بچوں کی پیدا ئشی اندرا ج کے حوا لے سےحا جی اکبر تا با ن کو یو بی آ ر کی ٹیم کی طر ف سے بر یفنگ دی گئی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
سکر د و ( پ ر )گلگت بلتستا ن میں بچوں کی پیدا ئشی اندرا ج کے حوا لے سے رہنما ن لیگ حا جی اکبر تا با ن اور بلد یہ آ فیسرسکر د و ثنا ء اللہ کو یو بی آ ر کی ٹیم کی طر ف سے بر یفنگ دی گئی ۔ بر یفنگ دیتے ہو ئے یو بی آ ر کی ٹیم نے اب تک کی کا ر کر د گی اور مشکلا ت سے آ گا ہ کیا اور کہا کہ گلگت بلتستا ن میں بچوں کے پیدا ئشی اندرا ج کے اہدا ف کی طرف بطریق احسن بڑ ھ رہے ہیں ۔امید ہے کہ خطے کے تمام شہر ی ، دیہی اور دور دراز کے علا قوں کے عوام یکسا ں طو ر پر اس پر و گرا م سے فا ئد ہ اٹھا ئیں گے۔اس مقصد کے حصو ل کے لیے تمام وسا ئل بر و ئے کا ر لا ئے جا رہے ہیں ۔ اس دو ر ا ن با ت چیت کر تے ہو ئے رہنما ن لیگ حا جی اکبر تا با ن نے کہا کہ بچوں کے پیدا ئشی اند را ج کا پر و جیکٹ قو می اہمیت کا حا مل منصو بہ ہے ۔ اس منصو بے کی کا میا بی کے لیے ہم ہر قسم کا تعا و ن کر نے کے لیے تیا ر ہیں تا کہ گلگت بلتستا ن کے تمام عوام کو اس پر وگرام سے فائد ہ حاصل ہو ۔بچوں کے پیدا ئشی اند را ج بچوں کی شنا خت کی پہلی سیڑھی ہے ۔ ہر شہر ی کا فر ض بنتا ہے کہ وہ بہتر معا شر ے کے قیا م کے لیے اپنے بچوں کے پیدا ئش کا اندر ا ج کر و ائیں ۔اس مو قع پر بلد یہ آ فیسر سکر د و ثنا ء اللہ نے کہا کہ میو نسپل کمیٹی سکر د و میں زیا د ہ تر شہر ی آ با د ی ہے اور دیگر علا قوں سے بھی لو گ آ تے ہیں ۔ ہم نے ان کی سہو لت کے لیے نظام کو مکمل فنکشنل کر دیا ہے اور با قا عد ہ کمپیوٹرائزڈ بر تھ سر ٹیفکیٹ کے اجراء کا سلسلہ شر و ع ہو چکا ہے تا کہ ان سر ٹیفکیٹس کے ذریعے والدکو بچوں کو سکو لوں میں داخل کروا نے ، فا ر م ’’ب‘‘ ، ڈو میسا ئل ، شنا ختی کا ر ڈ او پا سپو ر ٹ کے حصو ل میں آ سا نی پیدا ہو سکے ۔اس مو قع پر حا جی اکبر تا با ن اور بلد یہ آ فیسر سکر د و نے یو بی آ ر کی ٹیم کو اس قو می نو عیت کے کا م کے لیے وسا ئل بر و ئے کا ر لا نے پر شکر یہ بھی ادا کیا ۔ پر و جیکٹ منیجر یو بی آ ر رخسا نہ زما ن نے بھی اس مو قع پر دو نوں شخصیا ت کا پر و جیکٹ کی کا میا بی کے لیے تعا و ن پر شکر یہ ادا کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments