١٧٣ طلبہ کی کالج سے برطرفی کے بعد ڈگری کالج چترال کے سینکڑوں طلبہ پرنسپل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

١٧٣ طلبہ کی کالج سے برطرفی کے بعد ڈگری کالج چترال کے سینکڑوں طلبہ پرنسپل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

DSC02841

چترال (نامہ نگار) گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے سینکڑوں طلباء نے کالج کے پرنسپل مقصود احمد کا طلباء کے ساتھ بدسلوکی اور گالی دینے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا جو چترال پریس کلب پہنچ کر پریس کانفرنس کے بعد پرامن طو ر پر منتشر ہوگئی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم رہنماؤں مقصودالرحمن، نذیر احمد، تسلیم الرحمن ، جواد احمد، آصف علی شاہ اور دوسروں نے کہاکہ پرنسپل نے خود ساختہ قانون کے تحت سال سوم اور چہار م کے 173طلباء کا مستقبل تاریک کرکے ان کوکالج سے خارج کردیا ہے اور وجہ پوچھنے پر انہوں نے طلباء کو ننگی گالیاں دی اور انتہائی شرمناک سلوک کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ہائیر ایجوکیشن کے وزیر مشتاق غنی سے مطالبہ کیا کہ طالب علموں سے بدسلوکی کا مرتکب پرنسپل کو فوراً تبدیل کرکے ان کے خلاف انکوائری کرائی جائے اور 173طلباء کے داخلہ فارم امتحان کے لئے بھیجنے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پرنسپل نے یونیورسٹی رولز کے برخلاف 173طلباء کو لیکچر شارٹیج کا بہانہ بناکر امتحان میں شرکت سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ڈیڑھ ماہ کی کلاسیں باقی ہیں جس کے دوران وہ اپنی کمی پورا کرسکتے ہیں لیکن پرنسپل نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بناکر کالج کا پرامن ماحول خود ہی خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں کالجز موسم سرماکی تعطیلات کے لئے تین ماہ تک بند رہتے ہیں جوکہ دسمبر کے وسط سے بند ہوکر مارچ کے وسط تک دوبارہ کھلتے ہیں اور مئی کے پہلے تک کلاسز جاری رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں کسی بھی سرکاری کالج میں اس وجہ سے لیکچر شارٹیج کا مسئلہ پید ا نہیں ہوا اور نہ ہی اس پرنسپل کے آنے سے پہلے اس کالج میں طلباء کے مستقبل کے ساتھ اس طرح شرمناک کھیل کھیلا گیا۔ طالب علموں نے کالج ٹیچروں ممتاز حسین، سیف الانام اور قاضی ظہور کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کیا کہ جوکہ پرنسپل کے ساتھ مل کر کالج میں قبضہ گروپ بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اسٹڈیز کے مضمون میں حاضری تو نہیں لیا جاتا تھا لیکن طالب علموں کو سب سے ذیادہ اسی مضمون میں لگائے گئے ہیں جوکہ سراسر ذیادتی ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ڈگری کلاسز کے کسی مضمون میں بھی کورس پچاس فیصد سے ذیادہ مکمل نہیں ہوا ہے اور بعض پیپرز کو چھوا تک نہیں گئے لیکن پرنسپل اپنی ان کمزوریوں کو طلباء پر ڈال دیتا ہے ۔ پرنسپل مقصود احمد کسی بھی طرح اس ذمہ داری کا اہل نہیں ہے جوکہ طلباء کو گالی دینے اور ان کو جسمانی زدوکوب کرنے سے شرم محسوس نہیں کرتے جس کا براہ راست اثر طالب علموں کے اخلاق پر اور مستقبل میں پورے معاشرے پر پڑ سکتا ہے ۔ طالب علموں نے پرنسپل کی برطرفی اور خارج شدہ طالب علموں کی بحالی کے لئے حکومت کو تین دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہاکہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔طالب علموں نے ایم پی اے سلیم خان اور انسانی حقوق کے چیئرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالب علموں کے مسائل حل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ۔ جبکہ پی ٹی آئی کے ضلعی صدر عبدالطیف اور جماعت اسلامی کے صدر حاجی مغفرت شاہ کو طالب علموں کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔