زینب کے قتل کا اتوار بازار

تحریر: فدا حسین

دنیا چاند پر پہنچے تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے کیا ہم کسی سے کم ہیں ہم تو خود ہرفن مولا ہیں سو ہم اپنا نام دنیا میں روشن کرنے کیلئے ایک ہی سودئے کو اپنی اپنی دکان میں اپنے اپنے ہی انداز سے بیچیں گے کیونکہ اپنا نام دنیا میں روشن کرنے کیلئے مواقعوں کی جو بہتات ہمیں حاصل ہے وہ دنیا کی دوسری اقوام کو کہاںحاصل ؟ اس لئے ہمیں چاند جیسی مشکل جگہے پر جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔مثال کے طور پر ہم الزام تراشی کو ہی لیجے جس میں ہم پوری دنیا کو مات دے سکتے ہیں کیونکہ اس طریقے پر عمل کرنے سے نہ صرف ایک روپہ خرچ ہوئے بغیر دوسروں کی پگڑی اچھالنے کا موقع ہی نہیں ملتا بلکہ اکثر اوقات روزی روٹی کا بندوبست ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری کی لیڈری کا شوق بھی پورا ہو جاتا ہے ،یقین نہیں آتا ہے تو شہاب نامے میں ڈپٹی کمشنر کی ڈائری میں سے” اب مجھے رہبروں نے گیرا ہے “کا مطالعہ فرما لیجے جس سے نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ لیڈری کا فن بھی آئے گا۔ جس وقت ہلاکو خان کی طرف سے بغداد کی تخت و تارج کے وقت علماء کرام کا کوئے کی چونچ پاک ہونے یا نہ ہونے کی بحث میں مشغول ہونے کا تاریخی واقعہ نظر گزراتھا تو اس پریقین تو آیا تھا مگر وہ یقین صرف انہی علماء کرام تک ہی محدود تھا جو محض فقہی مشگافیاں سلجھانے اور اپنی اپنی علمی دھاگ بیٹھانے میں مگن ہوتے ہیں، دوسرئے لفظوں میں اپنے ہی فرقے کونہ صرف دوسرئے فرقوں سے بلکہ دیگر تمام مذاہب سے بالا تر ثابت کرنے جیسے “کار خیر “میں گزار دیتے ہیں اس کے برعکس  ہمارئے معاشرئے کے سفید پوش یا امراء  طبقے( جنہیں روشن خیال بھی کہا جاتا ہے) کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ تومحض انسانیت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں تاہم افسوس کہ ہماری یہ دونوں گمانیوں یعنی خوش گمانی اور بدگمانی کی عمارت مہندم ہوا چاہتی ہے۔اس میں کیا “ملا “کیا “بابو” کیا “رجعت پسند” کیا” روشن خیال” سب نے اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا رکھی ہے الزام محض مولویوں پر ہے۔اس وقت ننھی زینب کا ریب کے بعد اس کے قتل کا چرچہ گلی محلے سے لیکر پارلیمنٹ تک ہے مگر اس پر سب لوگ اپنی اپنی دکان چمکانے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ ہمیں اس بات کا اندازہ  نیشل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ہونے والے احتجاج کو کوریج کیلئے پہنچنے پر ہوا ،ایسا لگ رہا  تھاجیسے ہم اتوار بازار میں آلو پیاز لینے کے لئے آئے ہوں کہیں پر تحریک انصاف، تو کہیں پر آل پاکستان مسلم لیگ ،تو کہیں سماجی کارکنان مگر وہ بھی دوگرہوں میں بٹے ہوئے تھے،تاہم ان سب کا مقصد سب ایک ہی تھا کہ زینب کے قاتل کو کیفر کردار تک پہچانے کیلئے حکومت ِوقت پر دباؤ ڈالنا ہے،مگر اس موقع پر بعض لوگون کا خیال تھا کہ زینب کے قتل کے معاملے پر شہباز شریف اور انا ثنااللہ سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ سیاسی ہے جبکہ دوسرا گروہ کسی طور پر ان دونوں شخصیات کو حکومت میں رہنے کا جواز کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھا ۔ قتل جیسے معاملے پر ایک نقطہ نظر اختیار کرنے سے عاری ہونے پر ہمیں محترم حافظ حسین احمد صاحب بہت یاد آئے جو کہتے ہیں ہم لوگ ایک پیچ پر ہونا تو دور کی بات، ایک لائبریری میں بھی نہیں ہیں ایسے میں صرف مولویوں کو فرقہ بازی کا طنہ دینا چی معنی دارد؟ اس پر تو ننھی زینب کا قاتل یہ کہہ کر ضرور ہنس رہا ہوگا کہ” سالے چلے ہیں مجھے سزا دلوانے خود تو ایک جگے پر ہو کر بھی ایک ہی پلٹ فارم پر آنے کیلئے تیار نہیں”۔ اس لئے اب ہم زینب کے قاتل کے ساتھ مل کر ایک اور زینب کے قتل کاانتظار کریں گے تاکہ ہمیں دوسری زینب کے قتل کا اتوار بازار کے نظارئے کا موقع مل سکے ۔و ما علینا الا البلاغ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments