قومی یکجہتی کی ایک عظیم مثال

قومی یکجہتی کی ایک عظیم مثال

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خطے میں جاری دھرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک طبقہ واویلا مچا رہے ہیں کہ دھرنے کا کیا فائدہ ،اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا، بس یو نہی خطے میں پہیہ جام کیا ہوا ہے وفاق کی سطح پر کسی کو کوئی اثر نہیں کہ خطے میں کیا ہو رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ خطے کی کثیر آبادی اس دھرنے کے حق میں ہے۔ لوگ اسے حقوق کی جنگ سمجھ کر باہر نکلے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے ارباب اختیارابھی بھی خواب غفلت میں ہے اور بے اختیار وزراء کے ذریعے مذاکرات کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے چند باتیں قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا کیونکہ بدقسمی سے ہمارے خطے میں ہر مسائل کے منفی پہلو پر ذیادہ بحث کی جاتی ہے اور مثبت پہلو ہمیشہ لوگوں کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ یہی احوال عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے دی جانے والی اس دھرنے کا بھی ہے اس دھرنے کو بھی جیسے اوپر ذکر کیا گیاکچھ عناصر علاقیت کی شکل دینے کی کوشش میں مگن ہیں جو کہ افسوس کا مقام ہے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق یہ اجتماعی مسائل کے حل کیلئے ہے جو کہ عوام کا معاشرتی حق ہے۔یہاں چند باتیں مسلے کو سمجھنے کی خاطر خطے کی تاریخ کے حوالے سے کرنا چاہوں گا کیونکہ کہا جارہا ہے کہ یہ مسلہ وفاق نے پیدا کیا ہے اور وفاق ہی اس مسلے کا حل نکال سکتا ہے۔ گلگت بلتستان وفاق پاکستان کے ماتحت ضرور ہے لیکن آئین اور قانون کی رُو سے پاکستان کا حصہ نہیں. یہاں پر عوام کی وفاداری سے پاکستان کی حاکمیت قائم ہے یہی وجہ ہے کہ  اس خطے کے لوگ منتخب وزیرعلیٰ گورنر کے ہونے کے باوجود پاکستان کے ایوانوں اور سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ لے کر نہیں جا سکتے. گلگت بلتستان کیلئے عدالتیں بھی الگ ہیں. اس خطے کی منسٹری کو بھی کشمیر افیرز کے ساتھ لنک کرکے وزیراعظم پاکستان کی مرضی کا کوئی بھی شخص یہاں کا وزیر تعین کیا جاتا ہے اور انکے فیصلے حرف آخرسمجھے جاتے ہیں.

my Logo2009میں اس خطے کو پہلی بار داخلی خودمختاری دیکر الیکشن کرائے گئے لیکن یہ الیکشن صرف داخلی معاملات تک محدود ہے وفاقی سطح کے مسائل کیلئے واپس وزیر امور کشمیر کے دفتر کا چکر لگانا پڑتا ہے۔یوں اس خطے میں وہی کام ہو سکتے ہیں جس میں وفاق پاکستان کی رضامندی شامل ہو. یہی صور حال گندم کا بھی ہے. لوگ واویلا مچا رہے ہیں کہ مہدی شاہ سرکار اس تمام صورحال کا ذمہ دار ہے میرے خیال سے زرداری کے جانے کے بعد انکی حکومت میں اتنی جان نہیں کہ وہ اتنا بڑا قدم اُٹھا سکے. بیچارہ مہدی شاہ تو ایک چیف سکریٹری کے فیصلے کوچلینج نہیں کر سکتا تو اس اہم ایشو پر کیسے فیصلہ کر سکتاہے.اصل مسلہ وفاق ہے ۔

دوسری طرف عوام کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ اب اس دھرنے کا مقصد صرف گندم سبسڈی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ قومی یکجہتی کی ایک پہچان بن چکی ہے. عوام کی طاقت وفاق کے سامنے آ چکی ہے. جولوگ کل تک اس خطے کے عوام کو مسلکی اورعلاقائی بنیادوں پر لڑا رہے تھے ان  کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ پڑ چکا ہے. ماضی میں جب گلگت میں مختلف مسالک کے عمائدین نے ایک ساتھ باجماعت نماز ادا کیا تو اسے منافقت سے تشبیہ دیاگیا۔ آج گلگت کے گھڑی باغ اور یاد گار شہدا سکردو کے مقام پر عوام نے تمام مسلکی اختلاف کو بھلا کر ایک ساتھ باجماعت نماز ادا کر کے اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرکرکے ثابت کیا کہ ماضی کی لڑائی چند لوگوں کی سازش تھی جنہوں نے عوام کو استعمال کرکے آپس میں دست گریباں ہونے پر مجبور کیا ۔لہذا ایسے عناصر کو سوچ لینا چاہئے یہ انقلاب کی ابتداء ہے اور تاریخی کامیابی ہے جسے کسی بھی حال میں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس ابتداء سے عوام کرپشن کے خاتمے سے لیکرقومی حقوق کے حصول تک جا سکتے ہیں ۔

خطے کے عوام کو اس دھرنے کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس دھرنے نے عوام کو آئینہ دکھایا، اخوت اور بھائی چارگی کا راستہ دکھایا جمعیت کا سبق دیا لہذا یہی کامیابی ہے گندم کا مسلہ چونکہ اس ڈیمانڈ کا حصہ ہے وہ بھی انشاللہ حل ہوجائے گا۔اس مسائل کو پیدا کرنے کا مرکزی کردار وزارت امور کشمیر ہے لیکن بدقسمتی سے نواز لیگ کے رہنما ہمشیہ اپنے ہی کھودے ہوئے گھڑے میں گر جاتے ہیں کچھ ایسی ہی صورت حال وفاق میں بھی نظر آرہا ہے اور گلگت بلتستان نمایاں ہے جو کہ گزرتے وقت کے ساتھ عوام کو واضح ہو جائے گا۔

لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کے حوالے سے اس بات کا دکھ شائد گلگت بلتستان کے عوام کوہوگا کیونکہ یہ پارٹی گلگت بلتستان کی ایک محبوب پارٹی ہے بھٹو آج بھی یہاں کے عوام کی دل میں بستے ہیں اور بھٹو نے ہی یہاں کے عوام کو مقامی راجگان سے آذاد کرکے مالکانہ حقوق دیکر خطے کیلئے گندم کی سبسڈی دی تھی۔مگر جب پہلی بار ایک نظام کے تحت انکی پارٹی کو موقع ملا تو عوام کے ساتھ دغاکیا جو بھٹوازم کی خلاف ورزی ہے۔حالیہ مسائل کے حوالے محترم آغارضی الدین صاحب کاکئی بار اخباری بیاں بھی سامنے آیا کہ یہ وفاق کی طرف سے پیدا کیا ہوا مسلہ ہے اگر ایساہے انکی پارٹی کو عوام کے ساتھ شامل ہوکرکچھ مہینوں کی حکومت کو عوام کیلئے قربان کردینا چاہئے تھا۔ آپ کے بانی قائد نے تو اصول کیلئے جان دی تھی اگر آپ بھی اسی اصول پر چلتے تو گرتی ہوئی سیاسی ساکھ بھی مضبوط ہوتا اور عوام میں مزید پزیرائی ملتی ۔مگر بدقسمی سے نہ انکی مرکزی قیادت کی طرف سے کوئی بیاں آیا نہ گلگت بلتستان کی سطح پر اس بات کوسچ ثابت کرنے میں کردار ادا کیا کہ واقعی میں یہ وفاق کی طرف سے پیدا کیا ہوا مسلہ ہے۔اسکے علاوہ پاکستانی میڈیا نے اس عظیم دھرنے کو نظرانداز کرکے عوام کو مایوس کیا حالانکہ خطے میں تمام نجی چینلز کے رپورٹر موجود ہے جنہوں نے بقاعدہ ریکارڈنگ بھی کی لیکن نشر نہیں ہوسکا مقامی رپورٹرز کا اس حوالے کوئی عمل دخل نہیں ۔ایسا لگتا ہے شائد اس دھرنے کو نشریات کا حصہ بنانے سے ریٹنگ میں کمی کا کوئی خدشہ ہو ورنہ تو ہم دیکھتے رہتے ہیں کہ یہی غیر ملکی فضلہ خور میڈیا پاکستان کی سڑکوں پر خبر کی تلاش مارے مارے پھررہے ہوتے ہیں طالبانی خبریں ان کیلئے شہد سے بھی میٹھا ہوتا ہے کیونکہ وہ پُرتشددہوتا ہے جو کہ انکے  مزاج کے مطابق ہے۔

اس خطے کے عوام کی یہی خوبی ہے کہ لاشیں اُٹھانے پر بھی پُرتشدد نہیں ہوتے شائد یہی کمزوری ہے یا پاکستانی میڈیا گلگت بلتستان کی دفاعی اور جعرافیائی اہمیت سے بے خبر ہے یا میڈیا کو یہ بھی خبر نہیں کہ ہماری سرحدیں انڈیا چین تاجکستان اور افغانستان وغیرہ سے ملتی بھی ہے ہمارے ہاں بھی انقلاب کا نعرہ لگ سکتا ہے جس کیلئے بھی ذیادہ جہدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں دیامر سے راستہ بند اور گلگت بلتستان آپ سے دُور۔۔۔ ذرا سوچئے ۔

عمران خان کا اس دھرنے کے حوالے سے مثبت ردعمل سامنے آیا جو کہ اچھی بات ہے لیکن امید کرتے ہیں کہ اس مسلے کو قومی اسمبلی میں بھی اُٹھایا جائے گا۔آخر میں عوام سے امید کرے ہیں کہ مایوسی پھیلانے کے بجائے جذبہ پیدا کریں اگر ہم مثبت سوچ اور قومی جذبہ رکھتے ہیں تو یہی ایک بڑی کامیابی ہے۔ عوام کو اس سے اور بڑی اور کیا کامیابی چاہئے کہ کل تک یہی لوگ ایک دوسرے کے سامنے آنا پسند نہیں کرتے تھے آج ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنی حقوق کی جنگ کیلئے نکلے ہوئے ہیں۔ اس تمام صور ت حال سے کوئی خوش ہو یا نہ جنگ آذادی کے عظیم ہیرو کرنل مرزا حسن خان کی روح ضرور خوش ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔