تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش کا سینئر ڈاکٹر چھ سالوں سے غیر حاضر، رکن قومی اسمبلی کی آشیر باد حاصل

تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش کا سینئر ڈاکٹر چھ سالوں سے غیر حاضر، رکن قومی اسمبلی کی آشیر باد حاصل

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
چترال(گل حماد فاروقی)تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش میں اگر ایک طرف ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی شدید کمی ہے تو دوسری طرف ایک بااثر ڈاکٹر پچھلے چھ سالوں سے غیر حاضر ہے اور گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے۔
اس سلسلے میں جب ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش کے میڈیکل آفیسر انچارج (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ) ڈاکٹر فضل ربانی سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی تصدیق کرلی کہ ڈاکٹر بختار الدین جو ا کاغذی کاروائی میں س ہسپتال میں تعینات ہے مگر وہ ڈیوٹی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس ہسپتال میں دو تین سال ہوئے مگر میرے آنے سے پہلے بھی وہ ڈیوٹی نہیں کرتا تھا۔
جب سے میں نے چارج سنبھالا ہے میں حاضری رجسٹر میں اس کی غیر حاضری لگاتا تھا مگر وہ ہسپتال آکر زبردستی اس کے اوپر حاضری لگاتا تھا جو صاف نظر آتا تھا کہ اس کے اوپر دوبارہ لکھائی ہوئی ہے۔مگر پچھلے کئی ماہ سے وہ ہسپتال ہی نہیں آتا اور نہ ہی حاضری لگاتا ہے۔ تاہم اس نے ہسپتا ل کے اندر ایک سرکاری کوارٹر بھی قبضہ کیا ہے حالانکہ اس کا اپنا گھر دروش میں موجود ہے اگر وہ اس سرکاری مکان کو حالی کرے تو بھی بڑی بات ہوگی تاکہ کسی غیر مقامی ڈاکٹر کو یہ کوارٹر الاٹ کیا جاسکے۔
ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فضل ربانی نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر بختیار کے غیر حاضری کی رپورٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال کو بھیجا ہوا ہے اس سے زیادہ میں اس کے حلاف کچھ کر بھی نہیں سکتا ہوں۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ موصوف چترال کے موجودہ رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتحار الدین کا چچا ہے اور اس سے پہلے اس کا بھائی شہزادی محی الدین ریاستی وزیر برائے سیاحت اور رکن قومی اسمبلی تھے جس کو ان کا آشیر باد حاصل تھا یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر کے حلاف اتنے لمبے عرصے کیلئے غیر حاضر ہونے کے باوجود کوئی محکمانہ کاروائی نہیں ہوئی اور وہ آرام سے گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے۔
اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسراراللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی دبی الفاظ میں اپنی بے بسی کا رونا رویا کہ ہم تو صرف ڈائریکٹر جنرل یا زیادہ سے زیادہ سیکرٹری ہیلتھ کو کسی غیر حاضر ڈاکٹر کے حلاف رپورٹ بھیج سکتے ہیں اس پر اگر بالائی سطح پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔
چترال کے سماجی اور سیاسی طبقہ فکر نے انصاف کے دعویدار صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کے محتلف ہسپتالوں میں غیر عملہ کے حلاف کاروائی کی جائے اور چترال میں ڈاکٹروں کی 90 حالی آسامیاں بھی فوری طور پر پُر کی جائے۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔