گلگت بلتستان اور چترال: مشترکات اور دورِ حاضر کے تقاضے

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ثقافت،تہذ ب و تمدن،ادب اور زبان وغیرہ کسی بھی علاقے اور خطے کے باسیوں کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کی پہچان ہوتی ہیں۔جس قوم کی تہذیب جتنی پرانی ہونے کے ساتھ دورِحاضر کے سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو ، وہی قومیں آج ستاروں پر کمند ڈالے ہوئے ہیں،اسکے بر عکس بہت سے قومیں ایسی بھی ہے۔ جنکی تاریخ تو صدیوں بلکہ ہزاروں سال پر محیط ہے لیکن اس کے باؤجود آج بھی پتھر کے دور میں رہنے کے ساتھ اکثر غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کیونکہ انہوں نے خود اور اپنے کلچر کو گلوبلائزکرنے میں بخل سے کام لیتے رہے۔جنکی تازہ ترین مثال افعانستان ہے اگر چہ افعان تہذیب کا شمار قدیم تہذیبوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے ہندوستان اور وسطی ایشیائی علاقوں میں انمنٹ نقوش چھوڑے ،لیکن انہوں نے اپنے تہذیب کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بناکر اپنے لئے دنیا میں اونچا مقام حاصل کر نے کے بجائے موجودہ’’ لوح و قلم‘‘ کے دور میں بھی کلاشنکوف کلچر اورڈرگس کے کاروبارمیں مصروف ہے ،جس کی وجہ سے وہ آج انتہائی ذلت و رسوائی اور بد ترین غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ قوم سدھرنے اور اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں نتیجہ ہم سب کے سامنے ہیں۔

اس مختصر سی تمہیدکے بعد اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔گلگت بلتستا ن ا ورچترال کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی افغان اور فارسی تاریخ۔درحقیقت صدیوں پہلے یہ دونوں خطے فارسی تہذیب کے زیر سایہ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ �آج بھی ان خطوں کی زبان،رسم و رواج،اٹھنے بیٹھنے کے طور طریقے،ثقافتی شو کے انداز وغیرہ میں اس تہذیب کے اثرات بڑے واضع اور نمایاں نظر آتے ہیں۔

چترال اور گلگت بلتستان کی ثقافت میں اس غیرمعمولی مشابہت کے باؤجودبد قسمتی سے دونوں خطوں کے عوام کے درمیان روابط اورایکدوسرے کو سمجھنے کے حوالے سے بہت بڑی خلا موجود ہے۔ ہر سال جشن شندورکے موقعے پر دونوں پولوٹیموں کے درمیان دنیا کے سب سے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں تین روزہ پولو میچوں کے ساتھ مختلف اقسام کے کھیل اور ثقافتی شو بھی منعقد ہوتے ہیں ۔لیکن پھر بھی د ونوں خطوں کے عوام کے درمیان روابط کا فقدان نظر آ تا ہے ۔آخرثقافتی، تہذیبی،ادب اور زبان وغیرہ کے لحاظ سے ایک ہونے کے باؤجود دونوں اقوام ایکدوسرے کے لئے اتنی اجنبی کیوں ہیں؟؟؟ اور جشنِ شندور جیسے بین الاقوامی فیسٹول بھی اس اجنبیت کو ختم کرنے میں کیوں ناکام رہی؟؟؟ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں اطراف کی سیاسی قیادت، دانشور،ادیب ، صحافی اورسول سوسائٹی کے نمائندے مل بیٹھ کرکمیونکیشن کے اس خلا کو ختم کرنے کے لئے واضع لائحہ عمل تیار کرے۔تاکہ دونوں خطوں کے عوام ایک دوسرے کے قدرتی اورانسانی وسائل سے استفادہ کر سکے۔اگر برسوں تک لڑنے والے یورپین جنہوں نے ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کر کے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، آج وہ یورپین یونین کی صورت میںیکجا ہوتے ہیں ،اور تین بڑی جنگیں لڑنے کے ساتھ ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور بھارت ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘،ثقافتی و ادبی وفود کے تبادلے کی بدولت اب ایک دوسرے کوپسندیدہ ملک کا درجہ دے سکتے ہیں ۔ تو ایک ہی برادری کے لوگ بھی اپنی چھوٹی موٹی تنازغا ت کو آپس میں مل بیٹھ کر افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرکے ایک دوسرے کے قریب کیوں نہیں آتے ؟اس سلسلے میں پولو کاکردار کسی سے ڈھکی چھپی ہر گزنہیں ۔ اگر سال میں صرف ایک مرتبہ شندور میں پولومیچز کے انعقاد کی بجائے مختلف فیسٹیولز، مثلا جشن قاقلشٹ ، جشن بہاراں وغیر میں گلگت کے کھلاڑیوں کو اور اسی طرح گلگت کے مختلف ٹورنامنٹس  میں چترال کی پولو ٹیمیوں کو اپنے ہاں مدعو کرے  تواس سے ان کھیلوں کی افادیت بڑھنے کے ساتھ شائقین کی دلچسپی بھی بڑھے گی، اور اس سے اعتماد سازی کی بحالی میں پڑی رکاوٹیں بھی ختم ہو سکتی ہے۔اس سال چترال پولو ایسوسیشن نے جشنِ چترال میں گلگت بلتستان کی پولو ٹیم کومدعو کرکے اس حوالے سے اچھی شروغات کی ہے اور اس سلسلے کو مزید جاری رکھنے کی ضرورت ہے ، جس کا مظاہرہ دونوں خطوں کوکرنی ہو گی ۔کیونکہ موجودہ دور تعلق توڑنے کا نہیں رشتے جوڑنے کا ہے۔ 

کسی مبالعہ آرائی سے ہٹ کربندۂ خاکسار کو کہنے دیجئے کہ اس نیک کام میں ’’قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی‘‘اور آغا خان ہائر سکنڈری سکولوں کا کردار قابلِ تحسین رہا ہے جنہوں سے چترال کے دسویں تشنگاںِعلوم کواپنے آغوشِ محبت میں جگہ دے کر انکے لئے علم کی جام سے لبریز پیالہ پیشِ خدمت کرنے میں مصرو فِ عمل ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر حکومت گلگت بلتستان اور قراقرم یونیورسٹی کے انتظامیہ بالخصوص VCاور گورنرGBکی خدمتِ اقدس میں عرصِ گزارہے ،کہ یونیورسٹی کا ایک کیمپس چترال میں بھی قائم کیا جائے۔ا س سے ایک طرف یہاں کے طلبہ وطالبات کومعیاری تعلیم تک رسائی ممکن ہو سکے گی تو دوسری طرف اس قسم کے ادارے اقوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ناٹکو کے کردار کو نظر اندا کرنا ایک ایسے سٹوڈنٹ کے لیے جو اس سروس سے براہ راست مستفید ہو چکا ہو نامکن ہے. ناٹکو کوسٹر گزشتہ تقریبا دس سالوں سے گلگت ٹو مستوج خدمات فراہم کر رہاے ہے، جس سے عوام خصوصا اسٹوڈنٹس کو سفر کرنے میں انتہائی سہولیات مل گئی ہے۔لیکن اب وقت آ گیا کہ نیٹکو سروس چترال کے دوسرے علاقوں تک بڑھادی جائے تاکہ یہاں کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات ملنے کے علاوہ سول سوسائٹی اورطلبہ وطالبات کے مطالعاتی دوروں میں بھی آسانی رہے گی۔

گلگت بلتستان کے ثقافتی و ادبی حلقوں کی طرف سے چترال کے کئی فنکاروں اور گلوکاروں کواپنے ہاں بلا کر اپنی بڑا پنی اور فراخدلی کا ثبوت دے چکے ہیں۔ اور اب گیند چترال کے ادبی تنظیموں کی جھولی میں آ گرا ہے۔ کہ ان کی طرف سے بھی ایسے دعوت نامے اور میوزیکل پروگرام منعقد کر نا ہو گاجس میں گلگت کے فنکاروں کومدغو کر کے اعتماد سازی کے لئے راستہ ہموار کرنے میں ا پنا کردار ادا کیا جائے ۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان آئین ساز اسمبلی نے حال ہی میں ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں قراقرم ہائی وے کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے گلگت چترال روڈ کو آل ویدر روڈ میں تبدیل کرکے اس کا نام ہندوکش ہائی وے رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں چترال کے اراکینِ اسمبلی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس حوالے میں بھر پور کام کرے کیونکہ اس روڈ کی بحالی سے چترال میں ٹرانسپورٹ کے مخدوش نظام بہتر ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ اس روڈ سے دونوں خطوں میں معاشی میدان میں انقلابی تبدیلی آسکتی ہے۔ 

یہاں یہ بات بھی بتاتا چلو کہ ’’ریڈیو پاکستان گلگت ٗ‘گزشتہ پانچ چھ سالوں سے کھوار زبان سے روزانہ ایک گھنٹے کی پروگرام کا انعقاد کر کے اس زبان کی ترقی کے لئے اپنے تئیں کوشش شروغ کی ہے ۔ لیکن اس پروگرام کے نشریاتی اوقات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ریڈیو کی فریکونسی بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اس کی نشریات چترال میں بھی صاف انداز سے سنی جا سکے۔ 

ادبی رسالوں اورپرنٹ میڈیا کے لحاظ سے سرزمینِ گلگت بلتستان چترال کے مقابلے میں خاصی ذرخیز ہے جہاں سے دسیوں ادبی اور سیاسی رسالے شائع ہو رہے ہیں۔ جبکہ چترال اس حوالے سے انتہائی بنجر ثابت ہوئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان سے شائع ہونے والی ان لٹریچرز کو چترال میں بھی متعارف کیا جائے تاکہ یہاں کے عوام گلگت بلتستان کے اہلِ علم کی جذبات و نظریات سے مستفید ہو سکے ،یہ بھی عرض کرتاچلو کہ جی بی کے پرنٹ میڈیا میں چترال کی کوئی خاض نمائندگی نہیں ہو رہی ہے اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ان میڈیا گروپس کو چترال اور یہاں کے صحافیوں اور کالم نگاروں کے لئے بھی spaceپیدا کرنا ہو گا ،چترال کی موجودہ پسماندگی اور گھمبیر مسائل کی سب سے بڑی وجہ میڈیا کی غیرموجودگی ہے علاقے سے ایک بھی میگزین ، رسالہ یا اخبار شائع نہیں ہو تا اس خلا کو پر کرنے کے لئے ہم گلگت بلتستان سے ادبی حلقوں کی جانب دیکھنے پر مجبور ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔