گلگت بلتستان کے سیاسی اور انسانی حقوق پر انسانی حقوق کمیشن کی شاندار رپورٹ

گلگت بلتستان کے سیاسی اور انسانی حقوق پر انسانی حقوق کمیشن کی شاندار رپورٹ

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کی گلگت بلتستان کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ مشن رپورٹ کی تقریب رونمائی مورخہ 25اکتوبر 2014کو اسلام آباد میں ہوئی .جس میں گلگت بلتستان کے قانونی ماہرین اور صحافیوں کے علاوہ اسلام آباد میں مقیم گلگت بلتستان کے مختلف شعبو ں سے تعق رکھنے والے خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے فرحت اللہ بابر اور ایم کیو ایم کی طرف سے بیرسٹر سیف نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائینڈنگ مشن نے اپنا تعرف کرادیا .جن میں ایچ آر سی پی کونسل کے ممبر ان معروف صحافی غازی صلا ح الدین  اور ڈی سوزا رولینڈ، ایچ آر سی پی کے جوائنٹ ڈائر یکٹرز حسین نقی اور نجم الدین اور ایچ آر سی پی جی بی کے کوارڈینٹر راقم شامل تھے۔ اس کے بعد رپورٹ کے ایڈیٹر نجم الدین نے رپورٹ کی فائینڈنگز اور سفارشات پر روشنی ڈالی۔ بعدازاں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد نے رپورٹ پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اظہار خیال کیا۔ اس تقریب میں نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا نے خصوصی دلچسپی لیااور تمام ریجنل اورقومی اخبارات اورچینلز نے نمایاں کوریج دی۔ تقریب میں شریک افراد کا خیال تھا کہ گلگت بلتستان کے سیاسی ، آئینی اور انسانی حقوق پر آج سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتنی مفصل نشست کبھی بھی منعقد نہیں ہوئی تھی۔اس نشست سے قبل رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے آیچ آر سی پی گلگت آفس نے گلگت میں بھی 20کے قریب سٹیک ہوڈرز کے ساتھ اسی طرح کا مشاورتی سیشن رکھا تھا جس میں کی گئی باتیں بھی اسلام آباد میں اس رپورٹ کے ساتھ الگ سے مرتب کر کے شر کاء میں تقسیم کی گیا ۔ چونکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن اکتوبر 2013 میں گلگت آیا تھا اس لئے گذشتہ ایک سال میں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں وہ بھی الگ سے مرتب کر کے رپورٹ کے ساتھ شرکا ء میں تقسیم کی گیا۔

israrایچ آر سی پی کی یہ گلگت بلتستان کے حوالے سے یہ پانچویں رپورٹ ہے اس سے قبل2005,1997,1993,1988 میں ایسی رپورٹس شائع کی گئی ہیں۔ اس رپوٹ میں 2005 کی رپورٹ کی سفارشات بھی شامل ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر پر تا حال عملدارآمد نہیں ہوا ہے اس لئے مشن نے رپورٹ کی ان سفارشات کو برقرار رکھتے ہوئے نئی سفارشات دیا ہے۔ اس رپورٹ میں 31 فائنڈنگز اور16 سفارشات ہیں۔ جبکہ 2005 میں چالیس سفارشات شامل تھیں۔ اس رپورٹ میں گلگت بلتستان کے حوالے سے دیگر اہم ڈاکو منٹس (دستاویزات) شامل ہیں۔

اس رپورٹ کا بنیادی مقصد 2009 کے گورننس آرڈر کے بعد علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینا تھاجبکہ سیاسی نظام پر لوگوں کو اعتماد ہے یا نہیں یہ بھی دیکھنا تھا۔ رپورٹ میں سیاسی محرومی کو اولیت دی گئی ہے جبکہ اس کے علاوہ دیگر اہم مسائل یعنی فرقہ واریت سمت تعلیم، میشعت، خواتین، خصوصی افراد اور دیگر امور پر بھی نظر ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ ان مشاہدات پر مبنی ہے جو کہ 26سے 30 اکتوبر 2013تک مشن نے گلگت اور سکردو میں مختلف مکاتب فکر کے 50 سے زائد گروپس کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے دوران اخذ کیا۔ ان ملاقاتوں کا اہتمام راقم کی سربراہی میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں موجود ہمارے نمائندوں نے کیا تھا۔ وقت کی قلت کی وجہ سے 50 سے زائد مذید جو ملاقاتیں مشن نے کرنی تھیں وہ منسوخ کردی گئیں تھیں اس لئے رپورٹ میں کئی طبقوں کے مسائل شامل نہیں ہو سکے۔ کیوں کہ رپورٹ میں ان کے علاوہ کوئی بات شامل نہیں جو کہ مشن سے ملاقات کے دوران مقامی لوگوں نے کیں۔ اس لئے اس میں کوئی بات خود سے شامل کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ جو باتیں ملاقاتوں کے دوران کی گئیں ان سے نتائج اخذ کر کے سفارشات مرتب کی گئیں ہیں۔رپورٹ میں جو باتیں شامل نہیں ہیں وہ گلگت اور اسلام آباد میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد نے رپورٹ کی تقریب رونمائی کے دوران مشن کی طرف سے رکھے گئے گفتگو کے سیشن کے دوران سامنے لائیں اور ایچ آر سی پی نے ان کو الگ سے اپنی ویب سائیٹ پر شائع کرنے کا وعدہ کیا۔

اس رپورٹ میں جن طبقوں کی آراء شامل ہیں ان میں سکردو کے صحافی،خواتین.اہل تشع علماء،فرقہ واریت کے متاثرہ خاندان،وکلاء،پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ (ن)،قوم پرست، تنظیم اہل سنت ،تنظیم اہل حدیث،کے آئی یو کے طلباء،ٹرانسپوٹرز،جیمز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن اورپولیس آفسران شامل ہیں، اس کے بعد مشن کی طرف سے عطاء آباد جھیل اور ان کے متاثرین کیمپ کا دورہ کیا گیا۔پھر گلگت میں گورنر ، چیف سکریٹری،سکریٹری داخلہ اور دیگر حکام سے مالاقاتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ گلگت میں خواتین،پی پی پی، ایم کیو ایم،ترقی پسند اور قوم پرست جماعتیں،سپریم اپیلیٹ کورٹ بار ایسو سی ایشن،تنطیم اہلسنت ولجماعت،وحدت المسلمین،خصوصی افراد،شعراء، سول سوسائٹی،لکھاری،مساجد بورڈ،چیرمین پاکستان ریڈکریسنٹ اورڈیولپمنٹ سیکٹر کے افراد سے ملاقاتوں کے بعد ان کے خیالات بھی رپورٹ کا حصہ بن گئے۔ اس کے علاوہ غیر مستقل ملازمین کے وفد نے اپنے مسائل تحریری طور پر مشن کو پیش کیا،مشن نے امامیہ مسجد اور اے کے آر ایس پی کا دورہ بھی کیا۔جبکہ دیگر کئی افراد نے انفر ادی طور پر بھی مشن سے مختصر ملاقاتیں کیں۔ ان تمام ماقاتوں میں بیشتر موضوعات پر بات ہوئی مگر پھر بھی کئی اہم طبقوں سے ملاقات وقت کی قلت کی وجہ سے نہیں ہو سکی اس لئے تشنگی برقرار رہی ۔

ٓاس رپورٹ کی اشاعت کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز کو اس کا مطالعہ کرکے اس پر اپنی رائے زنی کرنے کا بھر پور موقع دیا گیا تا کہ رپورٹ کے مقاصد زیادہ واضح ہو سکیں۔او ر ایچ آر سی پی کی طرف سے سٹیک ہولڈرز کی رائے کو قدر اور اہمیت کی نگاہ سے دیکھنے کی روایت قائم رہے۔

اس رپورٹ کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ ایچ آر سی پی کے علاوہ کوئی اور ادارہ نہیں ہے جس نے آج تک علاقے کے تمام سٹیک ہوڈرز سے ملاقات کر کے ان کی سیاسی اور انسانی حقوق کے حواے سے محرومیوں کو معیاری انداز میں محفوظ کر کے ان کے حل کے لئے سفارشات د ی ہوں، رپورٹ کا معیا راس کی شائع شدہ کاپی ہاتھ میں آجائے تو پوری طرح ہو جاتا ہے۔ لہذا ایچ آر سی پی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ گلگت بلتستان کے سیاسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک مستند ڈکومنٹ یہاں کے باشندوں کو تحفہ کے طور پر دے دیا ہے، گو کہ میں خود اس مشن کا ایک طرح سے حصہ تھا مگر گلگت بلتستان کے ایک فرزند ہونے کے ناطے اس عظیم کام کی تکمیل پر مشن کے ممبران محترم غازی صلاح الدین، ڈی سوزا رولینڈ، حسین نقی اور نجم الدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور جی بی کے تمام افراد سے اس رپورٹ کو پڑھ کر اس پر اپنی رائے دینے کی اپیل کرتا ہوں ۔ رپورٹ کی سافٹ کاپی پامیر ٹائمز کی ویب سائیٹ پر موجود ہے جس کے لئے محترم نور محمد صاحب داد کے مستحق ہیں۔اس کے علاوہ ایچ آر سی پی کے دفاتر میں سافٹ کاپی اور شائع شدہ کاپی دستیاب ہے۔ جبکہ بہت جلد ایچ آر سی پی کی ویب سائیٹ میں بھی کاپی دستیاب ہو گی۔

————————————
رپورٹ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے (مدیر) 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments