گلگت بلتستان کا سالانہ فیسٹول بابوسر میں رکھا جائے، عوامی و سماجی حلقے

گلگت بلتستان کا سالانہ فیسٹول بابوسر میں رکھا جائے، عوامی و سماجی حلقے

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس: اس سال گلگت بلتستان کا سالانہ فیسٹول بابوسر میں رکھا جائے ،گزشتہ 2009 کے بعد بابوسر فیسٹول کو ختم کرکے گلگت بلتستان حکومت نے دیامر کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے ،جس کی وجہ سے یہاں کے عوام میں سخت مایوسی اور بے چینی پھیل گئی ہے ۔ان خیالات کا اظہار دیامر کے عوامی و سماجی حلقوں نے چلاس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت نے گلگت بلتستان کے انتہائی حسین وادی بابوسر گھٹی داس کو دنیا کے نظروں سے آج تک اُجھل رکھا ہوا ہے اور اس وادی کے محب وطن لوگوں کے سادگی سے فائدہ اُٹھا کر محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے مکار اور چالاک آفسران نے اس جنت نظیر وادی کو ہمیشہ سے نظرانداز کیا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے اونچا پولو گرونڈ وادی تھک بابوسرگھٹی داس میں واقع ہے ،اور اس جنت نظیر وادی کے دامن میں درجنوں کے تعداد میں جھیلیں موجودہیں ،لیکن محکمہ سیاحت کی عدم توجہی اور لاپرواہی کی وجہ سے ان جھیلوں تک پہنچنے کیلئے نہ کوئی سڑک بنوائی گئی ہے اور نہ کوئی ٹرکینگ روڈ کہ جس کے ذریعے سیاح ان جھیلوں تک باآسانی پہنچ سکیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں محکمہ سیاحت تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ،سیاحتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل اس یتیم ضلع میں کوئی ٹورزم کا زمہ دار موجود نہیں ہے ،اگر کسی زمہ دار کی ڈیوٹی اس ضلع میں ہے تو وہ اپنے فرائض سے لاتعلق گلگت اور اسلام آباد کے سیر سپاٹے کررہاہے ،مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہرطرف اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔

انہوں نے چیف سیکرٹری سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ نوٹس لیکرضلع دیامر کے اندر محکمہ سیاحت کو فعال بنائے اور بابوسر فسٹول کو امسال ہر صورت یہاں پر منعقد کرانے کیلئے ابھی سے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ،تاکہ یہاں کے عوام کا زہن اور سوچ منفی سرگرمیوں سے ہٹ کر مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب ہوسکے ،جس سے معاشرے کی بہتری میں آضافہ ہونے کےساتھ ساتھ علاقے کے اندر عوام کے مابین باہمی رواداری کا فروغ بھی ممکن ہوسکے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔