تضادات میں گھرا معاشرہ

انسانی فطرت بھی عجیب ہے کہ جب کسی انسان پر خود آفت پڑ جائے اور وہ اس آفت سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت نہ رکھتا ہوں تو وہ اپنے ماضی پر فخر کرتا ہے ،وہ اپنے آباو اجداد کے قصے بڑے شوق اور غور سے سناتا ہے ۔ اس کی ایک عمومی مثال اس وقت دنیا ئے اسلام کی لی جاسکتی ہے جہاں پر مسلم ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق نے ایک طرف مجموعی طور پر پریشان کن صورتحال سے دوچار کرکے حالت جنگ پیدا کردی ہے وہی پر بیرونی طاقتیں مزید مضبوط ہوکر مسلم ممالک کو زیر نگیں رکھنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ لیکن جب بات آجائے آپس کی صورتحال اور زاتی کردار پر تو گویاں ہونگے کہ ہمارے آبا وہ تھے جنہوں نے دریا میں اتر کرکشتی پر آگ لگادی تھی کہ کہیں واپسی کا خیال کسی نہ ہو۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس صورتحال کو بھانپ کر جواب شکوہ میں اس جانب توجہ یوں مبذول کرائی تھی کہ

تھے تو وہ آبا تمہارے ہی،مگر تم کیا ہو|
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

گلگت بلتستان میں گزشتہ کئی ماہ سے ٹیکسز کے خلاف جاری تحریک وفاقی حکومت سے نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ 15روز تک جاری رہنے والا دھرنا مکمل کامیاب رہا اور مکمل نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری شدہ نوٹیفکیشن پر اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیپٹن(ر) محمد شفیع خان نے اختلافی نوٹ بھی لکھ دیا ہے ۔ گزشتہ کالم میں بھی راقم نے اس دعا کے ساتھ کہ ’یہ کالم ٹیکسز کے حوالے سے آخری کالم ثابت ہو ‘ یہ لکھا تھا کہ ٹیکس مخالف تحریک اپنے موقف کو حرف آخر مت سمجھیں اس میں اضافہ یا کٹوتی کا مکمل امکان ہے ۔ یہی اس نوٹیفکیشن کے ساتھ ہوگیا گو کہ عوامی ایکشن کمیٹی اس کو مکمل سمجھتے ہوئے احتجاجی تحریک اور دھرنے کو لپیٹ گئی تاہم اپوزیشن لیڈر نے اختلافی نوٹ لکھ دیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے اس تحریک جن کی مجموعی طور پر قیادت عوامی ایکشن کمیٹی ہی کررہی تھی نے اس دفعہ عوام کو قابو میں رکھنے اور سٹیج کا ماضی کے نسبت انتہائی محتاط استعمال کیا ۔ اور اہم مواقعوں پر اہم اور سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور فیصلہ کئے جس سے اس بات کا اندازہ بھی ہوگیا کہ تحریک کے قائدین بذات خود سنجیدہ تھے ۔ حکومت اور عوام کے ساتھ مذاکرات کا قدم بھی انہوں نے نہایت کامیابی سے اٹھالیا ۔ ماضی میں 12روز کے دھرنے نے گندم کے قیمتوں میں 3روپے کمی کرادی جس کے بعد گلگت بلتستان کے لوگ آٹا نما چوکر کھانے لگے ۔ اب کی بار ٹیکسز کے حوالے سے موجود ایکٹ کو ہی معطل کرانے میں کامیاب ہوگئے ۔ آگے اللہ خیر کرے

’دیر آید درست آید‘ صوبائی حکومت نے حیلے بہانے کرنے کے علاوہ گلگت اتحاد چوک میں موجود دھرنے کو انتہائی ہلکا لیا ۔ چند قدم پر موجود مسلم لیگ ن کا صوبائی سیکریٹریٹ شمس میر کے بدولت بھرا ہی رہا لیکن احتجاجی دھرنے تک چند ساتھیوں کے ساتھ آنے کی توفیق نہ ہوئی ۔ بنیادی طور پر یہ دھرنا عوام کا تھا کسی کمیٹی یا انجمن کا نہیں اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتی اہلکاروں کو حاضری ضروری دینی چاہئے تھی لیکن نہیں دیا۔ اگر اس تحریک کے نتیجے میں ٹیکسز کا خاتمہ نہ ہوجاتا تو مسلم لیگ ن کو گلگت بلتستان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچنا تھا ممکن ہے کہ حکومت کے دوست نما دشمنوں نے آخری حد تک استقامت کی دعا ہی دی ہوگی لیکن صوبائی حکومت نے آخری لمحات میں معاہدے کے مطابق ٹیکسز کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کیا۔جو بدیر سہی لیکن احسن اقدام ہے ۔

گلگت بلتستان سیاسی لحاظ سے پسماندہ ترین علاقہ ہے جہاں کی سیاسی قیادت نے آج تک قومی اسمبلی نہیں دیکھی ، سینیٹ نہیں دیکھی ،صوبائی اسمبلی نہیں دیکھی ۔ گلگت بلتستان کے موجودہ اسمبلی سیٹ اپ اور سیاسی نظام کو 9برس بھی پورے نہیں ہوئے ۔ یہ اسمبلی قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان ہے یہاں پر گلگت بلتستان تک کی حد تک آئین سازی بھی نہیں ہوسکتی ہے ۔ ایسے موقع پر یہاں کے عام عوام سے یہ توقع رکھنا کہ یہ سیاسی اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی معاملات کو سمجھتے ہوئے سیاسی مطالبہ کریگی۔ گلگت بلتستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عام آدمی کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کون کون سا ٹیکس لگا ہے اور اس سے کٹوتی کتنی ہوئی ہے لیکن جب ان سے کہا گیا کہ ’غریب ‘ عوام پر ٹیکس لگایا جارہا ہے تو پورا سمندر امڑ آیا خصوصی طور پر سکردو کے عوام نے جو رد عمل دیا وہ بغیر کسی شک و شبہ کے خوفناک بھی ثابت ہوسکتا تھا ۔

یہ صرف آج کی بات نہیں کہ وفاقی حکومت کے کسی اقدام کی ایسی مخالفت کی گئی ہو مختلف مواقعوں پر ایسے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں ۔2009میں پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت کی جانب سے دئے گئے امپاور منٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے گئے ۔ 18ویں ترمیم پر بھی وفاقی حکومت کے برخلاف مطالبات سامنے آگئے ۔ پھر نیشنل ایکشن پلان اور فوجی عدالتوں پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ گلگت بلتستان دائرہ آئین میں شامل نہیں تو آئین کی یہ ترمیمات گلگت بلتستان تک توسیع کیسے پاسکتی ہیں۔ ایک مطالبہ ٹیکسز کے حوالے سے ہے، ایک مطالبہ وفاقی حکومت کی جانب سے تقریباً 6ارب سے زائد روپے سالانہ اخراجات پر مبنی گندم سبسڈی پر اس شکل میں موجود ہے کہ گندم سبسڈی گلگت بلتستان کا حق ہے اوروفاقی حکومت گندم سبسڈی دیکر ہم پر کوئی احسان نہیں کررہی ہے ۔ پھر ایک مطالبہ مقامی سطح پر کاروباری اور ملازمت کے مواقع نہ ہونے کی شکل میں ہے ۔ اگر عوامی ایکشن کمیٹی یا کوئی بھی سماجی و غیر سیاسی تنظیم اگر گلگت بلتستان کی حقیقی شکل میں خدمت کرنا چاہتی ہے اور قوم کی تربیت کابیڑا ٹھانے کی دعویدار ہے تو اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ کب تک ہم یہ راگ الاپتے رہیں کہ ’ہم متنازعہ خطہ ‘ ہیں اور متنازعہ بھی عجیب ہیں کہ کشمیر کے ساتھ ہماری بنتی نہیں اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی چاہئے لیکن سبسڈی ہم چھوڑنے کو تیار نہیں ۔ یہ وہ صورتحال ہے جو کالم کے شروع میں زکر کیاگیا ہے جس پر علامہ اقبال مرحوم کے کئی اشعار اور نظمیں موجود ہیں ۔ ہمیں ماضی پر فخر کرتے ہوئے اپنے آباو اجداد کے کارنامے سنانے سے زیادہ اب حال کی فکر کرنی ہے اور مستقبل پر توجہ دینی ہے ۔ دلیلیں اور منطقی باتیں ایک طرف عام آدمی بھی اس بات کو سمجھ رہا ہے کہ ہم سیاسی لحاظ سے کتنے تضادات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کے پھر سماجی ترقی اور سماجی زندگی پر کتنے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ استور کی سیاسی قیادت نے سماجی ترقی کے لئے ایک پلیٹ فارم سپریم کونسل کی شکل میں ترتیب دیا ہے ، دیامر میں جرگہ اہمیت کا حامل ہے دیگر علاقوں میں بھی سیاسی اور قابل شخصیات کے اجتماع سے اضلاع کی حد تک تنظیمیں موجود ہیں لیکن گلگت بلتستان کی سطح پر ایسی کوئی تنظیم موجود نہیں ہے جو ہمارے سماجی زندگی میں ایک نوجوان کی تربیت کرسکتی ہو ۔ جس کی نظر علاقے کی تعلیمی صورتحال اور اس کی بہتر ی پر ہو ، جس کے پاس صحت میں بہتری کی تجاویز ہو ۔ ہمارے پاس اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے لیکن سوچ پر تالے ہیں بلکہ جالے ہیں۔ ان تالوں اور جالوں کو توڑنے کے لئے ایسی غیر سیاسی تنظیم کی اشد ضرورت ہے جو گلگت بلتستان کے سطح پر مسائل کو دیکھتی ہو جہاں سے اٹھنے والے اعداد و شمار پر مبنی سفارشات کسی بھی موضوع پر سنجیدہ اور قابل عمل تصور کئے جاسکے ۔ بصورت دیگر ہماری مجموعی زندگی اول الذکر معاشرتی زندگی سے کسی صورت تبدیل نہیں ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments