منقسم قوم اورشناخت کا مسلہ

منقسم قوم اورشناخت کا مسلہ

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالات کے بدلنے کا،محترم قارئین آپ میں سے ہر کوئی اس شعر کی تشریح کو بہتر انداز میں سمجھتے ہونگے لیکن یقیناًاس بات کو معاشرے میں لاگو کرنے سے ہم سب قاصر ہے بدقسمتی کی بات ہے کہ اس وقت اپنے حقوق کیلئے بھی لوگ طبقات اور علاقوں میں تقسیم ہے اس طبقاتی اور علاقائی تقسیم سے خطے کو جو نقصان پونچ رہا ہے جسکا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ دیامر خطے کا ابتدائی حددود ہے لہذا ہم بات یہاں سے شروع کریں تومعلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک طبقہ مسلسل کوشش میں ہے کہ کسی بھی طرح گلگت بلتستان کشمیر کالونی بن جائے اور انکے خیال میں جنگ آذادی گلگت بلتستان کی کوئی حیثیت ہے نہ یہ لوگ جنگ آذادی کو تسلیم کرتے ہیں بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ طبقہ یہ نکتہ بھی اُٹھا رہے ہیں کہ بلتستان چونکہ ماضی میں تبت کا حصہ تھا لہذا گلگت میں شامل ہونا بھی غلط فیصلہ ہوا ہے ساتھ میں گلگت اور بلتستان کے عوام کا ڈوگروں سے بغاوت کوبھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ ایک سازش سمجھتے ہیں لیکن ایک طبقہ فکر ایسا بھی ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے خطے کے ساتھ گزشتہ دہائیوں سے ذیادتی ہورہی ہے لہذا کوشش یہ ہونا چاہئے کہ کسی بھی طرح گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ بن جائے اور یہاں ترقی اور تعمیر کے دروازے کھلے تاکہ یہاں کے باسی بہتر زندگی گزار سکے ۔اسی طرح اگر ہم گلگت جائیں تو یہاں بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ماضی بعیدمیں یہاں بلورستان کے نام سے ریاست قائم تھی اسکے علاوہ جنگ آذادی کے بعدبھی یہ خطہ الگ ریاست کے طور پر اُبھر آیا تھا لہذا ایک الگ ملک ہی ہمارے سارے مسائل کا حل ہے کچھ ایسے ہی صورت حال استور غذر سے ملحقہ علاقہ جات کے قوم پرستوں کا بھی ہے۔اگر ہنزہ نگر وغیرہ کی بات کریں تو یہاں دو قسم کی سوچ رکھنے والے ہیں ایک طبقے کا خیال ہے کہ آئینی صوبہ ہی گلگت بلتستان کی اصل ضرورت اور حق ہے لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہے جو پاکستان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے یوں اگر ہم بلتستان کی طرف جائیں تو بلتستان کے عوام میں اکثریتی طبقہ اپنے آپ کو آج بھی مکمل پاکستانی سمجھتے ہیں پاکستان سے حقوق کی بات کرنا بھی جرم تصور کیا جاتا ہے لیکن ایک مخصوص طبقے کا خیال ہے کہ خطے کو اب شناخت مل جانا چاہئے کیونکہ ہم پچھلے دہائیوں سے پاکستان کے ساتھ وفاداریاں نبا رہے ہیں لیکن روندہ شگر اور کھرمنگ میں ایک طبقہ گلگت غذر استو اور ہنزہ کے ان لوگوں کی تائید کرتے ہیں جو ایک الگ ریاست کیلئے جہدو جہد کر رہے ہیں۔اب اگر ہم یہاں پر موجود حکومت کی بات کریں تو انہیں سب کچھ قبول ہے بس انکی نوکری چلتے رہنا چاہئے جو سیاست کے نام پر گزشتہ دہائیوں سے جاری ہے ہمارے اراکین قانون ساز اسمبلی نے آج تک عوام کو گمراہ کیا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام تذبذب کا شکار ہے کہ آخر ہماری منزل کیا ہے؟ ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟کیاہم مکمل پاکستانی ہے؟ اگر ہے تو پاکستان کی طرف سے اس بات کو بار بار دہرانا کس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ہے؟ دوسری بات ہم اس بات کو بھی سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ اگر ہم پاکستانی تو ہمیں آج تک سینٹ اور قومی اسمبلی میں میں نمائندگی کیوں نہیں ملی؟ہمارے عوام کوووٹ دینے کا حق کیوں نہیں ہے؟

پاکستان میں آئینی طور پر صوبے چار ہیں لیکن وزیراعلیٰ اور گورنر پانچ ہے تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ گورنر اور وزیراعلیٰ کا ہوتے ہوئے بھی ہمارے خطے پر ایک غیر مقامی اور غیر منتخب شخص وفاقی وزیر کے نام سے مسلط ہے۔ سوال اُٹھتا ہے کہ گلگت بلتستان واقعی میں قانونی پاکستانی ہے تو آج تھری جی اور فور جی جیسے سہولیات اس خطے کیلئے کیوں بند ہے؟ حالانکہ اس خطے میں ایسے سہولیات ذیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہاں سال بھر ملکی اور غیرملکی سیاح کثیر تعداد میں آتے رہتے ہیں اس طرح کی سہولیات میسر ہونے سے سیاحت کو مزید ترقی مل سکتا ہے۔لیکن بات پھر وہی کون بولے اورکون سُنے ہمارے عوام کو آج تک یہ معلوم نہیں کہ آخر ہماری منزل کیا ہے ہمارے عوام ایک ایسی کشتی میں سوار ہے جو عین سمند رکے درمیان کھڑی ہے جس میں کئی ملاح ہے اور ہرملاح کی کوشش ہے کہ کشتی اپنی مرضی کی جانب کنارہ لگائے یعنی کشی ساقط ہے جو ملاحوں کی غلطی سے کسی بھی کنارے تک نہیں پونچ پارہے ہیں۔اب کیا کہیں اس قوم کے بارے میں جو ناخداوں کے نرغے میں جکڑا ہواہو جنہوں نے آج تک آپس میں بیٹھ کر یہ طے نہیں کیا کہ ہمیں باہمی اتفاق سے ایک ممکنہ حکمت عملی کے ذریعے منزل کا تعین کرنا چاہئے جب رہنماوں کوخبر نہیں قومی مفاد میں اجتماعی طور پر ایک نکتے پر اتفاق کرتے ہوئے جدوجہد کریں پھر عوام تو عوام ہے۔اگر یہی صور ت حال رہی تو مستقبل میں بھی وفاقی ملازم پیشہ ور سیاست دان ہی ماضی کی طرح اپنے آقاوں کی مرضی کے مطابق فیصلے کر رہے ہوں گے جس سے عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی آنے کے امکانات کہیں نظر نہیں آتا۔ لہذا تمام قومی جماعتوں کے لیڈران سمیت یوتھ کو سوچنا ہوگا کہ جب تک عملی کوشش نہیں کرتے ہمارے خطے کی شناخت کا مسلہ ایسے ہی لٹکا رہے گا۔ کاش ہمارے عوام بشمول قومی لیڈران اس بات کو بھی سمجھے کہ ہماری اس تقسیم کی وجہ سے دشمن عناصرآج تک فائدہ اُٹھاتے رہے ہیں اورہمارے خطے میں آج بھی لڑاو اور حکومت کرو کا فارمولہ لاگو ہے یہی وجہ ہے کہ آج گلگت بلتستان کے کونے کونے میں پھر سے لسانی فسادات پھیلانے کی خبریں آرہی ہے.

بلتستان جیسے پُرامن خطے سے اس سازش کی ابتداء ہوچکی ہے لیکن اب تک دہشت گرد عناصر کا گرفتار نہ ہونا سکیورٹی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہمارے عوام کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے واقعات کا اصل مقصد اصل مسلے کی طرف سے توجہ ہٹا کررکھنا ہے اس بار اگر دشمن کامیاب ہوئے تو ہم خطے کی مستقبل کے حوالے اللہ نگہبان ہی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ آج دنیا ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہیں لیکن ہمارے ہاں انہی اختلافات کو ہوا دیکر نہ کوئی بہتر تعلیمی ادارہ بن سکا نہ عوام کو بہتر صحت کی سہولت میسر ہے نہ روزگار فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے کیونکہ آج جو لوگ ہم پر مسلط ہے انکا کبھی بھی یہ مسلہ نہیں رہا کہ اس خطے کے عوام کس طرح زندگی گزار رہے ہیں یہاں کے عوام کی اصل ضرورت کیا ہے بلکہ ہمارے عوام سے وفاقی نمک خوار سیاست دانوں کے ذریعے ایک سرحدی چوکیدار کا کام لیا جارہا ہے لہذا معاشرے کے عوام کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپس کی اختلافات کو بُھلا کر خطے کی شناخت کیلئے کوشش کریں شین یکشین اور پلاٹ کے معاملات کے جھگڑوں کو بھی مسلکی رنگ دینے میں بربادی کے علاوہ کچھ نہیں اگر کہیں کسی علاقے میں کوئی بھی شخص غیر معمولی حرکات کرتے نظر آئے تو اُسے روکنا یاایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے کی حمایت کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر ہم شرپسندی کو بھی علاقائی اور مسلکی رنگ دیں تو اس سے ایک طرف مسلک اور مذہب کی بدنامی اور دوسری طرف اُس علاقے کے کیلئے عوام میں بدگمانیاں پیدا ہوگی لہذا ہمیں سوچنا چاہئے کہ نظریاتی اختلاف کبھی بھی فرقہ واریت نہیں ہوتا نہ ہی سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ کسی حوالے سے کرنے سے کسی کی دشمنی ظاہر کرتی ہے بلکہ ہر ایک کی یہی کوشش ہونا چاہئے کہ کسی بھی طرح خطے میں امن امان قائم رہے اور شناخت کی تعین کیلئے جدوجہد کرنے والوں کا ساتھ دیں اسی میں ہماری بقاء کی بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ اللہ ہم سب کو اچھا سوچ اور مثبت کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔