برجیس طاہر کی بطور گورنر گلگت بلتستان تقرری گھنسارا سنگھ کی واپسی کے مترادف ہے، منظور پروانہ

برجیس طاہر کی بطور گورنر گلگت بلتستان تقرری گھنسارا سنگھ کی واپسی کے مترادف ہے، منظور پروانہ

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( پریس ریلیز) 14 فروری گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اس دن کو ہر سال” یوم استحصال “کے طور پر منایا جائے گا ۔فروری 2015ء کو یکم اگست 1947ء کی یاد تازہ ہو گئی ہے جب گھنسارا سنگھ نے گلگت میں بطور گورنر اپنے اختیارات سنبھالا تھااور اب برجیس طاہرکی بطور گورنر تقرری کو گھنسارا سنگھ کی واپسی سے تشبیہ دی جائے تو کوئی مضائقہ نہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چئیرمین منظور حسین پروانہ نے وفاقی وزیر پاکستان برجیس طاہر کی بطور” گورنر گلگت بلتستان” تقرری پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا ۔

Manzoorانھوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی اسمبلی کے ممبر اور وفاقی وزیر کا بطور گورنر حلف لینا پاکستان کی جمہوری حکومت کا انوکھا کارنامہ ہے ۔ پاکستان کی آئین خود بھی اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ ایک منتخب عوامی نمائندہ اور وفاقی وزیر ایک ہی وقت میں بطور گورنر کام کرے کیونکہ گورنر ایک انتظامی عہدہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کے آئین کی پاسداری کرنے والے وکلاء اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو چائیے کہ وہ اس ماروائے آئین اقدام پر آواز اٹھائیں اور اس اقدام کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں چیلینج کریں ۔

انھوں نے کہا کہ اگر غیر مقامی گورنر کے ماتحت غلام ہی رہنا تھا تو گلگت بلتستان کے عوام کوگورنر گھنسارا سنگھ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی ضرورت کیا تھی اور جنگ آزادی گلگت کے نام پر قربانیاں دینے اور 63 سال اپنی آزادی کے ثمرات سے محروم رہنے کی ضرورت کیا تھی؟ ۔آج نئی نسل کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ 1947ء میں گورنر سے بغاوت کرکے آزادی لینے والے ہمارے آباؤاجداد اور ہیروز غلط تھے یا چنار باغ میں گلدستے لے کر گورنر کا استقبال کرنے والے غلط ہیں یہ دونوں صحیح نہیں ہو سکتے۔

منظور پروانہ نے کہا کہ نام نہاد پیکیج پر لمبی اڑان کی تمنا رکھنے والوں کی غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ، اور اب برجیس طاہر کو گورنر بنا کر حکمرانی کا خواب دیکھنے والوں کو بھی پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔ وفاقی جماعتوں کی ہر ساز پر بھنگڑا ڈالنے کی روش ،ترک نہیں کی گئی تو گلگت بلتستان کی قومی تشخص کو نا قابل برداشت نقصان پہنچ سکتی ہے ۔ گلگت بلتستان کی دائمی بقا اور یہاں کے عوام کی نجات اسی میں ہیں کہ ہم اپنی مٹی پر چلنے اپنا اگانے اور اپنا کھانے کی عادت ڈالے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔