کیا یہ وقت الزام تراشی کا ہے؟؟

کیا یہ وقت الزام تراشی کا ہے؟؟

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ایس ایس ناصری

ستر سالوں سے تمام تر حقوق سے محروم خطے کے باسی اس وقت ایک تذبذب اور کشمکش میں زندگی گزار رہی ہیں اور اپنے ووٹوں سے اسمبلی میں جانےوالے نمائندوں کی بےحسی اور کوتاہی پر رونا رو رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کےچودہ لاکھ سے زائد عوام بےچینی اور اضطراب کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں اور حکومتی نمائندوں سے صبح وشام یہی سوال کر رہے ہیں کیا متنازعہ خطہ میں ٹیکسز کا نفاذ اس خطے میں بسنے والے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں؟ کیا یہ امر 28ہزار مربع میل علاقے کو بغیر کسی بیرونی مدد کے ڈھنڈوں اور پتھروں کے ذریعے ڈوگروں کو بھگا کر آزاد کرانے والے شہداء کے لہوں سے غداری نہیں؟ اگر ہمارے نمائندے اس عمل کو بہتراور علاقے کی مفاد سمجھتے ہیں تو گلگت بلتستان کے اکثریت اس نظام سے اختلاف کیوں رکھتے ہیں؟ ۔کیوں اس نظام کی بہتری اور تقویت کیلے اپنے ووٹوں کے ذریعے اسملبی میں جانے والے نمائندوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتے؟

اس طرح کے بےشمار سوالات یقیناََ گلگت بلتستان کے ہزاروں افراد کے ذہنوں میں جنم لے رہے ہوں گے اور یہی سوالات انہیں جھنجوڑ تےہوں گےاور ہر کوئی اپنے آپ سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کیاہمارے نمائندوں کے کارنامے گلگت بلتستان کے حق میں نہیں ہے؟ کیا اس خطے میں جبری طور پر لاگو کردہ ٹیکسزلوگوں کے اور علاقے کے حق میں نہیں؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں اس سوال کا جواب کبھی بھی آپکو مثبت میں ملے گا اور نہ ہی آپکی ذہن قبول کرے گا کیونکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق سرزمیں گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے اور متنازعہ علاقے میں ٹیکسز کا نفاذ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔

تیس نومبر 1972کوپاکستانی اٹارنی جنرل سپریم کورٹ آف پاکستان میں دیئے گئے بیان کے مطابق گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے کیلےوہ کسی دستاویزی الحاق اعلامیہ کے حوالہ نہیں دے سکے۔اسی طرح 1981میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں اور اسکی حیثیت آزاد کشمیر کی طرح ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے عدالتی جواب میں وفاقی حکومت نے تحریری جواب میں واضح کیا کہ گلگت بلتستان کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں رہا ہے۔اس کا اپنا الگ ایک نظام ہےاور اس بات کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔اسی طرح اگر ہم اقوام متحدہ کے قراردادوں پر بھی غور کریں تومعلوم ہوگا کہ اس خطے کی اسٹیٹس کیا ہے۔اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاک و ہند UNCIPکی 13اگست1948کی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان اس طرح متنازعہ ہے جس طرح جموں وکشمیر کے دوسرے علاقے UNCIPکے مطابق کشمیر اور گلگت بلتستان میں استصواب رائے سے خود مختاری دینے کا ذکر ہیں ساتھ میں تمام علاقوں سے غیر ریاستی فوج کا انخلاء کرنے، تمام تجارتی وتاریخی راستوں کو واگزار کرنےکے ساتھ کشمیر سمیت گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجکٹ رول پر عمل درآمدکرانے کے علاوہ بہت ساری باتیں موجود ہیں لیکن آج تک ان باتوں پر عمل در آمد نہیں ہوئے۔

پاکستان نے 28اپریل 1949کو کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا کہ گلگت بلتستان کا انتقام و انصرام پاکستان کے حوالہ کیا جائے جس پر حکومت کشمیر کی طرف سے محمدابراہیم خاں صدر آل جموں کشمیر، مسلم کانفرنس کے غلام عباس اور حکومت پاکستان کی طرف سے وزیر بے محکمہ ایم اے گورمانی نے دستخط کئیے اسے معاہدہ کراچی کا نام دیا گیا اور اس معاہدہ کے ذریعے گلگت بلتستان پر شب وخون مارا۔

اگر دیکھا جائے تو یہ معاہدہ عقل اور ذہن قبول نہ کرنے والی بات ہے کیونکہ جس خطے کے مطعلق معاہدہ کر رہے ہیں اس معاہدہ میں اس خطے سے تعلق رکھنے والے شامل نہیں۔

اس معاہدہ کے سات سال بعد پاکستان کا پہلا آئین 1956میں بنااس وقت گلگت بلتستان کو آئین میں شامل نہیں کیا جاسکا۔ دوسرا آئین 1962اور تیسرا آئین 1973میں بنا مگر کسی کے پاس یہ جواز نہیں تھا کہ گلگت بلتستان کو پاکستانی آئین کا حصہ بنائے کیونکہ یہ خطہ اقوم متحدہ کے تحت متنازعہ تھا۔ ان حالات کے باو جود گلگت بلتستان کے عوام نے کبھی بھی اپنے آپ کو پاکستان سے الگ نہیں سمجھا اور خود کو پاکستان کا شہ رگ قرا دیا لیکن ستم کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں جب بھی اس خطے کے مظلوموں کو حقوق دینے کی بات آئی تو پاکستان کے زیرک سیاست دان اعتزاز احسن، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، چئیرمیں سینٹ رضا ربانی،اور موجودہ گلگت بلتستان کے وفاقی وزیر برجیس طاہر سمیت متعدد سیاسی وحکومتی نمائندوں نے اس خطے کو پاکستان کا حصہ ماننے سے نہ صرف انکاد کیا بلکہ ایک بار پھر اس خطے کے عوام کو اقوم متحد ہ کے قراردوں کا ذکر کرتے ہوئے متنازعہ قرار دیا۔

اس کے باو جود ہمیں فخر ہیں کہ ہم سب سے زیادہ محب وطن ہےاور یہ بات ہم ستر سالوں سے کرتے ہوئے آئے ہیں اورمزید کرتے رہیں گے۔ ہمارے سیاسی ومذھبی نمائندے پاکستان کے حکمرانوں کو خوش کرنے اور اپنی پارٹیوں کے مجازی آقاؤں کےخوشنودی کےلیے اگر گلگت بلتستان کے نمائندوں کو یہ کہے کہ گلگت بلتستان فی سبیل الله ہمیں دیا جائے تو ہمارے نمائندے اس سے بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ اس خطے کے لوگوں سے زیادہ انہیں وفاق میں بیٹھے ہوئے اپنے آقائیں عزیز ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو متنازعہ خطہ گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوکر مخالفت کرتے، چاہے وہ پیپلز پارٹی کے لوگ ہو یا مسلم لیگ ن سمیت کسی دوسرے پارٹی کے، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اور اس متنازعہ خطہ کے عوام پر ودہولڈنگ ٹیکس، لوکل گورنمنٹ ٹیکسز سمیت دیگر ٹیکسز لاگو نہ ہوتے۔ تعجب اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے نمائندے چاہے وہ سابق ہو یا موجودہ اس ایٹم بم کو ناکارہ بنانے کے حوالے سے اتفاق اور اتحاد سے کام لینے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام کی بوچھاڑ کرنے میں لگے ہوئے ہیں

موجودہ حکمران جماعت کے نمائندے آئے روز اخباری بیان کے ذریعے سابق ارکان کونسل اور اسمبلی کے ارکان کو قصوروار ٹھرارہے ہیں تو دوسرے دن اس کے جواب میں دوسری جماعت کے رہنماء میدان میں کود پڑتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کے 95فیصد غریب عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ قبیح فعل کس نے انجام دئے وہ صرف اور صرف اسکا خاتمہ چاہتے ہیں جو ان پر ایٹم بم کی طرح گرنے والے ہیں۔

گلگت بلتستان کے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے دست بستہ گزارش ہے کہ ستر سالوں سے بنیادی حقوق سے محروم خطے کے مظلوموں کےمزید امتحان لینے کے بجائے ان پرغیر قانونی اور غیر آئینی ٹیکسز کے خاتمے کیلے پارٹی مفادات سے بالاتر ہوکر گلگت بلتستان کی ایک فرد کی حیثیت سے میدان میں اتریں اور وفاقی حکومت کو باور کرائیں کہ ہمیں اپنی حقوق کی تحفظ کرنا آتاہیں اور جب ہمارے غریب عوام پر ظلم کریں تو اس وقت نہ ہم پیپلز پارٹی اور نہ مسلم لیگی، نہ ہم پی ٹی آئی اور نہ ہی کسی اور جماعت کے، نہ ہم اسلامی تحریک کےاور نہ ہی ایم ڈبلیو ایم کے ہم صرف گلگت بلتستان کے ہیں۔ اس پالیسی اور جذبہ کے ساتھ اگر ہمارے عوامی نمائندے عوام کے ساتھ تحریک میں شامل ہوجائیں تو کوئی بھی ہم سے ہمارا حق نہیں چھین سکتا۔ اگر آپ متعد ہوئے بغیر ایک دوسرے کے خلاف غیرپارلیمانی زبان استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھراتے رہیں تو ٹیکسز کی بات اپنی جگہ ہمارے ساتھ بہت کچھ ہوں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔