۔نیا پاکستان

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہدایت اللہ آختر

مملکت خداداد پاکستان کی کیا بات ہے ۔۔۔یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج ہے ۔۔اب اس ملک میں شرفا خال خال ملتے ہیں۔۔۔شرفا سے ہٹ کر ایک اور کلاس کا بھی پتہ چلتا ہے جوہر گلی اور ہر چوراہے میں وافر مقدار میں موجود ہے جس کو پاکستان کے عام لوگ  عوام کے نمائندے  یا لیڈر کہتے ہیں۔۔ جو روز نت نئے وعدوں سے اس ملک سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانانے اور ان کی محنت کی کمائی سے اپنی تجوریوں کو عرصہ ٦٦ سال سے بھر رہے ہیں ۔۔۔۔اب کی دفعہ یہ عوامی لیٹرے ایک اور نئے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں ۔۔آنے والے انتخابات کے لئے ان سب کو نوجوانوں کی ضرورت پڑی ہے   سب کا کہنا ہے کہ  نیا نظام اور نیا پاکستان ۔۔۔۔ آئیں دیکھیں کہ یہ نیا پاکستان  کا نعرہ کیا ہے اور کیسا ہے ۔ایک وہ وقت تھا جب نوجوانوں نے اپنے لیڈران کی کال پر اپنا سب کچھ قربان کر کے ایک نیا ملک بنایا ۔۔۔۔ یکن ملک حاصل ہوا تو اس پر جاگیرداروں اور وڈیروں کا قبضہ ہوا۔۔۔۔اس کے بعد پے درپے یہ ملک ان عوامی لٹیروں  کے شکنجوں میں ہے.

 باپ کے بعدبیٹا یا بیٹی یا تائے مائے مختلف شکلوں میں عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں  پہلے پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد تھا اب  اس ملک کا  مرکز برطانیہ بن چکا ہے جہاں سے یہ عوامی نمائندے وقتا فوقتا  ویڈیو کانفرس یا ٹیلیفونک خطاب سے  فرمان جاری کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔کہا جاتا ہے کہ نیا پاکستان  بنانا ہے ایک پاکستان  قائدنے بنایا  تھا  جو ان لیڈران کو پسند نہیں آیا اور  اسکے دو ٹکڑے کر کے  ان لیڈران نے نیا پاکستان بنایا ہاں جی بالکل نیا اور نرالا پاکستان۔۔۔۔۔رشوت کا پاکستان، لوٹ مار کا پاکستان، دہشت گردی کا پاکستان، تعصب پرستی کا پاکستان، نفرت کا پاکستان۔ مارشلا کا پاکستان،  کیوں جی  اور لکھوں کہ بس اتنا کافی ہے ۔۔۔

ہاں جی  نیا پاکستان  کیا یہ سب چیزیں دوسرے ملکوں میں پائی جاتی ہیں  نہیں نا  تو یہ پاکستان نیا ہی ہوا نا۔۔۔۔۔یہ ملک نرالا اور الگ اس لئے بھی ہے کہ روشنی سے ہمیں نفرت ہے اس لئے بجلی اور تعلیم کی روشنی کو ہم نے اپنے ملک میں روشن کرنے کے راستے ہی بند کر دئے ہیں  اور تعلیم کے نظام کو ہم نے اس حد تک مفلوج کر دیا ہے کہ  اس معمالے میں کوئی بھی ملک پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا او دوسرے اقوام کے  لوگ  بڑے حیران ہیں کہ  پاکستان والوں نے یہ سارے کرتب  کہاں سے سیکھے ہیں ۔۔  ۔۔۔۔۔اور اب ہمارے یہ لیڈر پاکستان کو  ایک اور نیا پاکستان  بننا چاہتے ہیں ۔۔۔۔

یہ نیا پاکستان  ہے کیا؟ کیا ہمیں قائد کا پاکستان پسند نہیں۔۔۔۔کیا ہمیں دو قومی نظریہ کا پاکستان پسند نہیں۔۔۔کیا ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں سے حاصل کیا ہوا پاکستان پسند نہی۔۔۔۔کیا ہمیں مسلمانوں کے لئے حاصل کیا ہوا پاکستان پسند نہیں ۔۔۔۔کیا ہمارا قران تبدیل ہوا ہے کیا ہمارا قبیلہ تبدیل ہوا ہے ۔۔۔۔ کیا ہم اب مسلمان نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔اگر یہ بات ہے تو پھر ٹھیک ہے  ہمیں ایک نیا پاکستان کی ضرورت ہے نہیں تو  ہمیں تو اسی پاکستان کی ضرورت ہے جسے قائد نے  بنایا تھا  جسے ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے سنوارا تھا۔۔۔۔ہمیں تو ایسے پاکستان کی ضرورت ہے  جہاں انصاف ہو ،،جہاں کام کرنے والے کو شاباش اور کام چور کی سزا ہو۔  بس ہمیں اپنے قائد کا پاکستان چاہئے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔