بیداری کی لہر

بیداری کی لہر

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج  کے اس کالم میں   گلگت بلتستان کی کاغذی  صوبایٗ حکومت کے اختیارات اور  مرعات یافتہ  غلاموں کی گندم کار ستانیوں پر کچھ  روشنی ڈالنے  کا ارادہ تھا مگر اس خیال سے کہ اب عوام جاگ چکی ہے اور وہ  ابھی تکپس پردہ  ساری کہانی سے باخبر ہوےٗ ہونگے ۔۔یہ سوچ کر اس موضوع کو ذہن سے جھٹک دیا  ۔گندم سبسیڈی کی  آنکھ مچولی میں جو کچھ ہوتا رہا اس سے سب ہی باخبر ہیں  میں  تفصیل میں جاےٗ بغیر یہ بتادوں   کہ ایک دوسرے کو زیرو کرنے والے اور ہیرو بننے   کے چکروں میں مرعات یافتہ غلام  یہ  بھول گےٗ کہ  جس طاقت نے انہیں  فرش سے اٹھا کر تخت پر بٹھایا  ہے  وہی طاقت  طوفان بن کر ان سے ٹکرانے والی ہے اور  ہوا  بھی ایسا ہی وہ طاقت  اچانک اور اس انداز سے اٹھی    کہ ایک دوسرے کو زیرو کرنے والی  اے  اور بی ٹیم کے ہیروز کو پریشانی لاحق ہویٗ  کہ ایک سویٗ ہویٗ قوم میں اچانک یہ بیداری  کیسی آگیٗ ؟ کس نے جگایا اس مردہ  اور زندہ لاش کو؟ ۔کون ہے وہ بد تمیز جس نے   ہماری عیاشیوں کو خاک میں ملانے کی کوشش کی ہے؟ ۔ کون ہیں وہ لوگ جنہوں نے   اس مردہ لاش میں زندگی ڈال دی ہے؟۔۔۔

hidayatیہی وہ سوالات تھے جونہ صرف  یہاں کے کٹھ پتلی صوبایٗ اسمبلی کے ٹھکیداروں کے ذہنوں میں ابھرےجنہوں نے  آقاوٗں کے اشاروں  پر یہاں ایسی کھلبلی مچا دی کہ توبہ ہی بھلی۔۔جب چاروں اور رشوت کا بازارگرم ہو۔اقربا پروری کا دور دورہ ہو، میرٹ کی دھجیاں اڑایٗ جا رہی ہوں اور  معاشرے کے ہر نکڑ پر انسان کے روپ میں اژدھے پھن پھیلاےٗ کھڑے ہوں ،تو ایسے میں ان ہیروز اور مرعات یافتہ غلاموں کو   کون سمجھاےٗ کہ جناب  یہ  کویٗ اور نہیں  یہ آپ ہی کے کرتوت ہیں جس نے یہاں کی سویٗ ہویٗ قوم کوخواب غفلت سے جگایا ہے اور ان کے اندر بیداری کی لہر اٹھی ہے ۔۔۔   گنتی میں نہ آنے والی یہ صوبایٗ اسمبلی  گنتی میں کیوں نہیں آتی اور اس کی  گنتی میں نہ آنے کی وجہ سے بھی  آپ سب واقف ہیں۔۔۔ اس نام نہاد  جی بی اسمبلی کے  ٹھکیدار یہ بھی کہینگے کہ ہمارے ایسے کون سے کرتوت  ہیں  جو   اس عوامی طوفان  کا  پیش خیمہ ثابت ہوےٗ ۔ ارے بابا ایک ہوں تو بتاءیں  یہاں تو دفتر کا دفتر کھلا پڑا ہے  ۔۔گنوانا شروع کریں تو قرطاس کے قرطاس بھرجاءیں ۔ گند م سبسیڈی  تحریک نے اس صوبایٗ اسمبلی کا ڈھول کا پول کھول دیا  ہے  اب کسی ثبوت کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی  جی بی صوبایٗ  اسمبلی کے وزیر اعلیٰ اور وزیروں کی حثیت  گریڈ سترہ اور سولہ کے آفیسروں سے زیادہ نہیں  بلکہ  ان سے بھی کم  اگر ان کے اندر  کچھ دم ہوتا  تو بے چاری عوام کو گیارہ روز تک سڑکوں میں بیٹھنا  نہ پڑتا ۔انہوں نے تو پورے پانچ سال  اپنی عیاشیوں کا سامان پیدا کرنے کے لیےٗ جی بی کے سارے اداروں کا بیڑا غرق کرنے کا کویٗ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔۔ چھوٹے کاموں سے لیکر میگا پراجیکٹس  میں ہاتھ صاف کیےٗ ۔سکیورٹی کے نام پہ  عوام  کی جان مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے بجاےٗ  عوام  کو غیر محفوظ کر دیا نہ صرف غیرمحفوظ کردیا بلکہ ایک ہوایٗ سفر کی راہداری  جو محفوظ سمجھی جاتی  ہے  اسکی رسایٗ بھی عام آدمی کی دسترس  سے بہت دور کر دیا  اور جو ہمت کرکے اس سواری  پر سواری کرنے کا ارادہ  کرتے ہیں ان کی سواری کی خواہش  بھی ان مرعات یافتہ غلاموں  کی بندربانٹ سے پوری نہیں ہو پاتی اور وہ  بے چارےصرف ہوایٗ جہاز کا دیدار کرکے  اءیرپورٹ سے بے ابرو  مڑتے ہیں  بقول شاعر

 بہت بے ابرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

ابھی تو پی آیٗ اے کی سبسیڈی کا ایشو تو عوام نے چھیڑا ہی  نہیں ٹھکیداری سسٹم پر چلنے والی یہ اسمبلی  عوام کے دکھ درد کم کرنے کے بجاےٗ عوام کے لیےٗ ایک درد سر بن چکی ہے  ٹھکیداری  کا یہ لفظ میں نے اس  لیےٗ استعمال کیا ہے کہ اس صوبایٗ  اسمبلی میں اکثریت ان لوگوں کی ہے   جو ممبری سے پہلے ٹھکیداری کے پیشے سے منسلک  تھے کچھ تو اب بھی ممبری کے ساتھ ساتھ  ٹھیکے ہی چلاے ہیں۔ یعنی سونے پہ سہاگہ ۔قارءین آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھراہوگاآ کہ ٹھکیداری تو ایک پیشہ ہے اس میں ہرج کیا ہے ۔۔لیکن دوسری طرف آپ یہ بھی دیکھ لیں کہ کمیشن کھلانے والے  پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگ  عوام کی کیا خدمت کرسکتے ہیں اور اس کمیشن خوروں کو  آپ نے گند م سبسیڈی کو ختم کرنے اوراس کی بحالی تک کی تحریک میں  ملاحظہ کیا ہے  باقی اداروں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔۔ اسی طرح  ٹھیکے مکمل نہ کرنے والے ٹھکیداروں کوآداءیگیاں  اور کام پورا نہ کرنے ولاوں پہ ہاتھ رکھنا ، سیلاب فنڈ اور جعلی ڈیم کے ناموں پر اپنی تجوریاں بھرنا  بیس ہزار روپے تنخواہ پانے والے ملازمین  کی جوٹیال اور اسلام آباد میں کروڑوں کی جاءدادیں، ثقافت کے نام پر ثقافت کو برباد کرنا اور ثقافتی وصحافتی طاءفوں کے بغیر کسی جواز کے  غیر ملکی دورے  تو  دوسری طرف یہ لفظ اس ٹھیکے کی بھی نشاندہی کرتا ہے  جس کو بنیاد بنا کر یہ لوگ یہاں پہنچے یعنی ان میں کیٗ لوگ مذہبی ٹھکیدار ہیں  کیٗ لوگ قومیت اور بردری ازم کے ٹھکیدار ہیں  غرض  جس زاویے سے بھی آپ دکھینگے ٹھکیداری کا عنصر ہی غالب ہے  ایسے حالات میں ان کا یہ کہنا کہ اس مردہ قوم میں جان کیسی آیٗ  کیسا احمقانہ سوال لگتا ہے۔۔۔ کیا نا اہل حکمرانوں کے یہ  کرتوت اس سویٗ ہویٗ قوم کو جگانے کے لی کافی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔   مرعات یافتہ  غلا مو  یہ جان لو کہ یہ بے جان قوم اب صحیح معنوں میں جاگی ہے  اب یہ سویٗ گی نہیں  بلکہ جاگتی رہیگی  اور انکی یہ سیاسی اور معاشرتی بیداری  ہر موجودہ اور آنے والے  کرپٹ  ممبران اور بیروکریسی کے کرتوتوں پر کڑی نظر رکھے گی اب ان کی سوچ میں ایک تبدیلی آیٗ ہے  جس کا ثبوت حالیہ دھرنوں کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی  گلگت بلتستان  کے وفود کا چلاس، بلتستان  اور ہنزہ میں شاندار استقبال اور سارے فرقوں کا مل کر  ایک دوسرے  کے اضلاع کا دورہ کرنا بیداری کی لہر  کی ہی  نشاندہی کر تی ہے۔۔ اب اتحاد کا یہ دریا رواں ہو چکا ہے  جو انشااللہ چلتا رہیگا اور اب اس اتحاد کے دریا کو روکنے والے لاکھ  کوشش کریں  نہیں روک پاءینگے  انگریزوں کی لڑاوٗ اور حکومت کرو کی پالیسی بھی اب ان  کرپٹ حکمرانوں اور کمیشن خوروں کے  کام نہیں آنے والی اب  لوگ سمجھ گےٗ ہیں ۔ جس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ  شیڈول سے پہلے جشن بہاراں پولو ٹورنامنٹ  اور اس پولومیچ میں ایک جھگڑے کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوشش کی گیٗ۔۔۔ لیکن  مرعات یافتہ غلام اس میں  ناکام ہوےٗ  اور امید یہی ہے کہ عوام اپنے شعور اور  بیداری کا  ثبوت دیتے ہوےٗ آءندہ بھی  ایسے واقعات کو ناکام بنا دینگے  جو  ہمارے اتحاد کو پارہ کرتے ہوں   ۔دھرنوں کے بعد جو فضا بنی ہے  اس سے یہی اندازہ ہو رہاہے کہ  گلگت بلتستان  کے  مظلوم عوام  یہ سوچ رہے ہین کہ یہ بھی انسان ہیں  انکے بھی ارما نوں کے شہر ہیں  جنہیں یہ آباد دیکھنا چاہتے ہیں  ان کی بھی ارزوٗں کی دوشزاءیں ہیں  جنہیں یہ عروسی لباس میں دیکھنا چاہتے ہیں  انکے بھی کچھ تمناوٗں کے کنول ہیں  جنہیں یہ سطح آب پر تروتازہ  دیکھنا چاہتے ہیں  یہ عوام  یہ بھی چاہتے ہیں کہ انکی ایک کشتی ہو  جس کا ڈھانچہ  محبت کے تختوں  اورچپو اخلاص کی لکڑی سے بنے ہوےٗ ہوں  اوروہ ایک ایسی فضا کے متمنی ہیں  جس کی فضا  محبت کی  کی خوشبو سے پھیلی ہو  اورجب ایسی سوچ جاگ جاتی ہے تو انقلاب آہی جاتے ہیں اور غلامی کی زنجیریں  کٹ جاتی ہیں۔۔مجھے امید ہے کہ عوام کی بیداری کی یہ لہر برقرار رہیگی اور عوام اپنی اس بیداری کی لہر کو اتحاد کے سمندر میں  تبد یل کر کے جی بی کوامن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار بھر پور  طریقے سے نبھاءینگے

یہ جو پر شکستہ ہے فاختہ یہ جو زخم زخم گلاب ہے

یہ ہے داستاں میرے عہد کی جہاں ظلمتوں کا نصاب ہے

جہاں ترجمانی ہو جھوٹ کی جہاں حکمرانی ہو لوٹ کی

جہاں بات کرنا محال ہو وہاں آگہی بھی عذاب ہے

میری جان ہونٹ بھی کھول تو کبھی اپنے حق میں بول تو

یہ عجیب ہے تیری خامشی نہ سوال ہے نہ جواب ہے

————————————————————————

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments