پانی دو، بجلی دو کے نعرے لگاتی ذولفیقار کالونی گلگت کی خواتین سڑکوں پر نکل آئیں

پانی دو، بجلی دو کے نعرے لگاتی ذولفیقار کالونی گلگت کی خواتین سڑکوں پر نکل آئیں

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

pic

گلگت( فرمان کریم) پانی دو بجلی دو کا نعرہ لگاتی ذوالفقار آباد کے خواتین سٹرکوں پر نکل آئیں۔ ہفتے کے روز ذوالفقار آباد کی رہائشی سینکڑوں خواتین  نے پانی اور بجلی کی بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف ریڈیو پاکستان گلگت کے سامنے شاہراہ قائداعظم پر احتجاج کیا، احتجاجی مظاہرین نے 5 گھنٹے تک شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بلاک کردیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ20 روز سے ذوالفقار آباد میں پانی کا بحران ہے مگر کسی کو احساس تک نہیں ہے مکین پانی کے بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ پانی اور بجلی کی عدم دستیابی سے معاملات زندگی بُری طرح متاثر ہوے ہیں، گھریلو کام کے لئے پانی میسر نہیں ہے۔ جبکہ محکمہ واسا اسپیشل لائنوں کے ذریعے اپنے من پسند افراد کو پانی فراہم کر رہے ہیں۔ غریب عوام ٹینکر کا پانی خریدنے سے بھی قاصر ہے۔خواتین کا کہنا تھا کہ بچوں کے سکول شروع ہونے والے ہیں اُن کی یونیفارم دھونے کے لئے گھر میں پانی نہیں ہے۔

اس موقع پر نگران وزیر پانی و بجلی عیطی اللہ خان بھی پہنچے اور متاثرہ خواتین کے مسائل سُنے. وزیر پانی وبجلی نے موقع پر سب انجینئر محکمہ برقیات غلام مرتضیٰ اور ایکسین محکمہ واسا غیور کو بلاکر ذوالفقار آباد میں پانی کی فراہمی کے لئے احکامات جاری کئے۔اس موقع پر محکمہ واسا کے سب انجینئر سیلم نے پانی بحران کا ذمہ دار محکمہ برقیات کو ٹھہرایا۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ برقیات جب تک بجلی فراہم نہیں کرتی محکمہ واسا پانی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

محکمہ برقیات کے سب انجیبئر غلام مرتضیٰ نے خواتین کو یقین دلایا کہ روزانہ کی بنیاد پر ذوالفقار آباد کے لئے 3 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔ محکمہ واسا نے بجلی کی فراہمی پر خواتین سے وعدہ کیا کہ روزانہ پانی کی فراہمی یقینی بنایا جائے گا۔ نگران وزیر اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داروں کی یقینی دہانی پر خواتین نے احتجاج ختم کیا اور خبردار کیا کہ اگر 12 گھنٹے کے اندر پانی کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا تو وسیع پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا۔

واضع رہے کہ احتجاج کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی ذمہ دار احکام موجود نہیں تھے. ڈپٹی کمشنر نے فون اُٹھانے کی زحمت تک نہیں کی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر چھٹی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ضلع غذر پکنک منانے گئے۔ اور خواتین پولیس اہلکار بھی 3 گھنٹے بعد احتجاج میں پہنچی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔