ٓ	’’ راکا پوشی کے منظر بولتے ہیں‘‘

ٓ ’’ راکا پوشی کے منظر بولتے ہیں‘‘

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیر جان حقانی

DSC00859میرے دوستوں کا کہنا ہے کہ راکا پوشی کے مناظر اکثر بولتے ہیں۔ مجھے ان کا اس طرح کہنا عجیب سا لگتا، مناظر کیسے بولتے ہیں، یہ دعویٰ اس وقت درست ثابت ہوا جب مجھ سے خود ، راکا پوشی کے مناظر بولنے لگے۔سیر و سیاحت کا شوق کس کمبخت کو نہیں اور وہ بھی گلگت بلتستان کی مختلف وادیوں کا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ میری دھرتی کے مناظر دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ لاکھوں میل کی مسافت طے کر کے پہنچ جاتے ہیں اور ہم ہیں کہ اسلام کی طرح علاقوں کو بھی مذہبی بنا کر رکھا ہے۔ قراقرم یونیورسٹی میں اسسمنٹ کرتے کرتے دل کرتا کہ کہیں گھوم پھر کر آجائیں۔ دوستوں سے شیئرکرتا تو کہتے کہ تمہیں گھومنے کا خبط تو نہیں ہوا۔ بھیا ! بَلا،کس کو یہ خبط نہیں ہے۔ پھر گھو منے پھر نے کا حکم اللہ دے تو یہ خبط بھی ’’ثوابی خبط‘‘ بن جاتا ہے۔

آج کی محفل میں ایک ثوابی خبط کا ذکر ہوگا۔اوروہ ہے ہنزہ نگر کے خوبصورت ترین وادیوں کا طائرانہ وزٹ اور راکاپوشی اور دیران پیک کا ساحرانہ و والہانہ چکر۔ برادرم نجات کی معیت میں چاررکنی ٹیم موٹرسائیکلوں میں راکاپوشی اور دیران کے بولتے مناظر سے ہم کلام ہونے کے لیے پابہ رکاب ہوئی۔ دنیور سے راکاپوشی ویو پوائنٹ تک بہت ہی خوبصورت روڈ ہے۔ خدا چینیوں کا بھلا کرے کہ ہماری سہولت کے لیے کیا خوبصورت روڈ ڈیزائن کیا ہے،مگر ان کے اپنے مقاصد تو سب پر عیاں ہیں کہ روڈ کیوں بنایا ہے۔

DSC00880جب گلگت کے حدود کراس کرکے ہنزہ نگر داخل ہونے کی جسارت ہورہی تھی تو چھلت پولیس چوکی کے کانسٹیبل نے رعب سے رکنے کا اشارہ کیا، ہماری ڈاڑھی دیکھ کر، شاید انہیں طالبان یاد آئے ہونگے مگر اگلے لمحے مجھے اور وقاص کو مقامی ساتھی کے جھرمٹ میں دیکھ کر کھسیانا ہو ا اور مختصراً کہا کہ اصل میں غیر مقامیوں کی انٹری کی جاتی ہے۔ سو ہنزہ نگر آمد مبارک ہو اور تشریف لے چلیں۔منا ظر ہم سے بولتے رہے اور ہم بولنے کے بجائے مناظر کا منہ تکتے رہے۔ نجات مجھے معلومات اور ویلیوں کے نام اور درختوں کے پھلوں کی خاصیات پر لیکچر دیے جارہے ہیں اور میں اپنی سوچوں میں مگن!کہیں چھلت کالج دکھا رہے ہیں تو کہیں نلتر کی خوبصورت وادی کا راستہ بتلارہے ہیں ۔

اچانک بیچ ویرانے روڈ پر موٹر بائیک روکا اور اترنے لگا ، میرے استفسار پر معلوم ہوا کہ ہم ایک یارگار کے پاس رک رہے ہیں۔ اتنے میں وقاص اور ابراہیم بھی رکے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ 1966ء سے 1972ء تک شاہراہ قراقرم کو تعمیر کرتے ہوئے جو لوگ چل بسے تھے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک یادگار بنام ’’ یادگار نمبر ۱۰۳، انجینئر بٹالین‘‘ کے نام سے بنائی گئی ہے۔ ان کی قبور بھی وہی پر ہیں۔

یہ یاد گار ان جیالے انجینئروں، مزدوروں اور دیگر عملے کی یاد میں بنائی گئی ہے جنہوں نے قراقرم کے فلک بوس پہاڑوں میں ملکی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی ہے اور انہی پہاڑوں میں ہمیشہ کی نیند سوئے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کے قبور اور یاد گار کے ساتھ تصاویر بنوائی اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے آگے چل دیے۔راستے میں ایک دو مقامات پر رکے بھی، ٹھنڈے پانی کے مزے لیے، ہاتھ منہ دھوئے، کئی جانے پہچانے چہروں کے ساتھ ٹاکرا ہو،کولڈرنگ پیئے لیکن ٹھنڈے اور شیریں پانی کے سامنے بدیسی کول ڈرنک کی حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے۔ ہمیں جلدی تھی کہ کسی طرح راکاپوشی پہنچ جائے۔ سو چلتے چلتے پہنچ ہی گئے۔

DSC00885یہ دیکھو! میرے سامنے راکا پوشی کا عظیم پہاڑ برف کی سفید چادر لیے کھڑا ہے۔ہم نے اپنی بائیکس راکاپوشی پل کے ساتھ کھڑی کی۔ ہوٹل میں جاکر اپنی خصوصی ڈیمانڈ کے مطابق کھانے کا آرڈر دیا اور راکاپوشی پہاڑ سے بہنے والے ٹھنڈے پانی کی طرف چل دیا۔ میرے ساتھیوں کا اصرار ہے کہ ہم زیادہ آگے نہیں جائیں گے مگر مجھ پر ایک جنون کی سی کیفیت طاری ہونے لگی ۔ سو میں چلنے لگا اور کافی آگے جاکر ٹھنڈے پانی کے کنارے ٹھہر گیا۔ میرے سامنے کئی ہوٹل ہیں ان میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا ایک جم گٹھہ ہے۔ گلگت بلتستان اور پاکستان کے کئی لوگ فیملی کے ساتھ یہاں آئے ہوئے ہیں۔بہت سارے بچے راکاپوشی کے دامن سے بہنے والے شفاف پانی کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ میرے استفسار پر ایک معصوم بچی بولی، انکل بہت ٹھنڈا پانی ہے۔ہماری فریجر میں میں بھی اتنا ٹھنڈا پانی نہیں ہوتا۔ میرے ساتھی بھی اب میرے پاس آچکے ہیں اور مجھے ٹھنڈے پانی کے درمیان دیکھ کر ہنسنے لگے مگر میں تو خوب مزے لے رہا ہوں بالآخر ان سے بھی رہا نہیں گیا۔ انہوں بھی کپڑے اتارے اورنہانے میں میری معیت حاصل کی۔ یوں دیر تک نہاتے رہے۔ڈبکیاں لگاتے اور ٹھنڈ ٹھنڈک سے عش عش کرتے۔ بہت ساری پکچرز بنوائی۔ دوبارہ راکاپوشی کا پہاڑ دیکھنے لگا، ہر بار اس کے مناظر بولتے ہیں۔ اتنا بڑا گلیشیر پہلی دفعہ قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ سنا ہے کہ یہاں برفیلے ریچھ بھی ہوتے ہیں اور دیگر پہاڑی حیوانات بھی۔ راکاپوشی کا اکثر حصہ برف سے ڈکا ہوا ہے۔ باقی نچلے حصے کے اکثر مناظرخوبصورت ہیں۔کالے کالے پہاڑ مخصوص ہیبت میں کھڑے ہیں۔

راکاپوشی ضلع ہنزہ نگرمیں واقع ہے ۔ہنزہ نگر گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے ۔ اور گلگت بلتستان ، پاکستان کا انتظامی صوبہ ہے ۔ راکاپوشی 25550 فٹ/ 7788 میٹر بلند پہاڑ ہے۔ یہ سلسلہ کوہ قراقرم میں واقع ہے۔ یہ پاکستان میں 12ویں نمبر پر اور دنیا میں 27ویں نمبر پر بلند ترین چوٹی ہے۔ راکاپوشی کو سب سے پہلے 1958 میں دو برطانوی کوہ پیما مائیک بینکس اور ٹام پیٹی نے سر کیا۔اس کے بعد بھی کئی کوہ پیماؤں نے اس چوٹی سر کیا ہے۔

DSC00887یہ نانگا پربت کی طرح انسانی جانیں لینے کا قائل نہیں ہے۔جب راکاپوشی کے مناظر سے خوب محظوظ ہوئے تو کھانے کے لیے ہوٹل کی طرف چل دیے۔ ہوٹل کے اسی ہال میں کھانا کھایا جہاں چند دن پہلے حافظ حفیظ الرحمان صدر مسلم لیگ نے اپنی پارٹی کے ذمہ داروں کے ساتھ وزیر امور کشمیر برجیس طاہر کی معیت میں کھانا کھایا تھا۔ میرے ہمسفر اس بات پر لطف اٹھا رہے ہیں۔

کھانے سے فراغت کے بعد راکا پوشی سے کچھ دور دیران پیک کی طرف چل دیے۔ یہ خوبانیوں کا موسم تھا، گندم کی کٹائی کا وقت ہوچکا تھا ۔ نگر کے مناظر انتہائی دلکش تھے۔ ہم چلتے چلتے دیران ہوٹل پہنچے ۔

یہاں سب سے پہلے ہماری ملاقات ہنزہ نگر کے مشہور لیڈر سید یحییٰ شاہ سے ہوئی۔ بہت ہی محبت سے ملے۔ دیران ویو ہوٹل کا باغیچہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ ہر قسم کے پھول اور پھلدار درختوں کی بہتات ہے۔ایک سوئمنگ پول بھی ہے۔ ہوٹل کا اندرونی منظر بھی بہت ہی پیارا ہے۔ کئی اچھی کتابیں اور پرانے راجاؤں ،مہاراجاؤں اور مشہور اشخاص کی تصاویر مع مختصر تعارفی کپیشن کے ،ہوٹل کے مختلف مقامات پر آویزاں ہیں۔ ہنزہ نگر کی ثقافتی و روایتی اشیاء بھی دیکھنے کو ملی۔

DSC00956دودھ پتی چائے کا آرڈر دیکر ہوٹل کے لان میں سید یحییٰ شاہ کے ساتھ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ان کے ساتھ بہت ہی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کافی بڑی عمر کے آدمی ہیں مگر جوان دکھائی دیتے ہیں۔پی پی ہنزہ نگر کے بانیوں میں سے ہیں اور بزرگ سیاستدان ہیں، گلگت اسمبلی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ جب بھٹو گلگت آیا تو سید یحییٰ نے سپاس نامہ بھی پیش کیا تھا۔ راجگی نظام اور ایف سی آر کے کٹر مخالف ہیں۔ بقول ان کے اس ظالم نظام کے خاتمہ میں ان کا بنیادی کردار ہے۔کافی دیر کے بعد ہوٹل کے بیرے نے چائے لائی۔ واقعی دودھ پتی چائے تھی۔ بڑے بڑے کپ بھر بھر کے پیئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ دیران ہوٹل کے مالک بھی سید یحییٰ شاہ ہیں۔ دیران ہوٹل سے کئی خوبصور ت مناظر دیکھنے کو ملے۔

دن کافی بیت چکا تھا۔ واپسی کی ٹھان لی۔ بھائی نجات نے موٹر بائیک پر کک مار کر چلنا شروع کیا۔واپسی پر ایک بڑے ٹیلے پر برلب روڈ ایک گھر دکھایا اور کہا کہ یہ صوبیدار ٹو(Two) کا گھر ہے ۔ بہت بڑے جادو گھر ہیں۔ پولو کھیلوں میں ہار جیت میں اس کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ اور دور دور سے لوگ ان کے ہاں تعویذ گنڈے کروانے آتے ہیں۔ چلتے چلتے ایک جگہ رک گئے۔

DSC00944نجات کہنے لگے کہ یہ جگہ راکاپوشی زیرو پوائنٹ کہلاتا ہے۔ ٹھنڈا پانیوں کا مسکن ہے۔ یہاں نگرکی روایتی ڈش ’’چپاشورو‘‘کھانے کے لیے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔یوں سمجھو یہ دیسی سینڈوچ ہے۔ ہم نے بھی اس دیسی سینڈوچ کا مزہ لیا۔ ٹھنڈا پانی پیا۔ پہاڑی پودینے سے مضمحل طبیعت کو بحال کیا۔اور سواری سرپٹ دوڑانے لگے۔ چھلت پل کراس کرکے نجات کے محلے میں پہنچے ۔ اور تما م ساتھی خوبانیوں کے درختوں پر چڑھ دوڑے اور بازار سے لائے ہوئے تھیلے بھرنے لگے۔ آدھا گھنٹے کے قریب کچی پکی خوبانیوں سے چار تھیلے بھر لیے۔ دو میرے حصے میں آئے۔ خوبانی کے تھیلے لیے گلگت روانہ ہوئے۔ نجات کی ایڈوائس کے مطابق نلتر پل کراس کرکے واپسی نومل کے راستے سے ہوئی۔ ابراہیم اور وقاص کبھی مجھ سے آگے نکلتے کبھی میں ان کو پیچھے چھوڑ دیتا ۔ یوں اللہ اللہ کرکے مغرب کو گلگت میں اپنے گھر پہنچ گئے۔اس ذہنی و جسمانی سیاحت کے بعد اگلے روز پہلی روزے کے لیے ذہنی طور پر یکسوئی کے ساتھ کمرکس لیا۔پورے رمضان اس سیاحت کا لطف محسوس ہوتا رہا۔

بہر کیف ہنزہ نگر کا ضلع ایک ایسے خطہ میں واقع ہے جہاں راکاپوشی کے گلیشئیر کے علاوہ بھی متعدد گلیشئیرواقع ہیں اور اسی لئے ہنزہ نگرکا موسم جون جولائی میں بھی خنکی سے لبریز ہوتا ہے۔ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔ان علاقوں میں گرمیوں کاموسم ایسا ہوتا ہے کہ سائے میں ہوں تو دھوپ اور حرارت کی خواہش ہوتی ہے اور اگرانسان دھوپ میں کھڑا ہوتو سائے کی۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دھوپ نہ ہو تو ٹھنڈ ہوتی ہے اورٹھنڈ ہوتو سویٹر یا آنگیٹھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

سنا تھا کہ نگر کے لوگ قدرے سخت مزاج اور تند خو ہیں۔مگر مجھے تو کسی قسم کی سختی کا تجربہ نہیں ہوا۔ہر جگہ محبت اور تبسم ہی نظر آیا۔ لوگوں کی عادات و سکنات اوربولتے مناظر اپنے لیے مطمح نظر بن جاتے اور نظریں دور دور تک تعاقب کرتیں۔آج بھی خیالات کی دنیا میں یہی تعاقب جاری ہے۔اللہ ہی ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔