میں گیا تحصیل آفیس 

میں گیا تحصیل آفیس 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کہتے ہیں کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔ یہی محاورہ دماغ میں لئے میں تحصیل آفس چل پڑا، جہاں مجھے ایک ادارے کو حکومت کے ساتھ رجسٹر کرناتھا۔ تحصیل جانے سے قبل میں نے چند دوستوں سے بھی مشورہ کیا، تاکہ انکی رائے بھی لی جاسکے۔ امید یہی تھی کہ انکی رائے سے مدد ملے گی اور کام میں آسانی پیدا ہوگی۔ مدد تو ملی لیکن زبانی۔ آج کل زبانی مدد بہت زیادہ ملتی ہے۔ رجسٹریشن مکمل کرنے کے لئے ممکنہ وقت کے بارے میں دوستوں سے پوچھا تو کسی نے کہا کہ دوہفتے لگیں گے ، کسی نے کہا کہ شائد مہینہ بھی لگ جائے۔ میرے لئے ضروری تھا کہ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے اس کام کو نمٹا سکوں ۔

ایک صبح اُٹھا اور دفتر کی جانب چل پڑا۔ جلدی اُٹھنے اور دفتر کی جانب روانہ ہونے پر اپنی ہمت کو داد بھی دی۔ خیر، گلگت کے مختصر سے بازار سے گزرتے ہوے میں گھڑی باغ میں واقع تحصیل آفس پہنچا، جہاں بزرگوں اور دیگر حضرات کا ایک جم غفیر اکٹھا ہوا تھا۔ کسی کو بیٹھنے کے لئے بینچ نصیب تھا تو کوئی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ کچھ حضرات فرش پر بھی آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے۔ دھیرے دھیرے اس مجموعے میں داخل ہوا تو لوگوں کو چہروں کو غور سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ دیکھ کر بہت حیرت اور پریشانی ہوئی کہ زیادہ تر بزرگوں کے چہروں سے بشاشت، تازگی اور مسکراہٹ غائب تھی۔ پریشانی نے ڈیرے ڈالے ہوے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان کی عمریں بیت گئی تھیں اور انکو اب بھی کسی شے کا انتظار تھا۔ اب انتظار کس چیز کا تھا یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔

تحریر: احسام اللہ بیگ 

تحریر: احسام اللہ بیگ

ایک دفتر میں داخل ہوتے ہی میں نے باآواز بلند سلام کیا، تاکہ میز پر جھکا شخص میری طرف متوجہ ہوجائے۔ اور یہ ہوا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا، صرف تھوڑی دیر کے لئے، اور پھر اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ مجھے ایسا لگا کہ انہوں نے آواز نکالے بغیر ہی میرے سلام کا جواب دیا ہوگا، کیونکہ آواز مجھے تو سنائی نہیں دی۔ خیر، اس الجھن میں زیادہ پڑے بغیر اور وقت کی تنگی کا خیال کرتے ہوے میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے اپنا این جی او رجسٹر کرنے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ اور اس سلسلے میں ان کی مدد بھی طلب کی۔ انہوں نے وقت ضائع کئے بغیر کہہ دیا، ’’مجھے نہیں پتا‘‘۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا۔ دوسرے کمروں کی طرف نظر دوڑایا اور ان پر لگے چھوٹے بورڑد بھی پڑھ ڈالے۔ لیکن اس سے بھی کچھ سمجھ نہیں آیا مجھے۔

دفتروں کے سامنے چہل قدمی کرتے ہوے ایک ضعیف العمر بزرگ پر نظر پڑی۔ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے ایک دفتر کی طرف رخ کرکے مجھے وہاں جانے کا بتایا۔ اللہ انکو مزید لمبی عمر اور اچھی صحت دے ، کیونکہ انہوں نے مجھے صیح مقام تک پہنچادیا تھا۔

دفتر میں موجود شخص نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہا۔ جس سے میری ہمت بڑھی، اور میں نے اپنا مدعا بتا دیا۔ انہوں نے ایک کتابچہ دکھا کر کہا کہ اس طرح کی کتابچہ آپ بھی بنوالیں۔ یہدیکھکر میرے تو ہوش اُڑگئے۔ اگر میں کتابیں لکھنے والا ہوتا تو مصنف بن چکا ہوتا۔ خیر، کام کو مکمل کرنے کا عزم کیا ہوا تھا۔ دن رات کام کرنے کے بعد ایک ہفتے کے دوران میں نے وہ کتابچہ لکھ ہی ڈالا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میرا نوے فیصد کام مکمل ہوچکاہے اور کل ہی مجھے رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ مل جائیگا۔ میری خوش فہمی دیکھیں!

ایک دن دوبارہ کاغذات بغل میں دبائے تحصیل دفتر آدھمکا۔ یہ الگ بات کہ اس بار بھی دھچکا ہی ملا،اور پچھلے دھچکے سے کافی زیادہ زور داد دھچکا تھا یہ۔ مجھے بتایا گیا کہ اس کتابچے کی نقل سوشل ویلفیر بورڈ کے دفتر میں جمع کروانا ہے اور پولیس سٹیشن میں بھی۔ جتنا وقت اور جتنی محنت مجھے سوشل ویلفئیر کے آفس جانے اور وہاں سے دستخظ کروانے میں لگے، اس کی داستان الگ ہے۔ اتنی محنت سے تو شائد کوئی شخص امریکہ اور کینیڈا کی شہریت ہی حاصل کر لے۔ بہرحال، ہم نے وہ کام بھی کردیا۔ تہیہ جو کر رکھا تھا کام مکمل کرنے کا۔

اس بھاگ دوڑ میں مجھے پندرہ دن لگ چکے تھے لیکن کام پچاس فیصد بھی نہیں ہوسکاتھا۔ ہمت لیکن جوان تھی۔ آخری چکر پولیس سٹیشن کا لگانا تھا۔ جہاں قصہ ہی اُلٹا تھا۔ میں نے اپنی ٹیم میں ہر ضلع سے بندے شامل کئے ہوے تھے، اس لئے ہر ضلع میں متعلقہ پولیس اہلکاروں سے دستخط لینا لازمی تھا۔ اس سلسلے میں وقت اور وسائل کا جو ضیاع ہوا، اسکی تو نہ پوچھے۔ اسی دوران مجھے خیال آیا کہ اگر میں کسی کسان کی بجائے کسی بڑے سیاستدان یا پھر کسی بڑے بیوروکریٹ کا بیٹاہوتا تو یہ سارا کام بہت جلدی ہوسکتا تھا۔ ہاں، لیکن اپنا کام خود کرنے میں بڑائی ہے۔ اسلئے دل میں تسلی تھی کہ کام کا جو تجربہ مجھے مل رہا تھاوہ سیاستدان کے بیٹے یا بیٹی کو نہیں مل رہا ہوگا۔

کام مکمل کرنا تھا۔ اسلئے کسی قسم کا عذر اور کسی قسم کی رکاوٹ کو آڑے لانا اپنے ارادے کو شکست دینے کے مترادف تھا۔ اپنے کردار کی سند لینے کے لئے پولیس کے پاس جانا تھا۔ اور بہت جلدی میرے کردار کی ویری فیکیشن ہو بھی گئی۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق میرا کرداد چٹا، اجلاہے۔ دوسرے دوستوں کے کردار کی سند لینے میں البتہ وقت لگ رہا تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ بد کردار تھے۔ بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ کبھی ایس پی صاحب ضلعے سے باہر تھے اور کبھی ڈاکیا نے درخواست کسی اور جگہ پہنچادیا تھا۔

کبھی کبھار ایسا بھی ہوا کہ ہماری درخواست ہی گم ہو گئی۔ آج بھی ویریفیکیشن کا کام مکمل نہیں ہوسکاہے۔ تین مہینے گزر چکے ہیں۔ اور اسی سست نظام کا حصہ بن کر مجھے بھی تین مہینے بعد ہی اس معاملے پر قلم اُٹھانے کا خیال آیا ہے۔ کانِ نمک میں نمک ہوگیا ہوں شائد، میں بھی۔

اب تو حالت یہ ہے کہ کبھی لیٹ جاتا ہوں تو وہ درخواستیں میری نظروں کے سامنے آجاتی ہیں اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ نہ جانے کونسے دفتر کے کس الماری ( یا خدا نخواستہ ردی کی ٹوکری ) میں میری درخواستیں پڑی ہونگی۔ صرف ایک دستخط کے انتظار میں ۔

یہ مضمون تھوڑا طویل ہوگیاہے۔ لیکن دو باتیں دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتاہوں۔ اور وہ یہ کہ دولت واپس آسکتی ہے، لیکن وقت دوبارہ نہیں مل سکتا۔ جو کام دو دنوں میں مکمل ہوسکتا تھا، اسکی تکمیل میں مہینے اور بعض اوقات سال لگ جاتے ہیں۔ اس ضیاع کو کوئی ازالہ کرسکتاہے؟ شائد کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وقت یک رخی ہے۔ پیچھے کی طرف نہیں چلتا۔

دوسری بات، ہم اکیسویں میں دس ۱۴ سالوں سے زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہمارا سارا نظام اب بھی کاغذی ہے۔ یہ نظام نہ صرف غیر موثر ہے بلکہ اس میں شفافیت برقرار کھنا بھی ناممکن ہے۔ ایسے میں ہمارا معاشرہ آگے کی طرف کیسے چل سکتا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ تحصیل کے باہر بینچوں اور سیڑھیوں پر بیٹھے وہ بزرگ اور نوجوان بھی کسی دستخط یا کسی کاغذ کے منتظر ہیں۔ اور نہ جانے کتنی دیرسے منتظر ہیں۔ ہاں، یہ بھی سنا ہے کہ اگر ہتھیلیاں گیلی کر دی جائے، یا مٹھی گرم کر دیا جائے، تو کام برقرفتاری سے ہو سکت اہے.

 اگر اس نظام کو کمپیوٹرائزڈ کردیا جائے اور کام کی رفتار میں تیزی آسکتی ہے۔ لوگوں کو کاغذیں لے کر ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن، بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کا کون؟ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ہم تنقید تو کرتے ہیں لیکن خود احتسابی اور عملی اقدامات سے دور بھاگتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ مل کر اس غیر شفاف اور غیر موثر دفتری نظام میں بدلاو کے لئے کوششیں کرے۔

اقبال نے کہا تھا،

سامنے رکھتا ہوں اس دورِ نشاط افزا کو میں

دیکھتا ہوں دوش کے آئینے میں فردا کو میں

اللہ ہم سب کا حامی اور ناصر ہو۔ آمین

Twitter: ehsamB, Email: ehsamgulmit@yahoo.com

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔