گلگت اسمبلی،مخلوط نظام تعلیم اور قراقرم یونیورسٹی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج کل گلگت بلتستان میں ایک بحث طول پکڑ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں گلگت اسمبلی میں ارکان اسمبلی نے قراقرام انٹر نیشنل یونیورسٹی میں مخلوط نظام تعلیم(Co-education) کو علاقائی رسم و رواج اور تہذیب و تمدن اور روایات کے متصادم قرار دے کر قراقرم یونیورسٹی میں طالبات کے لیے الگ کیمپس بنانے کی تجویز پیش کی۔اسمبلی میں تمام اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ واقعی طالبات کے لیے الگ کیمپس ہونا چاہیے۔ آمنہ انصاری نے تو یہ تجویز بھی دی کہ ہر ضلع میں طالبات کے لیے ایک کیمپس بنا یا جائے۔ جیسے ہی یہ خبر اخباری دنیا سے نکل کر عوامی دنیا میں آئی تو ایک نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوئی۔ ہر ایک نے اپنی دانست کے مطابق اس موضوع پر لب کشائی کی اور کچھ نے تو ہرزہ سرائی تک بھی کی۔دل میں سوچا کہ کیوں نہ مختصراً اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جائے۔ سچ یہ ہے کہ یہ موضوع تفصیل طلب ہے۔آج کی محفل میں مخلوط نظام تعلیم پر چند مختصر گزارشات پیش خدمت ہیں اس امید کے ساتھ کہ آپ سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔

haqqani finalیہ حقیقت تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ مخلوط نظام تعلیم مغربی استعماری اثرات کی پیداوار اور سماجی مسائل کا ایک اہم پہلو ہے۔تعلیم ایک سماجی عمل ہے اورقومیں اپنی سماجی اعمال سے ہی پہچانی جاتیں ہیں۔ ہمارے ہاں مخلوط تعلیم کے نام سے ہمارے اس سماجی عمل کا جنازہ نکالا گیا ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم ذہناً، فکراً اور عملاً سیکولر بن چکے ہیں۔ ہماری اقدار ملیامیٹ ہوچکی ہیں، مسٹر اور مُلاکے نام سے جو تفریق گزشتہ ڈیڑھ صدی میں پیدا کی گئی ہے اس کا پاٹنا ناممکن نظر آرہا ہے۔ مرعوبیت نے ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دیا ہے۔لادینی مغربی تصور علم و نظام تعلیم جو ہمارے لیے قطعاً غیر موزوں ہے نے ہمیں اوج ثریا سے زمین پر دے مارا ہے۔ ایک زمانے میں مغربی دنیا میں دو قسم کے تعلیمی ادارے تھے۔سرکاری تعلیمی ادارے اور چرچ کے تعلیمی ادارے۔ سرکاری درسگاہوں میں تو مخلوط تعلیم تھی مگر چرچ کے تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم نہیں تھی اور مزے کی بات یہ تھی کہ چرچ کے تعلیمی ادارے معیار تعلیم و تربیت کے اعتبار سے سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ بہتر اور اشرافیہ و حکمران طبقے کے لیے زیادہ کشش کا درجہ رکھتے تھے۔اسٹریلیا کا 1983ء تک یہی حال تھا۔

اس بات میں بھی دو رائے نہیں کہ تمام آسمانی مذاہب میں مخلوط تعلیم کی کوئی گنجائش نہیں۔اسلام سمیت عیسائیت و یہودیت مخلوط نظام تعلیم کی فکری ، نظری اور عملی پہلوں سے سخت تر مخالف ہیں۔الحمدللہ، مجھے اس موضوع پر کافی تفصیلی مطالعہ کا موقع ملا ہے۔ اس مختصر کالم میں ان تمام مسلم اور غیر مسلم تعلیمی ماہرین کی آرا کو جگہ دینے کی گنجائش تو نہیں مگر کوشش کرونگا کہ چند ایک کے حوالہ سے اپنی بات مکمل کروں۔جان میکلاسکی(Jan Michalski) نام کے ایک عیسائی ماہر تعلیم ہے۔ ان کے مطابق سماجی و خاندانی نظام زندگی اور مختلف اصناف میں کافی ساری تفریق پیدا ہوئی ہے ،ہم جنسی تعلقات کو باقاعدہ شادی کا درجہ دیا گیا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عورت عورت نہیں رہی اور مرد مرد نہیں رہا جس سے خاندانی زندگی کا شیرازہ بکھرتا گیا ہے۔ اس نظام میں پلنے والی نیوجنریشن ڈرگ کا استعمال،خمر کا عادی ، خود کشی، شادی سے قبل حمل،پھر اسقاط حمل،زنا بالجبر جیسے ناروا کاموں کا موجب بنتی ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ مخلوط نظام تعلیم ہے۔یہ مخلوط نظام تعلیم فطری قوانین کے عین خلاف ورزی ہے اور اسی مخلوط تعلیم کے برے اثرات پورے سماج میں پھیل جاتے ہیں۔ اس نظام کا کوئی علاج نہیں بجز اس کے اس کی مکمل بیخ کنی کی جائے۔علامہ ابن حزم ایک مشہور اسلامی اسکالر ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب طوق الحمامہ میں اس طرح کی مخلوطی نظام پر خوبصورت گفتگو کی ہے۔ مخلوط نشستوں سے ابھرنے والے عوارض و اسباب کے سلسلے میں لکھتے ہیں کہ مخطوط مجالس اسلامی دنیا کے لیے اجنبی ہیں اور ان مخلوط مجلسوں سے ایسے رویہ پیدا ہوتے ہیں جو اسلامی سماج تو کیا کسی بھی مہذب سماج کے لیے ناقابل برداشت ہوتے ہیں۔اور اگر ہم سیکولر یا لبرل نقطہ نظر سے بھی جائزہ لیں تو یہ بات باسانی سمجھ آجاتی ہے کہ مخلوط نظام تعلیم سے بہت سارے نفسیاتی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل وجود میں آتے ہیں جو گھمبیر ہونے کے ساتھ فساد کا موجب بھی بنتے ہیں۔مخلوط نظام تعلیم سے پیدا ہونے والے چند نقصات کا ذکر مناسب لگتا ہے۔ اس نظام سے طلبہ و طالبات مطالعاتی انتشار(Study distraction)، جنسی بے راہ روی،طالبات کی تعلیمی حق تلفی،خاندانی نظام کی تباہی، والدین کا اولاد پر عدم کنٹرول، طلاق کی بڑھتی شرح، ٹوٹے گھروں اور خاندانوں کے نہ ختم ہونے والے مسائل،معاشرتی و سماجی انتشار، اکیلی ماؤں کاکلچر،عدم برداشت،شوہرکو غلام سمجھنے کی روش،مخلوط کلاس میں استاد(مرد/ عورت)کا بعض موضوعات کھل کر بیان نہ کرنا اور ان جیسے ان گنت مسائل ہیں جو بڑھتے چلتے جاتے ہیں۔ڈیئر قارئین! ایمانداری سے بتاؤ کہ ہمارے مخلوط نظام تعلیم میں کیا وہ سب کچھ طلبہ و طالبات کر نہیں گزرتے جو انہیں انڈین فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ رہی بات انٹرنیٹ کی جھولانیاں۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ گناہ سمجھ کر نہیں بلکہ فیشن سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے۔

سماجی و معاشرتی زندگی میں عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑادیکھنے اور لڑکی اور لڑکے کو باجود صنفی اختلاف کے ایک کلاس روم اورایک یونیورسٹی میں تعلیم دلوانے والوں سے گزارش ہے کہ وہ قرآن کریم سے معلوم تو کریں کہ وہ کیاارشاد کرتا ہے: ’’ولا تتمنوا ما فضل اللہ بِہ بعضکم علی بعض، لِلرِجالِ نصیب مِما اکتسبوا ولِلنِساِ نصِیب مِما اکتسبن، واسئلو اللہ مِن فضلِہ ان اللہ کان بِکلِ شی علِیم ‘‘یعنی اللہ تعالی نے تم میں سے ایک دوسرے کو جو فطری برتری عطا فرمائی ہے، اس کی تمنا مت کرو! مردوں کے لیے ان کے اعمال میں حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کے اعمال میں اور اللہ تعالی سے اس کا فضل وکرم مانگتے رہو، بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔(سورہ، نساء آیت نمبر ۳۲)

ہم نے غریب مُلا کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ گردانا ہوا ہے جو قطعا غلط ہے۔اس مخلوط نظام کی مخالفت صرف مُلا نے نہیں کی ہے بلکہ خدا، تمام انبیاء اور محمدرسول اللہ سے لے کرمصر کا جدید تعلیم یافتہ سید قطب، ہندوستان کے لسان العصر اکبر آلہ آبادی اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے جس قوت اور دلیل کے ساتھ اس نظام کی مخالفت کی ہے اور دلائل و براہین کے انبار لگائے ہیں وہ غریب مُلا کے حصے میں کہاں آئے ہیں۔اور تو اور گلگت اسمبلی کے تمام مسٹروں نے بھی اس مخلوط نظام تعلیم کو اپنا کلچر، روایات اور تہذیب و تمد ن کے برعکس قرار دے کر غیر مخلوط نظام تعلیم کا مطالبہ کردیا۔علامہ اقبال نے متعدد مقامات پر مخلوط سوسائٹی اور مخلوط طریقہ تعلیم پر انتہائی نفرت وبیزاری کا اظہار کیاہے؛ چنانچہ ضرب کلیم میں ارشاد فرماتے ہیں۔ دل تھا م کر سن لیں۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق ومحبت کے لیے علم وہنر موت

اس حقیقت میں بھی ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ اسلام نے عورتوں کی تعلیم پر قدغن لگایا ہے۔ بلکہ اسلام اول دین ہے جس نے نہ صرف عورتوں کی تعلیم کی اجازت دی بلکہ میرے ناقص مطالعے میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ فاطمۃ الزھرۃؓ بہت بڑی عالمات و فاضلات تھیں اور اگر ان دونوں کا علم حدیث و قرآن اور فقہی مسائل کو الگ کردیا جائے تو دین اسلام کے کئی اہم پہلو تشنہ لب رہیں گے۔اور اسی طرح جماعتِ صحابیات اور بعد کی مسلم خواتین میں بلند پایہ اہل علم خواتین کے بے مثال ذکر سے تاریخ اسلام کا ورق ورق بھرا پڑا ہے؛ چنانچہ یہ بات بھی قا بل ذکر ہے کہ امہات المومنین میں حضرت عائشہ وحضرت ام سلمہ فقہ وحدیث و تفسیر میں رتبہ بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق و تدقیق ودرایت کے میدان کی بھی اعلیٰ ذوق رکھتی تھیں۔علامہ ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الاستعیاب میں حضرت ام سلمہ کی صاحبزادی زینب بنت ابوسلمہ جوسید العلماء جناب رسول اللہ کی پروردہ تھیں کے متعلق لکھا ہے کانت افقہ نساِ ہلِ زمانِہا، یعنی وہ اپنے زمانے میں سب سے بڑی فقیہہ تھیں۔اسلام صرف طریق کار کی مخالفت کرتا ہے، تعلیم و تدریس کی قطعا نہیں۔ اور اسلام نے تمام جدید علوم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے اپنی معروف کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں ’’باب العلوم المستنطہ من القرآن‘‘ کی ذیل میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں بہت ساری آیتوں سے مختلف علوم مستنبط ہوتے ہیں۔اس کی تفصیل درج بھی کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خالص دینی علوم کے ساتھ رائج الوقت تمام ضروری علوم کی نہ اجازت دی بلکہ اپنے زمانے میں ان کی تدریس و حصول کو بھی ممکن بنایا اور بعد میں تمام اسلامی خلفاء کا بھی یہی حال رہا۔

بہر صورت بات نکلی تھی گلگت اسمبلی کے مطالبے پر ، کہ قراقرام یونیورسٹی طالبات کے لیے الگ کیمپس بنائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تقریبا ناممکن ہے۔کیونکہ ہمارا معاشرہ(بشمول حکومت و ریاست) کوایجوکیشن کے دلدل میں سر تا پا دھنس چکا ہے۔الگ کیمپس کے قیام کے لیے بہت ساری دشواریوں کے ساتھ ایک بڑا بجٹ بھی انوال ہے۔ ہاں اگر گلگت اسمبلی، وزیر اعلی و گورنر،فورس کمانڈر، چیف سیکرٹری،وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی اور یونیورسٹی سینٹ ایک پیج پر جمع ہوجائے اور ہر ایک مخلصی سے کردار ادا کریں تو طالبات کے لیے الگ کیمپس بنانا بہت ہی سہل کام ہے۔ اس صورت میں صدر پاکستان اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری بھی آسانی سے لی جاسکتی ہے۔خاندانی نظام اور سماجی و اسلامی روایات کا جنازہ نکلنے سے پہلے مثبت اسلامی سوچ رکھنے والا ایک طبقہ قوت کے ساتھ تحریک چلا کر ان تمام حکومتی و ریاستی اتھارٹیز کو مجبور کریں اور والدین کو بھی مخلوط نظام تعلیم کی تباہ کاریوں سے روشناس کرائیں تو بعید نہیں کہ گلگت بلتستان کی خواتین کے لیے الگ تعلیمی ادارے قائم نہ ہوں۔اور ہمارے مردوں کے ساتھ خواتین بھی علم نافع سے مستفید ہوسکیں۔ آئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیاری دعا کے ساتھ اپنی بات کی تکمیل کرتے ہیں۔ ’’ اللہم انی اعوذ بک من علم لاینفع و من قلب لا یخشع‘‘۔ یعنی اے پروردگار عالم! میں پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نافع نہ ہو اور اس قلب سے جو اللہ سے ڈرنے والا نہ ہو‘‘۔اگر کوئی صاحب اس بحث کو مزید آگے بڑھانا چاہیے تو میں اس پر تفصیل سے لکھنے کے لیے خوشی محسوس کرونگا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

10 تبصرے “گلگت اسمبلی،مخلوط نظام تعلیم اور قراقرم یونیورسٹی

  1. The problems mentioned in this article are not direct cause of co education. respected columnist tried impose his own belief over a state governed institute. His column shows that men has all right to choose either sin or piety but women has only option to act piteous.
    No doubt there are multiple and complex problems exist in society but claiming these problems arouse from coeducation without any reference to proven research or a study is ridiculous. Thats the reason one should study before he writes. said by anonymous

  2. میں آپ کی رائے سے اتفاق کر سکتا ہوں، مجھے بس آپ ہی کی طرح فرض کرنا پڑے گا کہ عورت انسان نہیں بس مرد کے پہلو میں سجا جنسی کھلونا ہے،جس کا مقصد مرد کی تفریح طبع کے سوا کچھ نہیں۔۔۔

  3. بھیا عورت انسان نہیں بلکہ عظیم انسان ہے مگر جنس بازار بنانے کی کویی ضرورت نہیں، بھایی زمان صاحب اگر اپ نے میرا کالم پڑھا ہوتا تو اپ کو معلوم ہوتا، کاش اپ لوگ عورت کو عورت سمجھتے ۔ میری ماں میری بہن اور میری بیوی میرے لیے سب کچھ ہے مگر میں یہ قطعا نہیں چاہتا کہ ان میں کویی بھی کسی اجنبی کے گود میں سرد دے کر سارا دن گپ لگاتی رہے اور ساتھ ساتھ گُل بھی کھلاتی رہے، اگر کویی ایسا کرنا چاہتا ہے تو اس کو مبارک ہو

  4. co education kae khilaf honae or women koo kamzor r sheytaan sabit krnae sae pehlae education koo zara samjtae hea …… agr buraa naa mano tooh education kae baad co education aata hea ……..

  5. ﮔﻠﮕﺖ ﺑﻠﺘﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺎﻟﺞ ﮐﺎ
    ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺐ ﺗﮏ ؟؟
    ﺍﯾﻒ ﺍﯾﺲ ﺳﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﻠﮕﺖ ﺑﻠﺘﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ
    ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﻃﻠﺒﺎﺉ ﭼﻨﺪ ﻣﺨﺘﺺ ﺳﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﯿﻠﺌﮯ
    ﺭﺳﮧ ﮐﺸﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ! ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﮐﯽ
    ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺻﺮﻑ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﻣﯿﮟ 500
    ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﺮﯼ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯼ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﯿﺮﯾﻨﮓ ﮐﮯ ﻃﻠﺒﺎﺉ
    ﻭ ﻃﺎﻟﺒﺎﺕ ﺩﺍﺧﻞ۔
    ﮐﯿﮉﭦ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮑﺮﺩﻭ،، ﭘﺒﻠﮏ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺍﯾﻨﮉ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮑﺮﺩﻭ
    ﻭ ﮔﻠﮕﺖ، ﺍٓﻏﺎﺧﺎﻥ ﮐﺎﻟﺠﺰ، ﺍﺳﻮﮦ ﮐﺎﻟﺠﺰ، ﺍﻗﺮﺍﺉ ﮐﺎﻟﺞ،
    ﻣﯿﺰﺍﻥ ﮨﺎﺳﭩﻞ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻧﺎﻣﯽ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻭ ﮐﺎﻟﺠﺰ
    ﮐﮯ ﻃﻠﺒﺎﺉ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﻣﺎﮦ ﮐﯽ ﭨﯿﻮﯾﺸﻦ ﻓﯿﺲ ﻓﯽ ﻧﻔﺮ
    30000 ﮬﺰﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻭﺳﻄﺎ
    ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ 15000 ﺭﻭﭘﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﯿﮟ ( ﺩﻭﺭ
    ﺩﺭﺍﺯ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﺍٓﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
    ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﯿﻠﺌﮯ
    ﺭﺟﺴﭩﺮﯾﺸﻦ، ﺳﻔﺮ ﻭ ﻗﯿﺎﻡ ﻭ ﻃﻌﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺍﻧﮑﮯ
    ﻋﻼﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻓﯽ ﻧﻔﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﺑﻨﺘﺎ
    ﮨﮯ!!!( ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺗﯿﻦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮔﻠﮕﺖ ﺑﻠﺘﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ
    ﻃﻠﺒﺎﻉ ﻭ ﻃﺎﻟﺒﺎﺕ ﺍﺗﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ
    ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺮﻭﻓﯿﺸﻨﻞ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺑﺠﭧ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
    ﮔﻠﮕﺖ ﺑﻠﺘﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺸﻮﺭﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺍﮨﻞ
    ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺍﻥ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﮯ ﺑﮩﺮﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ
    ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔ ﺍٓﺧﺮ ﮐﺐ ﺗﮏ ؟

  6. baz logu ko intini takaleef q horahi hai ya bahot hi acha addam hai makhalut nazamay taleem par inta shor q macha rah hain gilgit ko gilgit hi rahny doh europ ya russia banay ki koshis na kiya jaya aaj kal gilgit mea baz log jo apny ap ko baki tama logu sy talimyafat aur intahigh secular bana k pash kr rah hain wo akmaku ki janat mea rahtay hain ham is kasam ki Secularism par lanat bajtay hain aur un dost u sy guzaris hai ya kam ap apnay gar sy suru karo phalay apnay garu aur apni aurtoo ko b lawo apnay Secularism par raat bar gandi filimay dak kr suba shariyat nafiz karo wali harkatay na karay.

  7. حیرت ہے کہ عورتوں کو نظروں سے دور رکھ کر ان کا “احترام” کرنے کی خواہش رکھنے والے اپنی آنکھوں اور اپنے حواس کو قابو میں رکھنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ آجکل کے علما اور انکے چیلے دین سے زیادہ سیاست کے پیچھے پڑے ہیں۔ دین کا جوہر ہر گز وہ نہیں جو ہمیں بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چونکہ بہت بڑی تعداد میں “علما” کی ایک کثیر تعداد ایک ہی غلط تشریح بیان کیے جارہا ہے، اور اسی لیے یہ لوگوں کی اکثریت کو سچ اور حق معلوم ہوتا ہے۔

    ہمارے علما کے بارے میں حقیقت یہی ہے کہ یہ اصلاح کے نام پر بھی سیاسی و گروہی مباحث کو آگے بڑھا رہے ہوتےہیں اور حقیقی اصلاح سے دور بھاگتے ہیں۔ کفر کے فتوے جیب میں رکھ کر، یا کم ازکم دل میں چھپا کر، ابں تیمیہ کی تکفیری تعلیمات کو دین حق سمجھنے والے خرد بیزار خود ساختہ علما اپنے گریبان میں جھانکنے کے لئے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔

    نیز یہ کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے کچھ عدسے ایسے نصب کئے ہیں جن سے انکو ہر چیز ایک ہی رنگ میں نظر آتی ہے۔ انکی بدنصیبی یہ ہے کہ انہیں عدسے بدلنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ ان کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ عقل کا استعمال کم سے کم ہو، جبکہ سلف کی تقلید زیادہ سے زیادہ ہو۔

    کوئی مانے یہ نہ مانے ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے ساتھ اتنی جنسی زیادتی نہیں ہوتی جتنا لڑکوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایسا کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف مسجد و مدرسے کے علما اور طلبا اس فعل قبیح میں ملوث ہیں، بلکہ یہ بھی ثابت شدہ ہے کہ شہر کے چوراہوں، مکئی کے کھیتوں، ورکشاپ کی دکانوں، ہوٹلوں، حتنی کہ بعض سرکاری سکولوں میں بھی طلبہ کے ساتھ زور آور اور بے غیرت قبیل کے افراد جنسی زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن مجال ہے ان علما کی کہ اس پر بھی آواز اُٹھائے۔

    آپ کے نظریے کے مطابق اگر لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ الگ رکھا جائے تو انکی عصمت محفوظ رہیگی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر تاریخ سے ایسا کیوں ثابت ہوتا ہے کہ سکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بننے سے پہلے بھی جنسی جرائم اور غیر ازدواجی جنسی ملاپ زوروں پر تھا۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا تو آپ کی معلومات محدود ہے یا پھر آپ نے تاریخ کا معروضی طور پر مطالعہ نہیں کیا ہے۔

    سیگمنڈ فرائیڈ تو بیسویں صدی کا ماہر نفسیات تھا۔ پاکستان کی پچاسی فیصد سے زیادہ آبادی اسکے نام سے بھی واقف نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان میں جنسی جرائم اور غیر ازدواجی جنسی ملاپ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ نام نہاد مسلم مغل حکمرانوں کے دور سے لاہور، لکھنو، دلی، سوات اور دوسرے علاقوں میں موجود قحبہ خانوں میں جانے والے مرد اور عورتیں بھی سیگمنڈ فرائیڈ کے فلسفے پر عمل کررہے تھے؟ کیا ان کی حرکتیں بھی مخلوط نظام تعلیم کی مرہونِ منت تھی؟

    کیا قراقرم یونیورسٹی بننے سے پہلے گلگت میں جنسی زیادتی کے واقعات نہیں ہوتے تھے؟ لڑکیاں خودکشیاں نہیں کرتی تھیں؟ گھروں سے بھاگتی نہیں تھیں؟

    میرے خیال میں ہمارے علما نے اپنے اذہان کو کھولنے سےزیادہ اسے بند کرنے پر محنت صرف کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر وہ دوسرے فلسفیوں اور علما کو پڑھتے بھی ہیں تو اسکا مقصد یہی ہوتا ہے کہ دوسروں کو سمجھ کر ان کو غلط ثابت کیا جاسکے، ان پر پھبتی کسی جائے اور ان میں اغلاط کی نشاندہی کیا جاسکے۔

    ایسے طرز عمل کو “عالمانہ” اور ایسی گفتگو کو علمی کہتے ہوے ہمیں تھوڑی دیر کے لئے توقف کرنی چاہیے اور اپنے گریبان میں جھانک کر اللہ کے ان احکامات پر غور کرنی چاہیے جس میں انہوں نے جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کے درمیان فرق واضح کرنے کے ساتھ ساتھ عقل و دانش کے استعمال، تجربہ اور تسخیر پر توجہ اور دوسرے عالمانہ امور کی طرف توجہ دلائی تھی۔

  8. تمام دوستوں کا شکریہ جنہوں نے ناچیز کا ارٹیکل غور سے نہ صرف پڑھا بلکہ اپنے جاندار خیالات کا اظہار بھی کیا، اس طرح ہی ڈاییلاگ کا پروسس آگے چلتا ہے اور افہام و تفہیم کی راہیں کھلتی ہیں، اگر افہام اور ڈایلاگ کا دروازہ بند کرکے ہر کویی اپنی اپنی ڈیرھ انچ کی مسجد بنا کر چلتا رہے تو پھر معاشرے کے اندر جمود اییے گا، جو کامیاب معاشروں کی لیے سم قاتل ہوتا ہے،

  9. محترم نفیس صاحب ذرا اپنا تعارف کرواییں گے، لگتا تو یہ ہے کہ اپ نے یہ نام کسی اور کا استعمال کیا ہے اگر اپ نفیس ایڈوکیٹ ہیں تو بہت خوب بھیا، ماشاء اللہ تحریر میں کافی وزن ہے، مجھے تو کسی اور بندے پر شک ہو ا ہے جو دوسروں کے نام سے کمنٹس دیتا ہے، مہربانی ہوگی اگر اپنا ذرا ایک بیک گرونڈ بتاییں گے تو

تبصرے بند ہیں