود غائب ہو جاتے ہیں گلگت بلتستان کے الیکشن دراصل ایک آئینہ ہیں ایسا آئینہ جس میں عوام اپنی تصویر کم اور اپنی خاموشی زیادہ دیکھتی ہے یہ خاموشی خطرناک ہے کیونکہ یہی خاموشی حقوق کے جنازے کو کندھا دیتی ہے اور آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں سوالوں کے بجائے صرف حسرتیں تھما دیتی ہے مگر سوال یہ ہے کیا یہ کہانی ہمیشہ ایسی ہی رہے گی یا کبھی کوئی آواز اس خاموشی کو توڑ کر کہے گی کہ یہ انتخاب نہیں، ہمارا حق ہے سیاست کا کھیل تب بدلتا ہے جب تماشائی اسٹیج پر آ جائیں گلگت بلتستان کی تقدیر بھی اسی دن بدلے گی جب عوام نعروں سے نکل کر شعور کی طرف قدم بڑھائے گی ورنہ یہ الیکشن یہ شور یہ وعدے سب ایک ہی کہانی کے نئے باب رہیں گے۔

گلگت بلتستان کی سیاست اب کسی سنجیدہ مکالمے سے زیادہ ایک دلچسپ مگر تلخ روایت بن چکی ہے ہر الیکشن سے پہلے ایک نئی جماعت کا ظہور ہوتا ہےجیسے کسی پرانے بازار میں نئی دکان کھل جائے مگر اندر رکھا سامان وہی پرانا باسی اور آزمودہ ہو نام بدلتے ہیں جھنڈے بدلتے ہیں مگر مزاج نہیں بدلتا یہاں اقتدار کا راستہ عوامی شعور سے کم اور قبولِ خدمت سے زیادہ جڑا دکھائی دیتا ہے جیسے شادی میں دلوں کا قبول قبول کہنا ایک ایسا نظام جہاں قابلیت سے زیادہ قربت اہم ہو جائے وہاں پھر ایسے کردار بھی ابھرتے ہیں جو عوام کی نمائندگی سے زیادہ احکامات کی ترسیل کا ذریعہ بن جاتے ہیں نتیجہ یہ کہ اقتدار کی کرسی خدمت کا نہیں وفاداری کا انعام لگنے لگتی ہے یہ سیاست نہیں بلکہ ایک اسکرپٹڈ ڈرامہ ہے جس میں ہر کردار کو اپنا مکالمہ یاد ہوتا ہے مگر کہانی کا مرکزی کردار  کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے کبھی کوئی نیا چہرہ سامنے آتا ہے جسے استکام  کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی پرانے چہروں کو نئے لبادے پہنا دیے جاتے ہیں عوام تالیاں بجاتی ہے مگر اسٹیج کے پیچھے کیا ہورہا ہے اس سے اکثر بے خبر رہتی ہے۔ میرا اشارہ جس طرزِ حکمرانی کی طرف ہے وہ دراصل ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے سیاسی کمزوری اور ادارہ جاتی عدم توازن جب فیصلے مقامی ضرورت کے بجائے بیرونی ترجیحات کے تابع ہوں تو ترقیاتی منصوبے فائلوں میں رہ جاتے ہیں اور عوامی مسائل سڑکوں پر۔ ایسے میں بیرونی دورے خبر تو بن جاتے ہیں مگر اندرونی مسائل خاموش رہتے ہیں میری بات سمجھ گئے ہونگے گلبر جیسے ناہل کی بات کر رہا ہوں اس نا سمجھ بندے وفاق کی جی حضوری میں اٹھائے سال ضائع کئے  انکی جی حضوری کا ا نعام باہر ملک کی ٹرپ کی شکل میں اختتام پذیر ہوا

یہاں کی سیاست سمجھ سے باہر ہے چار سال کوئ ترقیاتی کام نہیں ہوتا آخری سال ہر کوئ فائلیں لیکر میدان سجانے کی کوشش کرتا ہے یہ پل یہ سڑک کا منصوبہ جو تعطل کا شکار تھا انشاءاللہ ہم بنائیں گے ان سے یہ کوئ نہیں پوچھتا یہ کام پچھلے چار سال میں کیوں نہیں ہوا گلگت بلتستان کی سیاست ایک عجیب تماشہ بن چکی ہے جہاں منصوبے عوام کے لیے نہیں بلکہ الیکشن کے لیے بنتے ہیں آج پھر وہی پرانے منصوبے قبروں سے نکال کر زندہ کیے جا رہے ہیں وہی فائلیں وہی نقشے وہی دعوے بس چہرے نئے ہیں اور دعوے کرنے والوں کی آواز میں تھوڑی زیادہ بے شرمی شامل ہو گئی ہے یہ سوال سیدھا ہے مگر جواب ان کے پاس نہیں جب اختیار تھا تب یہ منصوبے مکمل کیوں نہ ہوئےجب اقتدار ہاتھ میں تھا تب عوام کیوں یاد نہ آئی اور اب جب الیکشن سر پر کھڑا ہے تو اچانک یہ عوامی درد کہاں سے جاگ اٹھا سچ تو یہ ہے کہ یہ منصوبے نہیں، یہ ووٹ کی سرمایہ کاری ہے پانچ سال کی خاموشی کے بعد چند مہینوں کی سرگرمی یہ خدمت نہیں بلکہ ایک حسابی چال ہے اور سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جن منصوبوں کو ایک دور میں دانستہ روکا گیا، مخالفت کی گئی فائلوں میں دفن کیا گیا آج وہی منصوبے اپنا منشور بنا کر پیش کیے جا رہے ہیں 

خالد خورشید کے دور میں منظور ہونے والے منصوبے اگر اس وقت مکمل ہونے دیے جاتے تو آج عوام کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا مگر سیاست یہاں خدمت نہیں بلکہ کریڈٹ لینے کا کھیل بن چکی ہے کام کوئی کرے نام کوئی اور لے جائے یہ جو گرگٹی سیاستدان ہیں رنگ بدلنے میں ماہر یہ حالات کے مطابق وفاداریاں بھی بدلتے ہیں بیانیے بھی بدلتے ہیں اور اب منصوبوں کے باپ بھی خود کو ہی ثابت کرنے لگے ہیں۔مگر سوال اب بھی وہی ہے یہ حماقتیں آخر کب تک جو لوگ کل ان منصوبوں کے دشمن تھے آج ان کے وارث بننے کی کوشش حماقت کیوں کر رہے ہیں یہ صرف منافقت نہیں یہ عوام کی توہین ہے وقت آ گیا ہے کہ عوام صرف تالیاں نہ بجائے بلکہ حساب مانگے ہر اس شخص سے پوچھے جب اختیار تھا تب کیا کیا جو منصوبے جو ترقیاتی کام روکے آج اس کا کریڈٹ کیوں؟ اور جو آج وعدہ کر رہے ہو اس کی ضمانت کیا ہے یاد رکھیں سیاست میں سب سے بڑا ہتھیار یادداشت ہوتی ہے اگر عوام بھول جائے تو یہی لوگ ہر بار نیا چورن بیچ کر کامیاب ہو جاتے ہیں جہاں ضمیر بک چکا ہے اور عوامی خدمت صرف ایک نعرہ رہ گئی ہے یہ حکمران نہیں، وقت کے سوداگر ہیں جو ہر الیکشن میں عوام کے زخموں پر مرہم نہیں بلکہ نمک چھڑکنے آتے ہیں اور ہم ہیں کہ ہر بار اسی نمک کو شفا سمجھ لیتے ہیں اب بھی وقت ہے خود سے ایک سوال کرنے کا کیا ہم واقعی اتنے سادہ ہیں، یا ہمیں سادہ بنا دیا گیا ہے کیونکہ جب تک سوال پیدا نہیں ہوگا یہ چورن بکتا رہے گا یہ ڈرامہ چلتا رہے گا اور گلگت بلتستان صرف وعدوں کی ایک ادھوری کہانی بنا رہے گا۔

یہ الیکشن بھی نئی دکان پرانا سودا جیسا کھیل ہے جس سے ہر کوئ انجوائے کر رہا ہے 

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button