کھلا خط بنام صدر پاکستان و چیف جسٹس پاکستان

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کھلا خط ،بنامِ لائق احترام چیف جسٹس پاکستان او صدرِ مملکت محترم ممنون حسین صاحب
مکتوب نگار :۔ سرفراز شاہ سابق ممبر قانون ساز کونسل ، APML گلگت بلتستان 

جناب ایڈیٹر صاحب 

مکرمی! 

میں آپ کے موقر جریدے کی وساطت سے صدر پاکستا ن اور پاکستان کی اعلیٰ عدالت کے منصف اعلیٰ کی توجہ سابق صدرِ پاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ۔ 

مشرف پر غداری کا مقدمہ درست ہے یا غلط یہ ایک پیچیدہ سوال ہے لیکن اس سے اس پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ داستان کی ابتدائی تمہید کیا ہے؟ ۔ اس سلسلے میں ۱۲، اکتوبر ۱۹۹۹ ؁ؤ کے دن کا تاریخی واقعہ قابل غور ہے جب اُس وقت کے وزیر اعظم کی ایک سازش کو ناکام کرکے اُس کا تختہ حکومت تاخت و تاراج کیا گیا تھا ۔اِ س وقت ایک عشرہ پیچھے جانا چاہئے یا نہیں یہ پاکستان کے ہر شہری کو معلوم ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ۳ ، نومبر ۲۰۰۷ ؁ؤ ایمرجنسیکے نفاذ کو کس کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ملک سے غداری گردانا جا رہا ہے ۔ صدر پاکستان اور چیف جسٹس سے میری درخواست یہ ہے ۳ ، نومبر ۲۰۰۷ ؁ؤ کا واقعہ خدا داد پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کی ایک کوشش تھی ۔ ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میں یہ شعور رکھتا ہوں کہ ایک ریاست کے اندر دوسری ریاست تشکیل دینے کے لئے اپنے علاقے کے سادہ لوح عوام کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمانا اور افواج پاکستان کے خلاف ایک صوبے کو محاز جنگ بنانا غداری کے زمرے میں آنا چاہئے نہ کہ ملک کے بچانے والے کو مورد الزام ٹھہرا کر اُسے عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے کرنا چاہئے۔ملک کو دہشت گردی اور ٹوٹ کے بکھرنے سے بچانے اور باغیوں کی سرکوبی کے لئے فوج اور تمام سیاسی پارٹیوں کی حمایت سے چند لمحوں کے لئے اگر آئین معطل ہو بھی چکا تھا تو اُصول ضرورت کے تحت اس میں اتنی قباحت نظر نہیں آتی ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آئین کسی ملک کے اندر ہوتا ہے آئین کو بچانے کے لئے ملک کا استحکام اور بقا ضروری ہے اگر ملک ہی نہ رہے گا تو آئین کے کیا معنی ہوں گے ۔ اسی نقطہ نظر کی روشنی میں ۳، نومبر ۲۰۰۷ ؁ کے ایمرجنسی کے نفاذ کو آئین شکنی سمجھنا شاید قابل فہم نہیں ہے ۔ 

چونکہ ۳، نومبر ۲۰۰۷ ؁ؤ کی ایمرجنسی کا نفاذ قومی مفاد میں کیا گیا تھا ، اس واقعے میں کوئی ذاتی عناد یا کوئیذاتی دشمنی نہیں تھی ۔ لہذا موجودہ حکومت کا رویہ متعصبانہ اور انتقامی کارروائی پر مبنی ہے ۔ اس ضمن میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایمر جنسی کے نفاذ میں سابق صدرِ پاکستان کا فیصلہ ذاتی تھا ؟ کیا اُس کے ساتھ کوئی اور لوگ نہیں تھے ؟ اگر واقعی اُس کے ساتھ کوئی اور نہ تھے تو واقعتاً وہ دنیا کے سب سے بڑے لیڈر ہیں جس نے ایک ملک کو تن تنہا ایک عشرے تک چلاتا رہا ۔ مشرف جیسے محب وطن راہنما کے خلاف غداری کا مقدمہ در اصل ملک کے اندرونی اور بیرونی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت میں پاکستانی فوج کے خلاف نفرت اور بغاوت کا واضح اظہار ہے ۔ انہی حقائق کے پیش نظر صدر مملکت ممنون حسین صاحب ، آزاد عدلیہ ، آرمی چیف اور قانون کے ماہرین اس معاملے پر سنجیدگی سے غور فرماتے ہوئے ملک سے غداری کا الزام بجائے محسنِ پاکستان پر لگانے کے اُن درخواست گزاروں پر لگاکی سفارش کریں جو ملک میں امن امان کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔ میں صدر پاکستان کی وساطت سے چیف جسٹس پاکستان سے ملتمس ہوں کہ وہ از راہ انصاف تصویر کے دورسرے رخ کو بھی سامنے رکھتے ہوئے اس مألے کو پرکھے۔ مزید پیچیدگی سے پاکستان کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ یہ کیس فوجی عدالت کو تفویض کیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔