کالاش قبیلے کا بارہ رکنی وفد 27جنوری کو بھارت کا دورہ کرے گا

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

unnamed

چترال ( بشیر حسین آزاد) انٹر نیشنل سنٹر فار کلچر سٹڈیز کی دعوت پر انٹر نیشنل کانفرنس اینڈ ایلڈرز گیدرنگ میں شر کت کیلئے ہندوکش کے قدیم ترین کالاش قبیلے کا بارہ رکنی وفد ستائس جنوری سے قریبی ملک بھارت کا دورہ کرے گا۔ وفد کی قیادت معروف کالاش نوجوان اور کالاش پیپل ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹیو لوک رحمت (LUK RAHMAT) کریں گے ۔ جبکہ وفد کے دیگر ممبران میں وزیر زادہ ،انُت بیگ،شہزادہ خان ،سید احمد ، ظاہرشاہ کے علاوہ مس سید گل ، مس شمیم ، مس ڈیانا اور مس شاکرہ شامل ہیں ۔ وفد 31جنوری سے 5 فروری تک کانفرنس میں شرکت کے علاوہ انڈیا میں تہذیب و ثقافت سے متعلق مختلف کلچرل مقامات کی وزٹ کرے گا۔ جبکہ ریاست مائیسورکی ملکہ بھی اُن کی میزبانی کریں گی ۔ کالاش نوجوان لوک رحمت نے کہا ۔ کہ اُن کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور کانفرنس میں کالاش قبیلے کی نمایندگی کرتے ہوئے اُسے خطاب کرنے کا موقع دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گلوبلائزیشن کے انڈیجنس لوگوں پر اثرات ،کالاش کلچر کو درپیش چیلینجز ،شناخت ، ایجوکیشن اور معاشی مسائل سمیت کالاش تہذیب وثقافت کے حوالے سے کانفرنس میں اظہار خیال کیا جائے گا ۔ لوک نے اس توقع کا اظہار کیا ۔ کہ چونکہ اس کانفرنس میں چھ بر اعظموں کے سو سے زیادہ ممالک کے لوگ شرکت کر رہے ہیں ۔ اس لئے انہیں مختلف کلچر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے ،انڈیجنس پیپل نیٹ ورکنگ ،باہم مشابہت رکھنے والے کلچرزکے بارے میں آگہی کے علاوہ قدیم تہذیبوں کے تحفظ کے بارے میں لائحہ عمل طے کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کانفرنس میں ترقی یافتہ انڈیجنس کلچر کے حامل افراد سے استفادہ کرنے اور کلچر کے ساتھ علاقے کی ترقی کو مربوط بناکر معاشی استحکام کے ذریعے لوگوں میں خوشحالی لانے سے متعلق اقدامات اُٹھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ درین اثنا بھارت جانے والے کالاش وفد نے ایم این اے چترال شہزادہ افتخارالدین کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ کہ انہوں نے ذاتی طور پر دلچسپی لے کر وفد کے ممبران کی سفری دستاویزات کی تیاری میں مدد کی ۔ اور ایمبسی کے ساتھ رابطہ کاری میں بھر پور تعاون کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔