سوشل میڈیا

سوشل میڈیا

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 سوشل میڈیا زندہ باد.  انٹر نیٹ کی  دنیا کتنی پیاری دنیا ہے. اس کے  چاروں اور رنگینیاں ہی رنگینیاں  اور اس کے درمیان ہم  لوگ۔۔۔ چاہے گھر میں ہمیں کوئی پوچھتا  نہ بھی  ہو تو اس سوشل میڈیا پر ہم اپنے آپ کو  اس دنیا کا بادشاہ اور پرنس سمجھتے ہیں۔۔ ایسے کمنٹس اور پوسٹ شیئر کرتے ہیں جیسے  سچ مچ کے  فلاسفر اور دانشور  ہوں اوریوں سمجھنے لگتے ہیں  کہ  ہمارے کہنے اور لکھنے سے  پورا معاشرہ   سدھر جائیگا۔۔۔

بے شک ہم دل چوہے کا رکھتے ہوں لیکن اس میڈیا پر  تو ہم سے بڑھ کر کوئی شیربن نہیں سکتا  ۔۔بے شک چھوٹے  سے  مچھر کو دیکھ کر ہماری  جان ہی کیوں نہ  نکلتی ہو، لیکن سوشل میڈیا پر کسی کی مجال نہیں کہ  ہمیں  ڈرا سکے ۔۔۔ بے شک عملی زندگی  میں کتنے  جھوٹے بھی ہوں یہاں تو  ہم سے سچا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔۔

الغرض  ہم اس (سوشل میڈیا)  کے  ثمرات سے کما حقہ  مسفید ہو رہے  ہیں۔۔۔ بلکہ مستفید کیا، ہم تو اسی میں ڈوبے ہوئے ہیں. اب تو ہم نے اسے اپنا  شریک حیات سمجھا ہوا ہے …. کہیں میں نے غلط لفظ تو استعمال نہیں کیا؟ چلو ایسی بات ہے تو دوشیزہ سمجھو!  کیوں، یہ بھی عجیب لگا؟.میرے خیال میں شاید محبوبہ بہتر رہیگا. بلکہ یہ کہنا مناسب کہ ہم نے اسے ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہوا ہے ۔۔

ہم پر اس کی  بڑی مہربانیاں ہیں. اتنی زیادہ  کہ جن کا کوئی شمار نہیں.  ایک ہو تو بتا وٗں  کیا کیا بتاوٗں  بتانے والی ہوں تو بتا وٗں۔۔  اس کی مہربانی سے اب ماشا اللہ  گھر والوں کے ساتھ دسترخوان پر نہیں  بیٹھتے۔ زندگی اتنی مصروف  ہوگئی ہے  کہ بچوں کی یاد ہی  نہیں آتی  تو ایسے میں ان کی پڑھائی وغیرہ کے بارے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔ کس کو پڑی ہے کہ ان کے بارے سوچے۔  اب ہماری ایک الگ دنیا بن چکی ہے.  وہی دنیا جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے.

جی ہاں سوشل میڈیا  بس اپنی ایک ریاست  جس کے ہم بادشاہ  جہاں سے ہم دوسروں کو للکارتے ہیں اور اسی دنیا کی سلف سروس کے  مزے  سے بھی لطف اندوز  ہو تے ہیں.  اور تو اور اپنے علاوہ  اپنے  یاروں کو بھی  باخبر رکھ سکتے ہیں  تاکہ وہ بھی ملکوں ملکوں  کے حسن سے  محظوظ ہو سکیں۔۔  کیا نہیں ہے اس سوشل میڈیا میں.  تعلیم  بھی حاصل کر سکتے ہیں اگر چا ہیں تو . مگر اس کا   فائدہ  تعلیم تو ہم حاصل کر چکے ہیں ۔ بہت ہو چکا  یہاں بھی تعلیم  پھر کیا فرق ہوا اس  سوشل میڈیا اور سکول میں ۔۔  بس کرو یار ایسا مشورہ اپنے جیب میں رکھو. سوشل میڈیا تو انٹرٹیمننٹ کے لئے ہے. میرے بھائی انٹرٹینمنٹ کے لئے  کیا سمجھے …..   نہیں سمجھے  نرے بدو ہو یار!  ابھی تم بچے ہو  ان باتوں کو نہیں سمجھوگے.

 قارئین آپ تو سمجھ گئے ہونگے نا؟  اور ہاں یاد آیا  سوشل میڈیا  کا سب سے بڑا کمال جس نے   انقلاب برپا کر دیا ہے ۔۔ وہ یہ کہ اس  دنیا میں لڑکیاں بہت زیادہ پیدا ہوتی ہیں اور تو اور  یہاں بغیر اپریشن سکینڈوں  میں آپ جو بننا چاہتے ہیں  بن سکتے ہو کوئی قید نہیں۔ عمر کی شق تو سرے سے ہی نہیں اور اس سے بھی زیادہ  دلچسپ بات یہ ہے کہ  آپ بیک وقت لڑکا اور لڑکی  دونوں بھی بن سکتے ہو  اور آپ خود کے دوست اور سہلی بھی بن سکتے ہو  آپ شبو بن کر  اپنے آپ نشو سے  دوستی  کی پینگیں بھی  بڑھا سکتے ہو  ایک نشو کیا  پنکی منی  ببلی سے بھی دوستی کر سکتے ہو۔۔  اگر آپ کا موڈ  کچھ اور بننے کا بھی ہے تو گھبرائیں نہیں یہ تو  بائیں انگلی کا  کھیل ہے اس دنیا میں دوستوں کی بھی کوئی کمی  نہیں ہوتی  ایک ایک  کے ہزاروں دوست اور ایسے دوست جو ہر وقت آپ  کے منہ کا ذائقہ تبدیل کرتے رہتے ہیں.  مرچ مصالحے کی بھرمار ہر قسم کا ذائقہ سوشل میڈیا میں ہر وقت اور ہر دم  اور بھی بہت کچھ  بس پوچھو ہی نہیں  ہم سب بھی  تو یہی چاہتے ہیں  نا کہ  آزادی ہو  کوئی پابندی نہ ہو  جو جی میں آئے  اسے کر گزریں  کوئی روکنے والا نہ ہو  کوئی پوچھنے والا نہ ہو جب گالی دینا چاہے تو بے دھڑک  دے سکیں جب اول فول بکننا ہو تو  زبان ایک گز کی نہیں بلکہ دوگز کی نکلے ۔ مدر پدر آزاد زندگی ہو۔۔ میرے بھائیو یہ  ہے وہ دنیا  جس کو سوشل میڈیا  کا نام دیا گیا  ہے  جو ہماری ایک انگلی کے قابو میں ہے اور انگلی  ہمارے قابو میں.  اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی انگلی کو سوشل میڈیا کی دنیا میں اور زبان کو اپنی عملی زندگی میں  کیسے قابو میں رکھتے ہیں  اور اسی انگلی  اور زبان کو قابو میں رکھنا  ہی  ہمارے اور معاشرے  دونوں کے لئے  سود مند ہے!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔