غذر بم منصوبہ اور مستقبل کے خدشات

غذر بم منصوبہ اور مستقبل کے خدشات

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر بم حملے کے منصوبے میں ٹارگیٹ گورنر صاحب تھے یا نہیں، اس بحث میں الجھنے سے قبل پروردیگار عالم کا لاکھ بار شکرکہ اس نے ایک فقیدالمثال امن والے علاقے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا !

بعدآزاں آفرین غذر کی ضلعی انتظامیہ کو کہ انہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 13کلو وزنی بم کو بم ڈسپوزل سکواڈ کی مدد سے ناکارہ بنادیا ۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ ڈپٹی کمشنر غذر رائے منظورحسین اور ایس پی فرمان علی نے تو کم از کم گلگت والوں کی طرح اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایک تخریب کاری کے منصوبے کو بلاسٹنگ والا بارودی مواد کانام دیکر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جیسا کہ گلگت انتظامیہ نے گزشتہ سال سکردو روڈ پر واقع عالم برج کے قریب ایک ایسے ہی واقعہ کوبارودی مواد کے پھٹنے کا نتیجہ قرار دیکر راتوں رات پریس کانفرنس کے زریعے سارا ملبہ بے چارے حراموش والوں پرڈال کرعلاقے کے سادہ لوح عوام کو یہ باورکرانے کی کوشش کی کہ ان ہوتے ہوئے کوئی مائی کالال گلگت میں تخریب کاری نہیں کرسکتا۔ اس وقت کی صوبائی حکومت اور انتظامیہ نے پھر بھی عوامی مطالبے پر حراموش واقعہ کی مکمل تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر آج تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ اس سے قبل جوٹیال میں میری ہمسایگی میں واقع ایک مسجد کے نمازیوں کو نشانہ بنانے کے لئے اسی طرح کی ایک مذموم منصوبہ بندی کی گئی اور محلہ کے غیور نوجوانوں کی اطلاع پر بم ڈسپوزل سکواڈ نے اس مذموم سازش کو تو ناکام بنادیا لیکن حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی میں ملوث عناصرکا تعاقب کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی ۔ جس کی وجہ سے آج شرپسند عناصر گلگت کے بعدغذر جیسے ایک پرامن ضلع میں بھی داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور ہم صرف افسوس اور مذمت کرتے رہ گئے۔

ضلعی ہیڈکوارٹرگاہکوچ سے محض چند کلومیٹر کی مسافت پرواقع گاؤں سلپی میں 13کلووزنی بم نصب کرنا اگرچہ ضلع غذر کی تاریخ میں دہشت گردی کا پہلا واقعہ ہے لیکن اس سازش کے پیچھے بہت سارے وجوہات اور عناصر کارفرما ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طورپر سلپی نامی گاؤں پاکستان اور تاجکستان کے سرحدوں کو ملانے والے راستے میں واقع ہے جو مستقبل میں تاجکستان روڈ کی تعمیر کے بعد بہت زیادہ اہمت کا حامل ہوسکتا ہے۔اسی تناظر میں یہ ان قوتوں کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے جو غذر تاجکستان روڈ کے زریعے گلگت بلتستان کو سنٹرل ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل ہونے سے خائف ہیں۔کیونکہ ماضی میں جب تاجکستان روڈ کی تعمیر کے حوالے سے خبریں گردش کرنے لگی تو افغانستان نے اس کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اس منصوبے میں شراکت دار بننے کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا لیکن پاکستان اور تاجکستان کی جانب سے اس مطالبے کو مسترد کیا گیا اور یوں یہ منصبوبہ ابھی تک التواء کا شکار ہے۔

افغانستان کے علاوہ امریکہ بھی ہے، جو پاکستان اور چین کے مابین دوستانہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرنے کے باوجود ناکام رہنے کے بعداب غذر تاجکستان روڈ منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے درپے ہو، اور ہوسکتا ہے یہ کارروائی اسی سازش کی طرف پہلا قدم ہو، کیونکہ امریکہ اپنی سنٹرل ایشیا انسٹی ٹیوٹ نامی این جی او کے زریعے پہلے ہی سے اسی پٹی کے سرحدی علاقوں میں تعلیم اور دستکاری کے منصوبوں پر زوروشور سے کام کررہا ہے۔ جس کے سربراہ پر سی آئی اے کے ایجنٹ ہونے کا الزام ہے۔ پھر بھارت کا گلگت بلتستان کے معاملات میں کباب میں ہڈی بنناتو اپنی جگہ ہے ہی۔ اس کے علاوہ غذر کی سرحدی حدود بیک وقت اہم قومی وبین الاقوامی سرحدوں سے ملتا ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں غذرکے سرحدی علاقوں میں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس صورتحال میں کوئی بھی شخص کسی بھی وقت کسی بھی سرحدی راستے سے آرام وسکون کے ساتھ اس ضلع میں داخل ہوسکتا ہے۔

یہ محض ایک تجزیہ یا پیش گوئی ہی نہیں بلکہ میرا اپنا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ آج سے چند برس قبل درکوت بارڈر کے زریعے بروغل سے درجنوں کی تعداد میں لوگ مال مویشی لیکر غذر میں داخل ہوجاتے تھے اور بازار سے سودہ سلف کی خریداری کے کئی روز بعد واپس اسی راستے سے اپنے علاقے کا رخ کرلیتے تھے۔ لیکن کافی عرصے سے گاؤں میں قیام پذیر نہ ہونے کے سبب ابھی کی صورتحال کا مجھے بھی کوئی خاص علم نہیں البتہ یہ سننے میں ضرورآیا ہے کہ غذر کے بارڈرز پر سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ اسی طرح ماضی قریب میں مختلف نالہ جات کے راستے غیرمقامی افراد غذر کے حدود میں داخل ہوکر مال مویشی چرانے اور مقامی لوگوں کو زدوکوب کرنے میں ملوث ہونے کے حوالے سے بھی خبریں گردش کرتی رہی ہیں جبکہ شندور پاس کے زریعے گلگت اور چترال کے مابین مسافر گاڑیوں کی آمدورفت بھی اپنی جگہ جاری وساری ہے۔

ان تمام تر خدشات سے ہٹ کر شرپسند عناصر چاہے تو ایک ملک کے فوجی ہیڈکوارٹر،ایئرپورٹ،عدالتوں، سکولوں، ہسپتالوں، مسجدوں، عوامی اجتماعات اور مسافرگاڑیوں کے اندر گھس کر بے گناہ افراد کو نشانہ سکتے ہوں تو وہاں غذر جیسے ایک معمولی ضلع میں داخل ہونا اور سلپی جیسے گاؤں میں بم نصب کرناان کے لئے کونسا ناممکن کام ہوسکتا ہے، ویسے بھی غذرکے لوگوں میں اپنے اور پرائے میں کوئی امتیاز نہیں۔غذر کے لوگوں کی سادگی،شرافت اور مہمان نوازی کی انتہا یہ ہے کہ انسان چاہے جس کسی روپ میں ان کے گھر کی دہلیز پر آجائے وہ اس کے ساتھ اپنی مادری زبان میں گپ شپ کرکے ایک کپ چائے پلائے بغیر نہیں چھوڑتے ہیں۔ اس علاقے کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں کے لوگ مذہبی،لسانی اور نسلی تعصبات میں الجھنے کی بجائے قومی حقوق کی ٹھیکہ داری کو ترجیح دیتے ہیں اورپورے گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے لئے جدوجہد میں جنون کی حد تک ملوث رہتے ہیں چاہے اس میں انہیں جیسا بھی نقصان اٹھانا کیوں نہ پڑے۔اس سب سے بڑھ کر یہاں کے سپوتوں نے ملکی محازوں پر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر بہادری اور جفاکشی کی جو مثال قائم کی ہے اس کی تو کوئی نظیر نہیں ملتی۔

لیکن صد افسوس کہ گزشتہ برس سے موبائل پر ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کے ذریعے بعض شرپسند عناصرطرح طرح کی اشتعال انگیزی کے ذریعے نہ صرف عوام کے دلوں میں ایک دوسروں کے لئے نفرتوں کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ دو فریقین کے مابین دوریاں پیدا کرنے اور اختلافات کو ہوا دینے کے بھی مرتکب بن رہے ہیں ۔

بہرحال سلپی میں دستی بم کی برآمدگی غذر کے عوام کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک آزمائش بھی ہے کہ اس طرح کی وارداتوں کے حوالے سے عوام میں کیا تاثر پایا جاسکتا ہے۔ اس میں دو ہی آپشن سامنے آسکتے ہیں کہ اگر عوام پہلے کی طرح ایک گھر کے افراد کی مانند اتحادواتفاق کے ساتھ علاقے کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازشوں پر کڑی نظر رکھ کر اپنے مشترکہ دشمن کے تعاقب میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سلپی میں بم نصب کرنا غذر کی تاریخ میں دہشتگردی کا پہلا اور آخری واقعہ ثابت ہوگا اور اس کے بعد کسی کو بھی اس قسم کی گھناونی حرکت کی مجال نہیں ہوگی۔اگر عوام ان سازشوں کو سمجھنے اور اپنے مشترکہ دشمن کی نشاندہی میں کامیاب نہیں ہوپاتے ہیں تو پھر غذر کی سرزمین اس ملک کے لئے مستقبل کے جنوبی وزیرستان کی مانند دردسر بن سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں علاقے جغرافیائی اعتبار سے ایکدوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور افغانستان سمیت سنٹرل ایشیائی ممالک کے بہت قریب واقع ہیں۔ اب فیصلہ عوام خود کریں کہ ان کے لئے کونسا آپشن زیادہ سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔