آخر ان قوم پرستوں نے ہمیں دیا کیاہے؟

آخر ان قوم پرستوں نے ہمیں دیا کیاہے؟

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر زمان کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کی خبر جب علاقائی و پاکستانی میڈیا کا حصہ بنی تو لوگوں کے درمیان ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ بعض حلقوں نے خوشی، کُچھ نے دُکھ اور چند نے غُصے کا اظہار کیا۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب کا ماضی قوم پرست خیالات اور عمل سے متعلق رہا ہے تو یہ مُعمہ بھی زیرِ بحث رہا کہ آخر اُن کے خیالات میں یکدم اتنی بڑی تبدیلی کیسے رُونماء ہوئی؟ کُچھ دوستوں کا یہ خیال تھا کہ جب ڈاکٹر صاحب نے ایک ہفتہ جیل میں گُزارا تو عقل ٹھکانے آگئی ہوگی، مگر میں اس بات سے متفق نہیں کہ انھوں نے یہ فیصلہ جیل کی سزا کے خوف یا دباو سے لیا ہوگا کیونکہ زور زبردستی کے علاوہ بھی کافی طریقے کار ہوتے ہیں ریاستی مشینری کے پاس اور اپنے مفادات کا بھی بڑا اثر رہتا ہے فیصلوں پر۔ خیر، براہ راست وجہ جو بھی ہو، مقصد یہی لگتا ہے کہ گلگت بلتستان میں موجود قومی سوچ کے غُبارے میں سے ہوا نکالنے کے لئے یہ ایک سنگِ میل ثابت ہو اور عوام میں یہی تاثُر جائے کہ قومی و طبقاتی سیاست کا کوئی مُستقبل موجود نہیں۔یہ حربہ کافی کامیاب بھی نظر آتا ہے کیونکہ اس واقعے کے بعد لوگوں نے پھر سے یہ سوال اُٹھانا شروع کیا ہے کہ”آخر اِن قوم پرستوں نے ہمیں دیا کیا ہے؟”۔

عنایت بیگ

عنایت بیگ

ایک اشتراکی پارٹی کے قیام اور مظلوم طبقے کی حُکمرانی کی دیرینہ خواہشات اپنی جگہ مگر جو لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں، اُن سے میرا بھی ایک سوال ہے کہ ان قوم پرستوں کو آپ نے کیا دیا ہے؟ آپ نے اوروں پر تو بڑی نوازشیں کیں ہیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو ، جو لاڑکانہ سے راجگی نظام ختم نہیں کر سکا اسے گلگت سے راجگی نظام کے خاتمے کا ہیرو بنا کر اب تک تیر کو آپ نے اپنے سینے میں بڑے پیار سے چُبھو کر رکھا ہوا ہے۔ جو گیدڑ پاکستان میں شیر کی کھال اوڑھے گھوم رہا ہے آپ نے اسے اپنا شیر مان کر اپنی دھرتی میں کُھلی شکار کی اجازت دے رکھی ہے اور جس شخص نے طالبان کو مذہبی امور کی وزارتیں دینے کو پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا واحدحل سمجھا اور طالبان کو دفتر کھول کر دینے کی درخواست کی،آپ اُس کے قافلے سے “نیا گلگت بلتستان “بنانے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ آپ نے ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ تک کی حمایت کو غلط نہیں سمجھا۔ آپ مسلکی بُنیادوں پر فرقہ واریت کے دائرے کو طُول دیتے ہُوئے اسماعیلی، شیعہ اور سُنی تنظیموں کے ہاتھ مظبوط کرتے آئے۔ آپ نے امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، تنظیمِ نوجوانانِ اہلِ سُنّت اور اسماعیلی یوتھ آرگنائزیشن نامی تنظیمیں کھڑی کر دیں۔ آپ نے ہُنزائی، پونیالی، بلتی، گلگتی، چلاسی، داریل، برق پاء، یاسینی وغیرہ نامی علاقائی تعصّب سے بھر پور تنظیمیں بنائیں۔ اتنی ساری وفاداریوں کے بعد اب آپ یہ بتائیں کہ ان اسلام آباد نواز سیاسی پارٹیوں اور ان مسلکی و علاقائی تنظیموں نے آپ کو کیا دیا؟اصل سوال تو یہی ہونا چاہیئے کیونکہ آپ کی وفاداریاں تو اِن سے مُنسلک رہی ہیں۔

تُم ناحق ٹکڑے چُن چُن کر دامن میں سجائے بیٹھے ہو،
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں، کیا آس لگائے بیٹھے ہو!

اگر آپ کو یاد نہیں آرہا ہے تو میں بتاتا چلوں کہ ان تنظیموں نے آپکو کیا دیاہے؟ اِنھوں نے آپکو 65سالہ آئینی محرومی دی، انھوں نے آپکی شناخت مسخ کی، آپکو اپنے ہی گھر میں اجنبی کر دیا، آپ کو سُنی، شیعہ اور اسماعیلی میں بانٹ کر لڑایا، آپکے وسائل کو آپکی آنکھوں کے سامنے لُوٹا۔ انھوں نے آپکو بے یقینی دی، آپکو اسمبلی اور پیکج کے نام پر” لولی پوپ ” دیا، آپکے معدنیات سستے میں دوسروں کو فروخت کیے، آپکے ایک بڑے رُقبے کو پاک چین دوستی پر نذر کر کے چائنہ کو تحفے میں دیا، اب یہ باقاعدہ قانونی طور پر آپ کے گھر پر قبضہ جمانے میں قابض قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں، مگر پھر بھی آپکی وفادریاں ہیں کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔قوم پرست اور ترقی پسند تو ہمیشہ سے آپکے دُشمن ٹھہرے ہیں ، تو جناب پھر یہ گلہ کس سے ہے اور کیوں ہے؟

عجیب بات یہ ہے کہ آپکی اور ہماری اتنی بے حسی کے باوجودیہی لوگ ہمارے حقوق کی لڑائی کو زندہ رکھے ہُوئے ہیں، یہ مُزاحمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں تبھی آپکے اور ہمارے حقوق کی خاطر،ایک غیر طبقاتی معاشرے کے قیام کی خاطر، گلگت بلتستان کے آئینی خود مختاری کی خاطر اور وسائل پر مقامی قبضے کی خاطریہ اپنے وقت، خاندان، کیرئیر اوراپنی جانوں تک کا نذرانہ دیتے رہے ہیں، اِن کودودو دفعہ عُمر قید کی سزائیں اور کئی لاکھ جُرمانے کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ آپکی لڑائی لڑتے ہیں۔یہ قتل کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ یہ آپ کے حق کی خاطر ڈٹ جاتے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ مُٹھی بھر ہیں مگر ان کے حوصلے بکاو نہیں۔ تمہاری کج ادائیاں اور بے مُروّت رویے اپنی جگہ مگر تمہارے حق کیلئے کٹنے والے سر اِنہی قافلوں میں سے نکلیں گے۔

ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر
ان کو شعلوں کے رجز اپنا پتا تو دیں گے
خیر! ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی، صدا تو دیں گے
دور کتنی ہے ابھی صبح بتا تو دیں گے، (فیضؔ )

صاحب مضمون نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ،گلگت بلتستان، سندھ زون کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔