ماسٹر حقیقت علی مرحوم کی یاد میں

ماسٹر حقیقت علی مرحوم کی یاد میں

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریراحمد جامی سخیؔ،
ایم ۔اے عمرانیات، کراچی یونیورسٹی

ماسٹر حقیقت علی مرحوم کا تعلق گوجال کے ایک چھوٹے سے گاؤں پھسو سے تھا۔جہاں آپ عین عالم شباب میں اس دار فانی سے دار البقاء کی جانب سے آج 23 سال پہلے کُوچ کر گئے۔ ماسٹر حقیقت علی ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ جنہوں نے اپنی انتھک محنت اور دیانتداری کے سبب نہ صرف اپنے شاگردوں میں بلکہ پورے معاشرے میں مقام پیدا کیا۔ آپ اپنی تدریسی خدمات اور ادبی سرگرمیوں کے سبب نہ صرف ہننزہ گوجال بلکہ مُلکی اور بین الاقوامی سطح پر پر بھی ایک جانی پہچانی شخصیت بن چُکے تھے۔ آپ نے کئی سال تک ڈی۔جے۔ پرائمری سکول پھسو میں بطور مُدرس اور صدر مُعلم کے 1960-70 کے عشروں میں خدمات سرانجام دئیے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب و کامران افراد پیدا کئے۔ آپ حلیم الطبع اور انتہائی ملنسار شخصیت کے حامل انسان تھے۔ آپ کی شخصیت میں ایک قدرتی جاذبیت اور کشش تھی۔ آپ مُخاطبین کے ساتھ انتہائی دھیمی آواز میں بات کرتے اور جہاں اختلاف رائے نظر آتا تو کوئی مصالحانہ حل تجویز کرتے اور جانبین کے لئے قابل ہوتا۔

05اُستاد حقیقت علی نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی طبع آزمائی کی اور کئی سال تک بیرون مُلک سے آنے والے سیاحوں کے ساتھ بطور ترجمان اور گائیڈ کے کام کرتے رہے۔ آپ نے اپنے تجربات پر مبنی دو کتابچے The Trekkess Guide to Hunza and The Trekkess Guide to Chitralتصنیف کئے اور آنے والی نسلوں کے لئے یاد گار چھوڑا ہے۔

نیز استاد حقیقت علی اپنی ثقافت اور زبان سے بھی انتہائی لگاؤ رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ موصوف نے1980ء کے عشرے میں وخی زبان کی پہلی پرائمر (قاعدہ) رومن رسم الخط میں تحریر کی۔ جو کسی مقامی مصنف کی طرف سے اپنی نوعیت کی پہلی ادبی کاوش تھی۔

آپ نے اس سلسلے میں کئی مغربی ماہرین علم السانیات کے ساتھ بطور ترجمان اور وخی زبان کے گائیڈ کے طور پر کام کیا۔ جن میں پروفیسر ہدروس (جرمن) اور پروفیسر علینا بشیر (برطانوی) قابل ذکر ہیں۔

آپ ایک مُفکر اور مُدبر انسان تھے۔ اس لئے آپ نے قدین روایات اور جدیدیت کے مابین ایک پُل کا کردار ادا کیا۔ جہاں آپ کو اپنی اچھی قدین روایات کے ساتھ لگاؤ تھا۔ وہی پر آپ نئی نسل کوجدید سائنسی اور فنی علوم سے آراستہ اور پیراستہ دیکھنا چاہتے تھے۔ اگرچہ آپ کو ہم سے جُدا ہوئے 23 سال گزر چُکے ہیں۔ لیکن آپکی یادیں اور کام کے حوالے سے آج بھی استاد حقیقت علی ہمارے مابین زندہ اور تابندہ شخصیت کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ آخر میں رب کائنات کے حضور دُعا ہے کہ خُدا تعالی مرحوم کی روح کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور اُنکے درجات بلند کرے۔ (آمین)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔