آئین کے آرٹیکل ٦٢ اور ٦٣ کا اطلاق گلگت بلتستان میں نہیں ہوسکتا: امجد حسین ایڈوکیٹ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(صفدر علی صفدر) گلگت بلتستان کونسل کے رکن و معروف قانون دان امجد حسین ایڈوکیٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے چیف آرگنائزر حافظ حفیظ الرحمن کی جانب سے آئین پاکستان کے آرٹیکل 62اور63کے گلگت بلتستان میں اطلاق کے سلسلے میں گلگت بلتستان کونسل کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کے حوالے سے دےئے جانے والے بیان کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے ۔ہفتہ کے رو زپامیر ٹایمز سے ٹیلی فونک گفتگو میں امجد حسین ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ حافظ حفیظ الرحمن دن بھر سوتے رہتے ہیں اور شام کو میڈیا میں اوٹھ پٹانگ بیانات دیتے ہیں ۔انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ گلگت بلتستان میں آئین پاکستان کا اطلاق ہوسکتا ہے ۔اور نہ ہی کونسل کے پاس اس حوالے سے قانون سازی کا کوئی اختیار ہے جبکہ گلگت بلتستان میں عوامی نمائندگی ایکٹ اور نادہندگان کے الیکشن لڑنے کا گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر 2009میں بھی کوئی ذکر نہیں ہے ۔ایسے میں حفیظ الرحمن کا بیان جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی مدت کا بینہ کی حلف برداری کی تاریخ کے دن پوری ہوجاتی ہے گورننس آرڈر میں ترمیم لاکر مسلم لیگ ن کی حکومت کل بھی الیکشن کراسکتی ہے تو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ گورننس آرڈر میں ترمیم کے بغیر وقت سے قبل انتخابات کا انعقاد ایک غیر جمہوری اقدام ثابت ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

آئین کے آرٹیکل ٦٢ اور ٦٣ کا اطلاق گلگت بلتستان میں نہیں ہوسکتا: امجد حسین ایڈوکیٹ” ایک تبصرہ

  1. ضرور ملاحظہ کیا جاییے۔ اپ کا اپنا حقانی

    آرٹیکل63,6، حقیقت کے آئینے میں
    تحریر: امیرجان حقانی
    ٹائٹل: ریڈکراس ای میل:ibshaqqani@gmail.com
    میرے سامنے” آئین پاکستان ” کی آرٹیکل نمبر63,62 کھلی ہوئی ہے۔ یہ دونوں آرٹیکلز کافی طویل ہیں۔ چونکہ آج کل پورا ملک ان دونوں آرٹیکلزکی ذیلی دفعات میں الجھا ہوا ہے اس لیے مناسب سمجھا کہ اس موضوع پر ذرا کھل کر تبصرہ و تجزیہ کیا جائے۔سب سے پہلے ان دونوں آرٹیکلز کی ذیلی دفعات سے چند اہم دفعات نوٹ کرتے ہیں پھر ان کاعمیق تجزیہ۔
    آرٹیکل نمبر63,62 ۔ یہ آرٹیکلز بنیادی طور پرپاکستانی پارلیمنٹ(ایوان زریں وبالا) جس سے بدقسمتی سے مجلسِ شوریٰ بھی کہا جاتا ہے کی رکنیت کے لئے اہلیت اور نااہلیت کی شرائط پر مبنی ہیں۔
    آرٹیکل نمبر63,62 کی اہم ذیلی دفعات:
    ٭…اہلیت والی شرائط:یعنی ان شرئط کا خصوصی طور پر پایاجا نا ضروری ہے۔
    ١۔پاکستان کا شہری ہونا۔
    ٢۔ اس کا کردار اچھا ہو’ وہ عام طور پر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی شہرت نہ رکھتا ہو۔
    ٣۔ اسلام کا مناسب حد تک علم رکھتا ہو اور اسلامی فرائض کی بجا آوری کرتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتا ہو۔
    ٤۔ دیانتدار’ نیک’ سمجھ دار اور امین ہو۔فضول خرچ اور عیاش نہ ہو۔
    ٥۔ کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں سزا نہ پائی ہو اور نہ ہی جھوٹی گواہی کا مرتکب پایا گیا ہو۔
    ٦۔پاکستان بننے کے بعد ملک کی یکجہتی کے خلاف کام نہ کیا ہو اور نہ ہی نظریہ پاکستان کی مخالفت کی ہو۔
    ٭..نااہلیت والی شرائط: یعنی ان تمام شرائط کے پائے جانے سے کوئی بھی پاکستانی پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتا ہے۔
    ١۔پاکستان کا شہری نہ ہو، یا کسی اور ملک کی شہریت حاصل کرچکا ہو۔
    ٢۔ وہ کسی ایسی آراء کا پرچار کررہا ہو یا ایسی حرکات کا مرتکب ہو جن سے پاکستان کے نظریے’ اقتدارِ اعلیٰ’ سا لمیت یا سیکیورٹی پر زد پڑتی ہو یا جس امن عامہ قائم کرنے یا اخلاقیات کی نفی ہو یا جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہو یا افواج پاکستان بدنام ہوتی ہوں یا طنز و تحقیر کا نشانہ بنتی ہوں۔
    ٣۔ غلط رویے(Misconduct ) کے سبب حکومت کی نوکری سے برخاست ہوا ہو۔ البتہ اگر اس دوران پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہوتو اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
    ٤۔ رائج الوقت قوانین کے تحت کرپشن کا مجرم پایا گیا ہو یا کوئی غیر قانونی حرکت کا مرتکب ہو ا ہو۔
    ٭..لیگل فریم ورک آرڈر مجریہ 2002ء میں اراکین شوریٰ(پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے کے لیے کچھ شرائط کا اضافہ کیا گیا تھا۔ چنانچہ شق نمبر 63(q) کے مطابق ایسا شخص مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہیں جس نے خود، یا بیوی یا اپنے کسی زیر کفالت کے نام پر کسی بینک’ مالی ادارے، یا کوآپریٹو سوسائٹی/باڈی سے بیس لاکھ یا زیادہ قرضہ لیا ہو جو واجب الادا تاریخ سے ایک سال تک کے عرصے میں ادا نہ کیا ہو ایا پھر اس نے یہ قرضہ معاف کروایا لیا ہوا، ان دونوں صورتوں میں اسے ناہل تصور کیا جائے گا۔
    قارئین انتہائی اختصار کے باوجود دفعات کافی طول پکڑ گئی۔ ذیل کے سطور میں اب ان دفعات کا ایک تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں۔
    میں اپنے قارئین سے پیشگی معذرت چاہونگا کہ میں اس قانوں اور آئین کو اسلامی نہیں کہہ سکتا جو آئین صدر کو استشنیٰ عطا فرماتا ہے’ کیونکہ آئینِ اسلام ،توخدا کا ائین ہوتا ہے اور خدا، اُس میں اپنی مرضی چلانے کی اجازت محمد ۖ اورخلفائے راشدین کو بھی نہیں دیتا۔کیا رسول اللہ اسلام کا ادنیٰ سا حکم میں تغیر کر سکتا ہے؟کیا رسول اللہ کی بیٹی فاطمہ کسی جرم کا ارتکاب کرے تو محمد ۖ ان کو معاف کرنے کے مجاز ہیں ؟ کیا آپ ۖ نے نہیں فرمایا تھا کہ” خدا کی قسم اس عورت کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا؟۔ یہاں تو صدر پاکستان آئین کے تناظر میں بھارتی جاسوسوں ‘ ملکی غداروں اورخطرناک مجرموںکو بھی معاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    آئین پاکستان کے تناظر میں آئین کو توڑنا اور اس کی خلاف ورزی کرنا آئین اورملک سے غداری کے مترادف ہے تو ان لوگوں کے بارے کیا جائے جو دہری شہریت کے حامل تھے مگر بڑا عرصہ وہ پارلمنٹ کے رکن رہے؟اور پھر ان کے کاغذات نامزدگی بھی شرف قبولیت سے نوازے گئے۔
    ٭… کردار اچھا ہو’ وہ عام طور پر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی شہرت نہ رکھتا ہو۔تو اب کردار کی تعریف کون کرے گا’ اسلامی قوانین کی خلاف ورزی نہ کرنے والا کیا اس ملک میں کوئی موجود بھی ہے؟۔ اسلام کا مناسب حد تک علم رکھتا ہو ا’ اس حد کی مقدار کون تعین کرے گا؟ آئین ‘ عدلیہ یا ریٹرنگ آفیسر؟ کیا یہ حد مقررکرنے کے شرعی مجاز بھی ہیں؟پھربینک ڈیفالٹرز کی تعدا دتو ان گنت ہیں جو بار بار ممبر بن چکے ہیں۔ اور جنہوں نے این آر او کیا وہ کیا ہیں؟۔عدلیہ !آزادعدلیہ کی تضحیک میں وہ عدلیہ اور جج بھی آتے ہیں جنہوںنے فوجی آمروں کو باربارمحفوظ راستہ عنایت کیااور آئین کو روندنے کی اجازت دی؟افواج پاکستان!افواج پاکستان کی بدنامی و تحقیر میں وہ فوج اورجرنیل بھی آتے ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے’ لال مسجدکو صفحہ ہستی سے مٹانے’معصوم شہریوں کے قتل عام کو عوامی طاقت گرداننے’ اور منتخب نمائندوں کو سولی پر چڑھانے اور ملک بدر کرنے میں صف اول کا کردار ادا کیا؟۔یقینا عدلیہ اور افواج پاکستان کی محبت ہر محب وطن پاکستانی کے رگ رگ میں رچ بس گئی ہے مگر…..ایسے کالے بھجنگ!
    ٭…اسلامی فرائض کی بجا آوری کرتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتا ہو۔اسلامی فرائض کون کون سے ہیں کون گنوائے گا ۔اگر معلوم بھی ہوں تو ریٹرنگ آفیسر ان اراکین سے یہ فرائض پوچھنے کے مجاز ہیں؟یقینا آئین اورعدلیہ کے مطابق مجاز نہیں ہیں بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے تو منع کررکھا ہے۔اور پھر گناہ کبیر ہ کی بات کی جائے تو سب کے سب ننگے ہوجائیں گے۔کیا ڈاڑھی کاٹنا گناہ کبیرہ نہیں ہے؟شاید اتنا ہی کافی ہے، اگر شراب نوشی ‘ ببانگ دہل زنا’لوٹ کھسوٹ، کرپشن’ قتل عام’ مسجدوں کو بموں سے اڑانے کی بات کی جائے گی تواحباب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
    ٭… دیانتدار’ نیک’ سمجھ دار اور امین ہو۔فضول خرچ اور عیاش نہ ہو۔فاسق و فاجر نہ ہو اور پارسا ہو۔یہ بھی شرائط ہیں ماشا ء اللہ۔پارسائی کا دعویٰ تو اللہ کے برگزیدہ لوگ یعنی صحابہ کرام اور اولیاء عظام بھی نہیں کرتے چہ جایں کہ پاکستانی ارکان پارلمنٹ۔اس شق کے مطابق تو ہزاروں کے لگ بھگ فوج ظفر موج کو اپنے آپ کو پارسا ثابت کرنا لازم ہوگا اور پھر ان کی پارسائی کی سند دینے والے خود بھی پارسا ہیں؟۔میری ناقص خیال کے مطابق اس ”خصوصی پارسائی” پر تو بانی مملکت قائد اعظم اور حکیم الامت اقبال بھی نہیں اترتے’ اور نہ ہی دونوں پارسائی کا دعویدار ہیں۔ تو پھر ریٹرنگ آفیسرآن کو ان کے کاغذات کو بھی مستررکرنا پڑتا۔ فاسق و فاجر نہ ہو۔ عجیب! ٹھیٹ اسلامی تعلیمات کے مطابق ‘ یعنی قدیم اورموجودہ دور کے جید علماء اسلام کی دینی تشریحات کے مطابق ڈاڑھی منڈوانا فسق اور اس عمل کا کرگزر نے والا فاسق ہوتا ہے۔ تو پھر عدلیہ کے قاضی القضاة’ چیف الیکشن کمشنراو ر صدر مملکت کی حیثیت کیا ہوگی۔
    ٭..رکن پارلیمنٹ کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں سزا نہ پائی ہو اور نہ ہی جھوٹی گواہی کا مرتکب پایا گیا ہو۔ کیا آج تک وہ لوگ ہماری اسمبلی کے ممبر نہیں بنے جنہوں نے اخلاقی جرائم کی فیکٹریاں کھول رکھیں ہیں؟کل کے جیلوں کو آباد کرنے والے آج کے وزیر اور وزیراعظم نہیں ہیں؟۔
    ٭.. پارلیمنٹ کا ممبر بننے والا کسی ایسی آراء کا پرچار کررہا ہو یا ایسی حرکات کا مرتکب ہو جن سے پاکستان کے نظریے’ اقتدارِ اعلیٰ’ اخلاقیات کی نفی ہو یا جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہو یا افواج پاکستان بدنام ہوتی ہوں یا طنز و تحقیر کا نشانہ بنتی ہوں۔کیا نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنا کفر ہے؟برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ اور مطالعات پاکستان تو بتاتا ہے کہ نظریہ پاکستان کی بنیاد تو شیخ سرہندی’ شاہ ولی اللہ ‘سرسید احمد خان اور 1906سے تو باقاعدہ رکھی گئی ہے اور اس وقت سے اس کی پرچار ہورہی ہے۔پھر پھر قائداعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے؟ہمارے یہ دونوں بزرگ ایک لمبے عرصے تک نظریہ پاکستان کے قائل نہیں تھے ۔قائد اعظم تو مسلم لیگ میں شمولیت سے قبل کانگریس کے ذمہ دار رکن’ متحدہ ہندوستان کے حامی اور اور دو قومی نظریے کے مخالف تھے۔ اور پھرکیا نظریہ پاکستان کی تعریف آئین پاکستان میں موجود ہے ؟ اگر ہے تو کیا ہے؟یا پھر کسی مجاز عدالت نے اس کی وضاحت کررکھی ہے؟۔اگر اس کو لازم گردانا جائے تو پاکستان میں بسنے والے دیوبندی مکتبہ فکر کے تمام افراد الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ وہ آج بھی حضرت حسین احمد مدنی ‘ شیخ الہند محمود الحسن اور عطاء اللہ شاہ بخاری کو اپنا پیشوا مانتے ہیں ‘ اور یہ حضرات ڈنکے کے چوٹ پر نظریہ پاکستان کے مخالف تھے۔پھر تو ”سرحدی گاندھی” کے متبعین اور باقیات بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے رکن نہیں بن سکتے کیونکہ ان کا نظیریہ بھی نظریہ پاکستان سے بالکل مخالف ہے لیکن وہ تو روز اول سے اسی مجلس شوریٰ سے مستفید ہوتے چلے آرہے ہیں بلکہ اب کی دفعہ تو پورے ایک صوبے کا کنڑول بھی ان کے پاس رہا۔ہاں تو ترقی پسند تنظیموں کے احباب بھی تو نظریہ پاکستان کے مخالف ہیں۔کسی کی وجہ سے ملکی سا لمیت یا سیکیورٹی پر زد پڑتی ہو یا جس سے امن عامہ قائم کرنے میں خلل آتا ہو تو وہ بھی ممبر نہیں بن سکتا ہو۔کیا ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کی وجہ سے ملکی سالمیت تباہ و برباد ہوکر نہیں رہی۔کیا جنگ دہشت گردی کو پوری قوم کے سروں پر مسلط کرنے سے کوئی ملکی سالمیت بھی رہ گئی ہے؟ کیا مشرقی پاکستان میں قتلِ عام’ بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ’ آئین کا بار بار معطل کرنا’بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرنا’ ‘ باربار وردی میں صدربننے، پورے ملک کو وارآن ٹیرر میں دھکیلنے’شمسی آئربیس اور دیگر مقامات بہادر امریکہ کے لیے چراغاہ کے طور پر دینا’ آئین کو بار بار پاؤں تلے روندنا ملکی سالمیت کے خلاف نہیں؟۔ پھر عجیب بات کہ! یہ کیساسسٹم ہے جو مشرف کو کراچی اور ملک کے دوسرے حصوں سے تو نااہل قرار دے لیکن چترال سے اہل قراردے۔یاللعجب! یہ کیساآئین اور سسٹم ہے جو ملک کے سب سے غریب سیاستدان جمشید دستی کو جیل کی سلاخوں میں بھیجتا ہے جنہوں نے صرف ایک بار جیت کر اپنے حلقے کے تمام افراد کا دل جیت لیا تھا اور گورننس کا انداز ہی بدل کر رکھ دیا تھا،اور وہ موٹی موٹی آسامیاں بار بار بھی پارلیمنٹ کی رکنیت بلکہ وزارتوں پر براجمان ہونے کے باوجود عوام کے دل تو کیاجیتتے عوام کا خزاں لوٹتے ہیں وہ الیکشن کے لیے مستحق قرار پاتے ہیں۔ مجھے اس نظام پر حیرت ہے کہ یہ ایک شخص کو دوربین لگا کر دیکھتا ہے جبکہ دوسرے شخص کو عینک لگا کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔ایک تلخ حقیقت یہ کہ جس شخص کو آئین اور دستور پارلیمنٹ کی ممبرشپ کی اجازت نہیں دیتا کیاوہ شخص کسی اور قباء میں اسی پارلیمنٹ میں داخل ہوسکتاہے یعنی مشیرخاص۔ اور پھر وہ شخص جس پر باقاعدہ پاکستان کے مقتدر طبقات کی طرف سے الزامات ہوں’ بھارت کے تعاون سے این جی اوز چلاتا ہو وہ کسی صوبے کا نگران چیف ایگزیٹو ہوسکتا ہے۔ یقینا ہمارے ہاں سب کچھ ممکن ہے تو پھر جینوئن قلم کارآیاز میر کو بھی اجازت دینے میں کیا قباحت ہے۔ اگرچہ بے چارے نے جام نوشی کا اعتراف کیا ہے نا’ منافقت تو نہیں کی ہے۔اور شراب پینے والے تو ہمارے قومی ہیرو بن جاتے ہیں ، اگریقین نہیں آرہا ہے تو ١٣ اپریل ١٩٧١ء کوپاک آرمی کوئٹہ گیریژن سے فرار ہونے والے اولین بنگالی افسر اور بنگلہ دیش میں بہادری اور شجاعت کا سب سے بڑا اعزاز” بیراُتم” پانے والے میجر شریف الحق دالیم کا حالیہ انٹریو ضرور پڑھے۔ تاکہ کچھ حقیقت کا آشکارا بھی ہوجائے۔ بہر صورت ہمیں آئین کو مشرف بہ اسلام بنانے کے بجائے خود کو مشرف بہ اسلام ہونا چاہیے۔اب کی بار اس پہ گزارہ کیجیے۔

تبصرے بند ہیں