ضلع استور کے دور افتادہ گاؤں میں سکول منہدم، طلبہ برف پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

ضلع استور کے دور افتادہ گاؤں میں سکول منہدم، طلبہ برف پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

kakan school pic 1

استور(بیورورپورٹ) استور کا بالائی گاؤں ککن داسخریم ماسک پرائمری سکول کی عمارت ٹوٹنے سے بچے 5فٹ برف میںآسمان تلے اپنی پڑھائی جاری رکھنے پر مجبور۔تفصیلات کے مطابق موضعہ داسخریم کا گاؤں ککن بالااورککن پائین کے جوتقر یبا 80گھرانوں پرمشتمل ہے۔جن کے لیے ایک پرائمری ماسک سکول 1982میں تعمیرکیا گیاتھااوراس سکول میں تقریبا 120طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں۔عوام کی شکایت پر صحافیوں کی ٹیم کامتعلقہ سکول کا دورہ ۔اس موقع پر عمائدین ککن بالا اور ککن پائین کے دوست محمد ،محمد نذیر اور روزی خان نے سکول کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ محکمہ تعلیم استورسمیت گلگت بلتستان کے حکام بالا کو بارہا سکول کے بارے میں آگاہ کیا گیاکہ سکول کی عمارت مہندم ہوچکی تھی جو عوام نے اپنی مدد آپ تعمیر کیا تھامگر اب وہ عمارت دوبارہ گرنے کو تیار ہے۔جبکہ 6کلاسوں کو ایک ہی روم میں رکھ کر پڑھایا جاتا ہے اور یہ کمرہ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔جسکی وجہ سے سکول کے بچوں کو 5فٹ برف اور سخت سر دی میں زمین پر بیٹھا کر پڑ ھایا جاتا ہے۔جبکہ سکول میں 2ٹیچرز کی پوسٹیں ہیں جو عرصہ داراز سے نان لوکل ہونے اور سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر دوسری جگوں پر ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔اور سکول میں دا س بالا سکول سے ایک ٹیچر اور دوسرا ٹیچروالنٹئر ایک سال سے ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے۔

kakan school pic 2

والنٹیئرڈیوٹی دینے والا ٹیچر بغیر تنخواہ کے گاوں کو بچوں کو تعلیم دینے پر معمور ہے۔ عمائدین نے مذید کہا کہ عرصہ دراز سے سکول کی عمارت گرنے کو تیار ہے مگر محکمہ تعلیم کو بار بار آگاہ کرنے کے باوجود ایکشن لینا تو دور کی بات ہے کسی اعلیٰ افیسر نے سکول کا دورہ کرنے کی زحمت تک نہیں کی۔ ہم نے سکول کے بارے میں سیکرٹری تعلیم اور ڈائریکٹر تعلیم گلگت بلتستان کو بھی کئی بار آگا ہ کرنے کے باوجود کوئی ٹس و مس نہیں ہوئے تو مجبورا ہمیں چیف کورٹ سے رجوع کرنا پڑا جس پر چیف کورٹ نے سیکرٹری ا ور ڈائریکٹر تعلیم کو ایک ہفتے تک سکول کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا جو عرصہ 8ماہ گزرنے کے باوجود محکمہ تعلیم استور اور محکمہ تعلم گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ عمائدین نے بتایا کہ ڈی ڈی تعلیم استور نے 18مارچ تک سکول کا معاملہ حل کرنے کی یقین بھی کروائی تھی مگر تا حال کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔عمائدین ککن بالا اور ککن پائین کا کہنا ہے کی اگر ایک ہفتے تک محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نے ماسک پرائمری سکول کے حوالے سے ایکشن لیتے ہوئے سکول کے دونوں آن پوسٹ ٹیچرز کی تعیناتی اور سکول عمارت کی تعمیر کے حوالے سے اقدامات نہیں کئے تو ہم اپنے بال بچوں کے ہمراہ استور داسخریم کا دفاعی روڈ بلاک کرنے پر مجبور ہو جائنگے اور حالات کے زمہ دار محکمہ تعلیم استور پر عائد ہوگی۔ اس لئے عمائدین ککن نے چیف کورٹ،گورنر ،وزیر اعلیٰ۔چیف سیکرٹری ،سیکرٹری تعلیم ،ڈائریکٹر تعلیم،ضلعی انتطامیہ،ڈی ڈی تعلیم استور فلفور سکول کا مسلہ حل کریں تا کہ ہمارے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔