چترال، تین روزہ گبور فیسٹول اختتام پذیر

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال میں پاک افغان بارڈر پر واقع وادی گبور میں گبور فیسٹول (Gobore Festival) تین روز تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی جس میں روایتی کھیلوں بزکشی ، پولو، رسہ کشی اور ثقافتی شو کے علاوہ جدید کھیلوں کرکٹ اور فٹ بال کے مقابلے اور پیراگلائیڈنگ شو بھی منعقد ہوئے۔ گبور فیسٹول کے منتظمین نے کہا کہ اس فیسٹول کا انعقاد کا مقصد اس سرحدی علاقے کے دو اہم ثقافتوں ید غا (yadgha)اور شیخان (Shekhan)کلچر کو فروغ دینا تھا جو کہ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے ۔ ید غا کلچر بنیادی طور پر سنٹرل ایشیاء سے تعلق رکھتا ہے اور اس علاقے میں دوصدی قبل آ نے والے وسطی ایشیائی ریاستوں سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں آباد ہوئے تھے۔ فیسٹول میں ضلع بھر سے شائقین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور لوک کھیلوں اور ثقافتی شو میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔

اختتامی تقریب میں چترال کے سابق شاہی خاندان کے رکن شہزادہ امان الرحمن مہمان خصوصی تھے جس نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے ۔ پولو کا مقابلہ گبور بخ ٹیم ، بزکشی کا مقابلہ خان گل ، رسہ کشی میں جتر ٹیم ،فٹ بال میں دوابہ گرم چشمہ نے فائنل جیتا جبکہ ثقافتی شو میں کارکردگی کا ٹائٹل لالی اور ساتھیوں کو دیا گیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیسٹول کے انتطامیہ کمیٹی کے سربراہ محمد حسین نے کہا کہ اس فیسٹول کا مقصد تفریح کے ساتھ ساتھ علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے جو کہ بنیادی سہولیات زندگی سے بھی محروم ہے۔سابق کونسلر محمد حسین نے اپنے خطاب میں انتظامیہ پر زوردیا کہ اس پسماندہ علاقے کے مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے گرم چشمہ سے گبور تک روڈکو وسیع اور ترکولی بنایا جائے تاکہ لوگوں کو امد ورفت میں اسانیاں ہو،اُنہوں نے گبور میں گراوند کے لئے زمین خریدنے کے لئے بھی انتظامیہ پر زور دیا ۔

تقسیم انعامات کی تقریب سے شہزادہ امان الرحمن ، چترال سکاوٹس کے 146ونگ کے ڈپٹی کمانڈر کپٹن وجاہت اور سب ڈویژنل پولیس افیسر محمد خالد نے بھی خطاب کیا اور گبور کے دورافتادہ علاقے میں فیسٹول منعقد کرنے پر مقامی لوگوں کی کوششوں کا سراہا۔اخر میں کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور نقد انعامات تقسیم کی گئی۔فیسٹویل کے موقع پر کے پی ایچ ڈی ایچ کیو کی طرف سے فری میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا جہاں مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments