علاقہ چھوربٹ کے مکین نقل مکانی پر مجبور کیوں؟؟

تحریر: محمد علی عالم

کسی بھی علاقہے میں بسنے والے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا اُس ریاست کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں لوگ یا تو علاقہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یا پھر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔

کچھ ایسے ہی حالات سے اس وقت بلتستان کے ضلع گانچھے کا دور افتادہ علاقہ چھوربٹ کے مکین گُزر رہے ہیں۔ چھوربٹ کو حال ہی میں سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا ہے تاہم اس علاقہ کی جغرافیائی اہمیت اور حساسیت پاک بھارت سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

تمام تر بنیادی سہولیات سے یکسر محروم سب ڈویژن چھوربٹ دریائے شیوک کے دونوں اطراف گیارہ چھوٹے بڑے گاؤں پر مشتمل ہے۔ جس کی پوری آبادی تقریباً تیس ہزارکے قریب ہے۔

انسان بہت ساری سہولیات کےبغیر زندہ رہ سکتا ہے مگرآج کے دور میں صحت عامہ کی سہولیات کے بغیر انسانی معاشرہ کرب میں رہتا ہے کیونکہ ایک بادشاہ سے لیکر غریب آدمی کے زندگی میں بیماری ایک معمول ہوتا ہیں۔ علاقہ چھوربٹ میں صحت کی سہولیات بلکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں کے لوگ ہرگز نہیں کہتے کہ اسلام آباد یا ملک کے دیگر بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کی طرز پر صحتِ عامہ کی سہولیات فراہم کی جائے ، بلکہ یہاں کےغریب اس بات کا مطالبہ بھی نہیں کرتا کہ گلگت یا سکردو شہر کی طرح علاج و معالجے کی سہولت دی جائیں۔ مگر یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ تقریباًدو سو پچاس مربع میل پر پھیلےاس علاقے کے لوگوں کو صرف ڈسپنسریز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ جب میں ساتویں یا آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا تو گاؤں میں کوئی بیمار ہوتو ڈاکٹر علی کو بلاتے تھے تو وہ کچھ گھنٹے بعد آتے تھے اور چیک اپ کر کے کچھ دوائی دے کر واپس اپنے گاوں چلا جاتا تھا اور متاثرہ خاندان حسب توفیق کچھ عطیہ دے کر فارغ کرتے تھے۔ مگر اس وقت حالات اس سے تھوڑا مختلف ہے۔ اس وقت صرف ایک ڈاکٹر علی تھا تاہم اس وقت تقریباً ہر گاؤں میں ڈاکٹر علی موجود ہے البتہ اکثریت ڈاکٹر ایوب یا بوا عباس کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اپنی سرکاری ڈیوٹی سے ہٹ کر انسانیت کی خدمت کے ناطے لوگوں کے گھروں میں جا کر لوگوں کی علاج کرتے ہیں۔

قارئین یہ جان کر حیران ہونگے کہ میں نے جن ڈاکٹروں کا ذکر کیا ہے یہ لوگ کوئی ایم بی بی ایس یا سپشلسٹ ڈاکٹر نہیں ہے بلکہ مختلف گاؤں میں موجود ڈسپنسریز میں تعینات نرس اور ڈسپنسر ہے جن کو وہاں کے لوگ ڈاکٹر کہہ کر بُلاتے ہیں کیونکہ اس پورے علاقے میں کوئی ایک بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ جس وجہ سے لوگوں کو علاج و معالجے کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد بار کئی لوگ بیمار ہونے پر علاج کی سہولیات نہ ہونے سے زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ معمولی بخار پر وہاں پر موجود ڈسپنسریز میں موجود ڈسپنسر سے فرسٹ ایڈ کی دوائی لے کر گزارا کیا جاتا ہے یا کوئی بڑی بیماری پر سینکڑوں کلو میٹر کا سفر کر کے خپلو یا سکردو میں علاج کے لئے جاتے ہیں۔ جس سے لوگوں کو سفری مشکلات کے ساتھ ساتھ رہائش اور بھاری اخراجات جیسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو چند ایک کے علاوہ ہر غریب پورا نہیں کر سکتا۔ اسلئے بہت سارے لوگ گھر میں بیٹھ کر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔

علاقہ چھوربٹ کے ہیڈکوارٹر سکسہ میں ایک سول ہسپتال موجود ضرور ہے جہاں کسی زمانے میں ایک میڈیکل آفیسر ہوا کرتا تھا تاہم کارگل وار کے بعد ہسپتال کو پاک آرمی نے اپنے زیر انتظام لیا جس کے بعد دو سے تین ماہ تک وہاں بہترین علاج کی سہولیات عام عوام کو بھی میسر رہا۔ پاک فوج کے قابل اور سنئیر سپشلسٹ ڈاکٹرذ موجود تھے اور بڑے بڑے سرجری بھی ہوا کرتا تھا جس وجہ سے پورے بلتستان سے لوگ وہاں علاج کے لئے آتے تھے۔ بعد میں پاک آرمی نے وہاں پر موجود سیٹ اپ کو سلترو گونما منتقل کر دیا اور سکسہ سول ہسپتال میں آرمی کی ضرورت کے لیے ایک ڈاکٹر تعینات رکھا جو کبھی سویلین کا علاج کرتے ہیں تو کبھی نہیں۔

علاقہ چھوربٹ کے عوام اس وقت علاج و معالجے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ہسپتال میں موجود ایمبولینس بھی لوگوں کے لئے زیادہ فائدہ مند نہیں۔ لوگ بیمار ہونے پر پرائیویٹ گاڑیوں کو بھاری کرایہ دے کر دن یا رات کے وقت ایمرجنسی حالات میں مریضوں کو خپلو یا سکردو لے کر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ سردیوں کے موسم میں منفی 20 سے زیادہ کی سردی میں لوگ گھروں سے نکل نہیں سکتے ہیں۔ ا۔ شدید برفباری ہوتی ہے۔ کوئی بیمار ہو جائےتو کہیں لے جایا نہیں جاسکتا ایسے میں لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

چند ماہ پہلے سکسہ گاؤں میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جانبحق ہو گیا جس کو پوسٹ مارٹم کے لئے خپلو ہسپتال لانا تھا جس کے لئے سول ہسپتال میں موجود ایمبولینس فراہم نہیں کیا گیا جس کے بعد لوگ اشتعال میں آ کر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔ پھر بعد میں یہ معاملہ ہائی لیول پر پہنچے، پھر کئی گھنٹے گزرنے کے بعد نعش کو خپلو منتقل کر دیا گیا۔

یہ سب وہاں بارڈر ایریا پر موجود عوام کے لئے ایک پریشانی اور مشکلات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ صورتحال رہی تو آنے والے وقتوں میں حالات مزید گمبھیر ہو سکتی ہے۔

اگر ہم ایجوکیشن کی بات کریں تو حالات اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ پورے علاقے میں کوئی انٹر کالج موجود نہیں۔ دو غیر منظور شدہ ہائیر سیکنڈری اسکولز ہے جہاں بھی متعلقہ مضامین کے لئے اساتذہ موجود نہیں ۔ دوسرے اسکولوں سے میٹرک سطح کے اساتذہ ان ہائیر سیکنڈری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔

چھوربٹ میں موجود سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ بعض سکول میں سائنس اساتذہ موجود ہی نہیں ہے۔ ایجوکیشن کی ناکافی ۔سہولیات اور اساتذہ کی کمی کے باعث بچوں کے مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اساتذہ کی کمی پورا کرنے کے لئے ہر گاؤں کے معززین محکمہ تعلیم اور انتظامی امور کے دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے ہیں۔ باوجود اس کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پورا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ خالی آسامیوں پر اساتذہ بھرتی تو ہوتے ہیں مگر چند ماہ یا ایک سال وہاں رہنے کے بعد اثر و رسوخ کا استعمال کر کے وہاں سے تبادلہ کر کےچلے جاتے ہیں۔

تعلیم اور صحت انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کو اچھی صحت کی سہولیات میسر ہو اور انکے بچوں کو بہترین ایجوکیشن ملے۔ اسلام آباد یا ملک کے دیگر بڑے شہریوں کو جو سہولیات میسر ہو وہ ملنا بھی ممکن نہیں ہے البتہ جدید دور کے لحاظ سے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بنیادی سہولیات ضرور ملنا چاہیے جس کی نہ ہونے سے سب ڈویژن چھوربٹ کے ہر گاؤں سے تیزی کے ساتھ لوگ خپلو، سکردو اور ملک کے دوسرے شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ چھوربٹ کے ہر گاؤں سے شہروں میں منتقلی کا تناسب پچھلے کچھ سالوں میں بہت حد تک بڑھ گیا ہے۔ یہی صورت رہا تو چند سالوں میں حالات انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس تیزی کے ساتھ لوگ علاقہ چھوڑ رہے ہیں اس پر حکمرانوں کو فوری ایکشن لے کر عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے سول و عسکری اعلیٰ حکام کو آپس میں مل بیٹھنا چاہیے کیونکہ لوگوں کو پاک آرمی سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور پاک آرمی پر سب سے زیادہ اعتماد کا اظہار بھی کیا جاتا ہیں۔

چھوربٹ کے عوام بغیر وردی کے سپاہی ہیں جو ہر مشکل میں پاک آرمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔

میں اس کالم کے ذریعے فورس کمانڈر گلگت بلتستان جناب احسان محمود صاحب سے بھی خصوصی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ چھوربٹ پر ایک احسان کریں وہ ان تمام صورتحال کا جائزہ لے کر اس کے حل کے لیےکردار ادا کریں۔

احسان محمود صاحب کو گلگت بلتستان کے عوام سے خاص محبت اور ہمدردی ہے جس کا اظہار انہوں نے بحثیت فورس کمانڈر گلگت بلتستان تعینات ہونے کے بعد سے لوگوں کے ہر غم و خوشی اور دکھ درد میں ساتھ دے کر کیا ہے۔ آپ معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد سے جس خلوص، پیار، محبت اور شفقت سے ملتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ آپ ایک فوج کا سپہ سالار کم اور فلاحی انسانیت کا علمبردار زیادہ ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments