’’مزدور علماء کاقتل ‘‘

’’مزدور علماء کاقتل ‘‘

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

haqqani logo and picture

جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاد مولانا افتخارکی شہادت کی خبر سن کراور فیس بک میں خون میں لت پت میت دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ذہنی اسکرین کے سامنے وہ تمام مزدور علماء کی تصاویر گھومنے لگی جن کو وقتا فوقتا شہید کیا جاتا رہا۔کتنے قابل اور ملک و ملت کے لیے مفید لوگوں کو خون کے آنسو رلایا گیا۔ ان کی لاشیں بے یار و مدد گار تڑپتی رہی، خون جمتا رہا۔ آہ مفتی نظام الدین شامزئی، باباعنایت اللہ، مولانا حمیدالرحمان،مولانا سعید جلال پوری، مفتی عبدالمجید دینپوری ،مولانا اسلم شیخ پوری ،قاری فدا گلگتی اور ان جیسے علم وعمل کے ہزاروں نمونوں کو کراچی اوراس مملکت خداداد پاکستان کے سڑکوں پر بے دردی سے ماراگیا۔مبارک ہو! اے وہ جنہیں ان مزدور علماء کی قتل پر بھاری رقم مل گئی ہے ۔آج تمہاری روحیں آسودہ ہیں، تمہارا دل خوش ہے اور تمہاری مرادیں پوری ہونے کو ہیں اور تمہارے آقا بھی تمہیں تھپکیاں دے رہے ہیں۔ بس تم خوش رہو۔لیکن یاد رکھو، بہت جلد خدا آپ کی پکڑ کرے گااور تمہیں عذاب الیم دیا جائے گا۔

پورے پاکستان میں مدارس کے اساتذہ واحد مخلوق ہے کہ آج تک انہوں نے گورنمنٹ سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔اپنی ہردعامیں پاکستان اور عالم اسلامی کی سلامتی مانگتے رہے۔نہ ہی ان مزدور اساتذہ کی کوئی ایسوسی ایشن ہے نہ انجمن اور نہ ہی کسی رفاہی ادارے نہ آج تک ان کی بے چارگی کے لیے کوئی مہم چلائی یا کوئی فنڈ قائم کیا ہے اور نہ ہی کوئی ٹریڈ یونین کا ان پر رحم آیا۔ حالانکہ مدارس کے مہتممین اور طلبہ کی بھی درجنوں اتحاد اورانجمنیں ہیں جو وقتا فوقتا اپنے حقوق کا نعرہ مستانہ بلند کرتی رہتی ہیں۔مدارس کے یہ مظلوم اساتذہ نے آج تک کوئی احتجاج کیا نہ ہی کوئی روڈ بلاک کیا اور نہ ہی کبھی توڑ پھوڑ کی نہ نعرے بازی کی ۔یہ وہ مظلوم مخلوق ہے جن کی نوکری کی کوئی پروٹکشن نہیں۔انہوں نے آج تک اپنے حقوق کے لئے کوئی اتحاد کا سوچا نہ آئندہ ممکن ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن و حدیث، فقہ اسلامی، منطق و فلسفہ اور دیگر علوم وفنون کی موٹی موٹی آٹھ نو کتابوں کا روزانہ درس دیتے ہیں اور چھ سات ہزار روپے پر قناعت کرکے زندگی کا سلسلہ کسمپرسی اور فقر کے ساتھ جاری و ساری رکھتے ہیں۔اور شاکی بھی نہیں رہتے بلکہ صبرو شکر کرتے ہیں ۔زیادہ تنگ دستی ہو تو کسی مسجد میں امامت بھی کرتے ہیں یا پارٹ ٹائم معمولی نوکری کرتے ہیں۔کتابوں کی جلدیں بنالیتے ہیں، کسی مکتبہ میں کتابیں فروخت کرتے ہیں،کمپوزنگ کرتے ہیں، کہیں ٹویشن پڑھاتے ہیں، اخبار کی ڈیسک پر خبر بناتے ہیں، ان مدرسین کی اکثریت ایسی ہے جو پیٹ پالنے کی خاطر دو تین جگہوں پر کام کرتے ہیں۔غرض یہ روکھی سوکھی کھا کر درس تدریس اور تعلیم و تعلم کا رشتہ زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ناکردہ گناہوں کے عوض یوں بے دردی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مقدس شاہروں پر قتل ہوتے رہتے ہیں جس سے میرا رشتہ میرے اکابر اور اجداد سے جڑا ہوا ہے۔کون نہیں جانتا کہ ان مزدور علماء کی خلوتوں اور جلوتوں سے ہی مدارس شاد و آباد ہیں۔ اگر ان مزدور علماء کا وجود نہ رہا تو میرا رشتہ ماضی سے ٹوٹ جائے گا، علمی روایات کا جنازہ نکل جائے گا، اس لیے کہ مذہبی و سیاسی جلسوں میں بھڑکیں مارنے والوں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں سفرکرنے والوں سے تدریس و تحقیق ا ور علم و عمل کاسلسلہ جاری نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم عوام ،حکومت اور ریاست نے مدارس کے ان مظلوم اساتذہ کو ہرحال میں نظر انداز کیا ہوا ہے۔افسوناک امر یہ ہے کہ عامۃ المسلمین کی زکوات و صدقات بھی ان مزدور علماء کو نہیں بلکہ کسی اور ’’صاحب‘‘ کے ہاتھ لگتی ہیں اور وہ برابرا ن کا استحصال کرتا رہتا ہے۔مساجد کے آئمہ کی حالت بھی کم و بیش مدارس کے اساتذہ جیسی ہے۔مزدور علماء سے میری مراد صرف ’’مدارس کے اساتذہ ‘‘اور’’ مساجد کے آئمہ‘‘ ہیں۔ مذہبی تنظیموں کے رہنماء اور وفاق المدارس کے مہتمین نہیں ہیں۔اور نہ ہی دینی مدارس کے طلبہ تنظیموں کا ان مزدور علماء سے کوئی تعلق ہے۔ وفاق المدارس ، مذہبی سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے منشور و دستور میں ان مزدور علماء کے لیے ایک لفظ بھی نہیں ہے۔ یہ دنیا کی وہ واحد مخلوق ہیں جن کے قتل پر کوئی آنسو نہیں بہاتا،کوئی ٹی وی چینل پر ان کی موت کی خبر بریکنگ نیوز نہیں بنتی، ۔نہ ہی کوئی انوسٹ گیشن نیوز ڈاکومنٹری بنتی ہے۔ کسی ٹاک شوز میں کوئی ان کی دفاع پر ایک لفظ نہیں بولتا اور نہ ہی کوئی ان کی موت پر کوئی پروگرام کرتا ہے۔ سینکڑوں چینل میں سے کسی نے بھی ان کو کوریج نہیں دی۔ کسی اخبار کی سپر لیڈ نہیں لگتی۔اخبارکا ادارتی بورڈ ان مزدور علماء پر اداریہ تحریر نہیں کرتا نہ ہی اخباری کالم نگار ان کی مظلومانہ موت پر کوئی کالم قرطاس کرتا ہے اور نہ ہی ہزاروں میگزینز میں ان پر کوئی فیچر، انوسٹ گیشن یا نیوز رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔ کمرشل میڈیا ایسا کربھی نہیں سکتی۔ مدارس اسلامیہ اور مساجد کے یہ مزدور علماء کے قتل پر کوئی فوجی، نیم فوجی اور پولیس فورس حرکت میں آتی ہے نہ ہی ان کے دکھ میں کوئی ترجمان پریس ریلز جاری کرتا ہے۔نہ ہی کوئی کرفیو لگتا ہے، نہ کہیں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے۔ اور نہ ہی درجنوں خفیہ ہاتھ مٹھی کھولتے ہیں۔نہ ہی سوگ میں قومی پرچم سرنگوں ہوتاہے۔نہ ہی سوگ کا اعلان۔ کوئی عدالت ان کے قتل پر سوموٹو ایکشن نہیں لیتی ، اور نہ ہی کیس دائر کرنے پر ان کے نامزد قاتلوں کو سزا دیتی ہے۔کوئی مذہبی و لسانی وفلاحی تنظیم یا سیاسی پارٹی ان کی موت پر احتجاجی ریلیاں نکالتی ہیں نہ ہی احتجاج۔نہ کسی اسمبلی ، پارٹی یا ادارے میں ان کے قتل پر مذمتی قرارداد پاس کی جاتی ہے۔نہ ہی کوئی صدر، کوئی وزیراعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ تعزیت کے دو جملے کہتا ہے۔ کوئی سوشل ویلفیئر کا ادارہ ان کے لواحقین کے لیے کوئی گرانٹ کا اعلان کرتا ہے نہ ہی حکومت کا خزانہ ان مزدور علماء کے لیے کچھ رقم مختص کرتا ہے۔نہ تاجروں کی تجوریاں ان کے لیے کھلتی ہیں۔نہ بڑے بڑے مالدار پیروں کے مریدان باصفا کی امدادی فہرست میں ان مزدور علماء کا نام شامل ہوتا ہے۔ اوروں سے کیا گلہ ان مزدور علماء کے اپنے متعلقین، مسجد کمیٹی اور مدرسہ بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرتی بلکہ پسماندگان کو سیدھا سا جواب دے کر بے دخل کیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کا ڈھونڈورا پیٹنے والے مفکرین و دانشورخاموش ہیں اور ان کی انجمنیں ان مزدور علماء کے حق میں دو بول نہیں بولتی۔شاید یہ مزدورعلماء ان کی انسانی حقوق والی دانش اور فہرست میں شامل ہی نہیں۔کوئی اقوام متحدہ حرکت میں نہیں آتی اور نہ ہی کسی بیرون ملک انکے حق میں کوئی آواز بلند کرتا ہے اور نہ یاد میں کوئی شمعیں جلاتا ہے۔بخدا ، مدارس کے یہ مزدور علماء دنیا کی مظلوم ترین اور الگ ترین مخلوق ہے۔

حیرت ہے نہ ان مزدور علماء کے قتل کی کوئی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور نہ ہی کبھی ان کے قاتل پکڑے جاتے ہیں۔ دہشت گردوں اور طالبان کے ظلم وستم کا ڈھونڈورا پیٹنے والے ان مزدور علماء کی دردناک موت پر لب سی لیتے ہیں اور اپنے اپنے بِلوں میں چلے جاتے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی ان کے حق میں دو بول بولنے والا کوئی نہیں، سوائے چند طلبہ و فضلاء کے۔ڈاکٹر، پروفیسر،ادیب،پولیس، فوجی، صحافی ،سیاستدان،مذہبی وپارٹی لیڈر، سماجی ورکر،تاجراور دیگر لوگوں کو قتل کرنے والے، خود کش دھماکہ کرنے والے، اور اسکول کے بچوں کو مارنے والے پکڑے جاتے ہیں اور ان کو کسی حد تک کیفردار تک پہنچایا بھی جاتا ہے اور ان کے لواحقین کی ہرطرح خاطر مدارت بھی کی جاتی ہے۔ان کے بچوں کو سرکار نوکری آفر کرتی ہے مگر اس دنیا میں واحدانسان مدرسہ کے مزدور استاد، مفتی اورمسجد کا امام ہیں جن کے قاتل کبھی نہیں پکڑے جاتے اورنہ ہی آج تک پکڑنے کی کوشش کی گئی۔ مجھ آج تک سمجھ نہیں آسکا کہ ان بے ضرور مزدور علماء کی جان کیوں لی جاتی ہے؟اپنے بچوں اور والدین کا علاج نہ کرواسکنے والے آخر کسی کو کیا نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوم لوگوں کی یوں شہادتوں کے عوض ہم سب کا احتساب نہ کرے۔اس ملک کی بنیادوں پر اسلام پیوست ہے مگر آج ا سلام اور اسلام پسند سب سے زیادہ مظلوم یہاں ہیں۔ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ پاکستان میں اسلام مظلوم ہوگا اور ہندوستا ن میں مسلمان، اگر آج ابوالکلام زندہ ہوتے تو میں ان کی خدمت میں عرض کرتا کہ مولانا، پاکستان میں اسلام کے ساتھ کھرے مسلمان بھی مظلوم ترین لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں۔یاد رہے مظلوم کی آہ اور اللہ رب العزت کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔مجھے ڈر لگتا ہے کہ معاشرے کی اس مجموعی بے حسی پر خدا دردناک پکڑ نہ کرے۔یا اللہ ان مزدور علماء ، جو میری صداقتوں اور عظیم الشان روایتوں کے امین ہیں کی تو خود ہی حفاظت فرما۔بے شک تو بڑی حفاظت کرنے والا ہے۔میں اپنی تحریر اور الفاظ پر غور کرتا ہوں تو مجھے یہ نوحہ سے کم نہیں لگتے اور بے حس معاشرے کے چہرے پر زور دار تھپڑ۔میں نوحہ خواں نہیں بننا چاہتا مگرمیرا ضمیر جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہتا ہے کہ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرو ، بے شک اللہ مظلومین و صابرین کے ساتھ ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔