قائداعظم ،ایک عہدساز شخصیت

قائداعظم ،ایک عہدساز شخصیت

49 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

الواعظ نزار فرمان علی

آپ سب کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی سالگرہ کے موقع پرلاکھوں مبارکباد اور اس کے ساتھ ساتھ ارضِ پاک خصوصاً گلگت بلتستان میں آباد مسیحی برادری کوحضرت عیسیٰؑ روح اللہ کے میلادِ مبارک کے پرمسرت موقع پر ہدیہ تبریکات پیش کرتا ہوں۔مسیحی کمیونٹی کی پاکستان کی خوشحالی و ترقی میں مثالی خدمات ہیں ۔

بزرگان دین کی اصلاحی و عرفانی کاوشوں ، اکابر رہنمائوں کی ہمہ تن جدو جہد،سر سید کے مشن، حضر ت اقبالؒکے وژن ، شہداء کے لہو ، ماوں، بہنوں ، بزرگوں ، نوجونوں سمیت ہر ایک کی بے لوث ایثارو قربانی اور خاص طور پر حضرت قائد اعظمؒ کی سحر انگیز قیادت ،فرشتگانہ خصلت،شب و روز کی ان تھک محنت و ثمر آورریاضتوں کی بدولت آج ہم ایک آزاد و خود مختار ملک کے شہری ہیں۔ جن کا تن و من اور دھن و آبرو پاکستان تھا جو بذات خود جیتا جاگتا پاکستان تھا۔اسی لئے آج وہ ہم سب کے سروں کا تاج ہے۔

محسن ملت ،بانی پاکستان ،بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ 25دسمبر1876 کو کراچی کھارادر میں وزیر مینشن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد جناح پونجا معروف تاجر تھے جو آپ کی ولادت سے چند برس پہلے ہی کاروبار میں توسیع کے لئے راجکوٹ سے کراچی منتقل ہوئے اور کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔

محمد علی جناح ؒاپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، بھائیوں میں احمد علی اور بندے علی جو زیادہ مشہور نہیں ہوئے،مادر ملت فاطمہ جناح جنہوں نے زندگی کے ہر موڈ پر زبردست ساتھ دیا دوسری دو بہنیں مریم اور شیرین بھی جو غیر معروف رہیں۔

آپ 1885 اور 1886 پرائمری سکول بمبئی میں پھر سندھ مدرسۃ اسلام اور کرسچن مشن ہائی سکول کراچی میں تعلیم پائی۔16 برس کی عمر میں اعلٰی تعلیم کے حصول کے لئے انگلستان گئے وہاں لنکن ان سے بار ایٹ لاء کا امتحان پاس کیا۔انگلستان جانے سے ایک سال پہلے1891 میں ایک رشتہ دار امی بائی سے شادی ہوئی جو انگلستان میں آپ کے تعلیی دور میں انتقال کرگئیں۔

1918 ء میں بمبئی کے رئیس اعظم کی دختر رتی بائی سے شرعِ اسلام کے مطابق شادی ہوئی۔جو 1929 ء میں فوت ہوئی ان کے بطن سے ایک لڑکی دینا 5 اگست1919 کو پیدا ہوئی۔ہمارے عظیم رہنماء پچپن ہی سے بے پناہ محنت،تندہی و جانفشانی کے پیکر تھے۔مسلسل کام سے نہ تھکنے والا انسان اپنی ناتواں صحت کے باوجود ،8گھنٹے متواتر کام کرنا معمول تھا۔جس کی ایک یاد گار مثال18 سال کی کم عمری میں اپنی بیریسٹری مکمل کرنا۔ آپ ہندوستان کے پہلے طالب علم تھے جن کو یہ خصوصی اعزاز حاصل ہوا اور یہ نیا ریکارڈ بنایا۔علامہ اقبال کے شعر سے بھی ترجمانی ہوتی ہے۔
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

آپ اپنی صفائی پسندی اور اعلیٰ ذوقی کی بدولت برصغیر میں بیسٹ ڈریسڈ شخصیت مانے جاتے تھے۔ آپ کے قریبی دوست بیان کرتے ہیں کہ قدرت نے نہایت خوبصورت ، طویل القامت و دبلا جسامت عطا کیا تھا۔ آپ کی وجاہت ایسی دلکش تھی کہ وہ جو لباس پہنتے بہت سجتا تھا۔ اعلیٰ درجے کا سلا ہوا لباس پہنتے تھے جس میں سوٹ اور شیروانی دونوں شامل ہیں۔ ہلکے رنگ جن میں، سرمئی، کریم یا آف وائٹ ، بادامی وغیرہ پسند تھی۔شیروانی کے ساتھ شلوار یا تنگ پاجامہ پہنتے تھے۔ ابتدائی زمانے میں ترک ٹوپی بعد میں جناح کیپ پہنتے تھے جو پوری دنیا میں ان کے نام سے مشہور ہوئی۔ پڑھتے وقت عینک کے بجائے Monocol استعمال کرتے تھی۔

قانون کی اعلی ڈگری حاصل کرکے کراچی تشریف لے آئے یہاں پر کچھ وقت وکالت کرنے کے بعد بمبئی چلا گیااور مختصر عرصے میں نامور و معتبر وکیلوں میں شمار ہونے لگا۔آپ اپنی لیاقت ،دیانت و اصول پسندی کی بناء پر پریذیڈنسی مجسٹریٹ مقرر ہوئے ۔آپ نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کانگریس سے کیا بعد میں مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے اختلاف پر کانگریس کو خیر باد کہہ دیا اور 1913 میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی ۔تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کی جنگ ہر محاذ پر جر ات و دلیری سے مدلل انداز میں لڑی۔

1916 میں مسلم لیگ کے لکھنو میں منعقدہ اجلاس میں صدر منتخب ہوئے یہ آپ ہی کی جدوجہدکا نتیجہ تھا کہ مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان معاہد ہ طے پایا جو میثاق لکھنو کے نام سے مشہور ہے جس میں کانگریس مسلمانوں کے مطالبات ماننے پر تیا ر ہوگئی اور اکھٹے جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہارکیا۔اس عظیم تاریخی کارنامے کی یاد میں بمبئی کے شہریوں نے ایک ہال بنایا جو جناح ہال کے نام سے مشہور ہے۔ میثاق لکھنو کے بعد آپ کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر بھی کہا جانے لگا۔عاجزی و انکساری آپ کی ذات کا نمایاں پہلو تھاآپ کی سحر انگیز شخصیت ہر ایک کے سامنے کھلی کتاب کی طرح عیاں تھی ، 6نومبر 1942ء کو مسلم ایسو سی ایشن کی عید ملن پارٹی سے خطاب کے دوران فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں ، مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے لہٰذا ہرشخص کو اختیار ہے کہ میرے کام کے بارے میں مشورے دے اور اس پہ تنقید کرے ۔بلا شبہ آپ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں ، مروجہ علوم اور بین الاقوامی امور پر دسترس حاصل ہونے کے باوجود اس بات کا برملا اظہار فرماتے کہ میں عالم مولانا نہیں ہوں اور نہ ہی دینیات کا ماہر ہوں لیکن میں ایک سادہ لوح انسان اور مخلص مسلمان کی حیثیت سے اپنے اعلیٰ مرتبہ اسلام مذہب کا علمبردار ہوں۔اس کی تابندہ مثال آپ نے اپنی قانون کی تعلیم کے لئے کسی اور ادارے کے بجائے لنکن ان کا انتخاب اس لئے کیا تھا کہ اس ادارے کے دروازے پر دنیا کے عظیم قانون دانوں کی فہرست میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐکا نام تحریر تھا۔ یہ آپ کے دل میں رسول خداؐ کے لئے بے حد عشق و محبت کا مظہر ہے۔

دوست احباب اور تحریکی کارکنوں کو ہمیشہ اس بات کی تاکید فرماتے کہ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر فرد خاص طور سے ہر نوجوان پاکستان کو اسلام کا ایک مضبوط قلعہ بنانے میں اپنا بھر پور رول ادا کریں، پاکستان تعلیم و تربیت کا ایسا منبع و مرکز ہو جہاں ایک نشاۃ ثانیہ (renaissance ) رو بہ عمل آسکے۔ آپ چاہتے تھے کہ یہاں سے ایسے مسلمان، دانشور، ڈاکٹرز، انجینئرز،سائنسدان اور مختلف شعبوں کے ماہرین کی ایک نئی پود سامنے آئے اور اس نشاۃ ثانیہ کی بدولت ہمارے دوسرے مسلم ممالک بھی فیضیاب ہو سکیں اس طرح سے مشرق وسطیٰ کا پورا علاقہ ایک مضبوط و مستحکم Third block کی شکل میں عالمی برادری میں اپنا فعال اور غیر جانب دار کردار ادا کرتا رہے۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ ملک و ملت کی تعمیر ، ترقی اور یکجہتی برقرار رکھنے کے لئے خواتین کے موثر کردار کو ہمیشہ اجاگر کرتے رہتے ۔ اس حوالے سے آپ فرماتے تھے عورتیں ہی نوجوان نسل کا چال چلن ڈھالتی ہیں ، مائیں جن بچوں کی صحت مند پرورش و تربیت کرتی ہیں وہی بچے جوان ہو کر ایک مضبوط اور طاقتور ملک کے آہنی ستوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔آپ کو یہ تشویش لاحق تھی کہ خواتین اگر ناخواندہ رہیں گی تو ہماری نئی نسل کس طرح تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہوگی ۔قائد عورتوں کے حالات و مشکلات سے پوری طرح باخبر تھے ۔ آپ کا خیال تھا کہ ہمارامعاشرہ فرسودہ روایات کا شکار ہو کر عورتوں کو بے جا پابند سلاسل کر دیتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ مغرب کی اندھی تقلید کے سخت مخالف تھے آپ کی خواہش تھی کہ اسلامی اقدار و معیارات کے مطابق عورتوں کو حقوق ملیں ، وہ شرم و حیاء کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے گھر میں بھی اور باہر بھی ایک مضبوط کردار ادا کر سکتی ہیں۔جس کاٹھوس ثبوت مارچ1940ء لاہور کے صدراتی خطبے میں ایک خواتین کمیٹی کا اعلان ہے۔

1935 میں مسلم لیگ ہندوستان کا صدر منتخب کیا گیا اور مسلسل 12 سال تک بحیثیت صدر منتخب ہوتے رہے جس سے عوام اور اکابرین کا آپ سے والہانہ محبت اور بھرپور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔آپ کی حکیمانہ قیادت نے مسلم لیگ کی تنظیم نو کرکے ملک کے کونے کونے میں شاخیں قائم کیں جس سے جماعت میں تازہ روح داخل ہوگئی۔جب انگریزوں کو احساس ہو گیا کہ ہندوستان کی دونوں جماعتیں اپنے نظریاتی موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مذہبی، ثقافتی و تہذیبی بنیاد پر انہیں دو ریاستوں میں تقسیم کیا جائے چنانچہ 1940 ء میں قرار داد پاکستان کے ذریعے پاکستان کا مطالبہ کیا گیا اور بالاآخر947میں برطانوی حکومت کو اعلانِ پاکستان کرنا پڑا۔

ہمارے عظیم قائد آزاد وطن کے پاکیزہ خیال کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے جنون کی حد تک وابسگی کا اندازہ اس تلخ حقیقت سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب ڈاکٹروں نے آزادی سے چند سال قبل ایک موذی مرض کی نشاندہی کرکے مکمل آرام کا مشورہ دیا تو آپ نے اپنی انمول زندگی کی پرواہ کئے بغیر اپنی توانائیاں آخری سانس تک غیر معمولی محنت و نتیجہ خیز جدوجہد جاری رکھ کر اقوام عالم پرواضح کردیا کہ حقیقی لیڈر اپنی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے ،انہیں آزادی کا نور ِشعور عطا کرکے منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے اپنی پیاری سی پیاری چیز نچھاور کرنا باعث راحت و افتخار سمجھتے ہیں۔آزادی وطن سے کافی عرصہ پہلے سے متعدد مسلم لیڈاران و اکابرین نے کئی موقعوں پر بڑے عوامی اجتماعات میں آپ کو قائد اعظم کے منفرد و یگانہ لقب سے پکارا مگر اس کے ساتھ ایک اور دلچسپ روایت بھی مشہور ہے کہ خود مہاتما گاندھی بھی جو آپ کے مد مقابل اہم لیڈر تھے ان کا بھی دعویٰ تھا کہ میں جناح کو قائد اعظم کہنے والوں میں سرفہرست ہوں۔

اگست947 1 کو پاکستان کے گورنر جنرل بنے ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے پہلے دستور ساز اسمبلی کے صدر بھی منتخب ہوئے لیکن آپ صرف ایک ہی اجلاس میں شریک ہوسکے کیونکہ محنت شاقہ اور خطرناک بیماری نے آپ کو گھیر لیا تھا اور آپ کچھ آرام کی غرض سے بلوچستان کے صحت افزاء مقام زیارت روانہ ہوئے اور 11 ستمبر 1948 کو رحلت فرمائی۔آپ کا مقبرہ شہر کراچی کے قلب میں تعمیر کیا گیا ہے۔

آپ کی شخصیت پر قلم اُٹھانے والے انگنت محقیقین وتاریخ نگاروں نے اپنی تحریرں و تقریروں میں ہمارے لئے بہت سی انمول باتیں محفوظ کی ہیں۔ آپ اکثر طالب علموں کو پرزور الفاظ میں فرماتے تھے کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں،اور میں ایک مسلمان کی حیثیت میں وفات پاونگا۔ جہاں آپ صاف ستھرےاور کھرے مسلمان تھے اور باقاعدہ قرآن انگریزی ترجمے کے ساتھ پڑھتے تھے۔آپ کی تقریروں میں جابجا قرآن و حدیث کے اقتباسات ملتے ہیں آپ نے مختلف مواقعوں پراپنی تقریروں میں کہا کہ ہمارے رسول اللہؐ ساری انسانیت کے لئے عظیم رول ماڈل ہیں۔ ہماری نجات اسی میں ہے کہ آپ ؐ کے لافانی اصولوں سچائی ،دیانت داری ،مساوات ، برداشت و رواداری کی بنیاد پر تشکیل دیں اور اس بات پرہمیشہ زور دیا کہ تم میں سے ہر فرد خواہ اس کارنگ سفید یا سیاہ،کسی بھی مسلک طبقہ،تہذیب و تمدن اور دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق ہو بہر صورت پاکستان کا باشندہ اور شہری ہوگا اور سب کے حقوق اور مراعات برابر ہونگی۔گویا اس عظیم اسلامی جمہوری فلاحی مملکت کی بنیادوں میں اسلامی اقدار کی روح شامل ہوگی۔

آئیں آج کے اس یوم سعید کے موقع پرہم تمام پاکستانی اللہ اور اسکے پیارے رسول ؐکی تعلیمات کی روشنی میں اپنے قول و فعل کو ٹٹولنے کی کوشش کریں۔ سرزمیں پاک سے تعلق رکھنے والے زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد ،اپنے عظیم اسلاف پرگامزن رہتے ہوئے سندھی، پنجابی ، پٹھان ،بلوچی گلگتی و کشمیری اور بین المسلکی و سماجی امتیازات سے بالاتر ہوکرایک سچے اور مخلص پاکستانی ہوکر سوچیں۔ ہم یہ نہ کہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے پاکستان نے تو ہمیں بہت کچھ دیا ہے در حقیقت آج ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے پیارے پاکستان کو کیا دیا ہے اور قائد کے بتائے ہوئے رہنماء اصولوں یقین محکم ،اتحاد اور تنظیم کی روشنی میں کام کام اور کام کے ذریعے دنیا میں اپنا اور پاکستان کا نام اونچا کرنا ہی۔
آمین یارب العالمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔