رمضان المبارک اور فلسفہ ٔ صوم

رمضان المبارک اور فلسفہ ٔ صوم

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

الواعظ نزار فرمان علی

الحمدُاللہ، خدائے بزرگ و برتر کے خصوصی نظرِ کرم اور حبیب خدا حضرت محمد مصطفیؐ کے وجود پاک اور دُعا و برکات کے طفیل ہمیں ماہ رمضان المبارک کی بابرکت،باکرامت اور پُرکیف ساعتیں عطا کی گئی ہیں جو نوعِ بشر اور بالخصوص امتیوں کیلئے ایمانی سعادتوں، روحانی لذتوں اور نورانی شادمانیوں سے معمور ہے۔ اس متبرک موقع پر رب العالمین کی رحمتوں برکتوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر عرش سے فرش کی جانب رواں دواں ہوتا ہے جو کائنات کی جملہ اشیاء پر حسب توفیق علم و عرفان کی بہاریں لٹاتا ہے ۔

آتش جہنم سرد،توبہ و استغفار کا فیض عام،بہشت بریں نزدیک اور اسکے مقفل دروازے کھول دیئے جاتے ہیں،شیطان کو جکڑ لیا اور طاغوتی قوتوں کے راستے مسدود کیے جاتے ہیں۔ بندوں کی قلیل عبادت اورچھوٹی نیکیوں کو کثیر شمار کیا جاتا ہے، نیاز مندی سے کیا جانے والا اک سجدہ ہزار سجدوں کے برابر، دل سے نکلنے والی ہر دعا مستجاب،ذکر خدا اور عشق مصطفی ؐمیں ہدیہ کی جانے والی جلی و خفی مناجات و اذکار عرش سے ہزار گونہ فیوض وبرکات لیکر مومنوں پر برستی ہیں ۔

حقیقت کے متلاشیوں کیلئے خزائن الٰہی کے ابواب وا ء کئے جاتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ ماہ مبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں قدر والی رات بھی ہے۔ اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ مقبول ہے، خالق و مخلوق کا رشتہ کتنا نرالا ہے جبکہ اسی ماہ بزرگ میں رحمت الٰہی جوش مارتی ہے اور جسمانی والدین سے بھی ستر گنا زیادہ اپنی آغوش رحمت میں لا ڈ پیار دے کر دنیا و عقبیٰ میں رضائے الٰہی، کامیابی و سرخروئی کا باعث بنتی ہے آمین۔

اس حوالے سے میزان الحکمہ اور بحار الانوار میں مشہور روایات بیان ہوئی ہیں۔’’رمضان المبارک کو اس لئے رمضان کہا گیا ہے کہ یہ گناہوں کو جلا ڈالتا ہے، رمضان المبارک کی حقیقت اور فضیلت کا بندوں کو علم ہوتا تو وہ سال بھر رمضان المبارک ہونے کی دعا کرتی،رمضان کی پہلی رات آسمان کے در کھل جاتے ہیں اور آخری شب تک بند نہیں ہوتے سبحان اللہ ۔ اللہ جل شانہ اپنے جود وسخا سے مومنوں کی ظاہری و باطنی تربیت کیلئے ہر سال رمضان شریف کے ۰۳ روزہ روحانی ورکشاپ کا انعقاد فرماتا ہے تاکہ دیندار ذوق وشوق اور بھر پور تعداد میں حصہ لے کر مستفیض ہو سکیں۔لہذا جو دیندار اس خصوصی انقلابی تربیتی کورس کو ایمان،عشق اور تابعداری کے ذریعے اپنی کارکردگی کماحقہ سرانجام دینے والوںکو پاک پروردگار کی طرف سے فقط سال بھر کیلئے نہیں بلکہ ساری زندگی کامرانی اور حقیقی خوشی کے اسناد(تبرکات) عطا کئے جاتے ہیں۔

ماہ رمضان کے گونا گوں پہلو بیان کرتے ہوئے علمائے کرام فرماتے ہیں ’’ رمضان رمض سے مشتق ہے جس کے معنی گرمی یا گرم بھٹی کے ہیں، گرم بھٹی جسطرح آلودہ لو ہے کو صاف کرکے اُسے قیمتی پُرزہ بنادیتی ہے اور سونے میں موجود کثافت دور کرکے محبوب کے پہننے کے قابل بنادیتی ہے اسی طرح ماہ مبارک مومنوں کے دلوں میں موجود گناہ کے گہرے داغوں کو دھوڈالتا ہے انکی توفیقات و خیر کثیر میں اضافہ کرکے دوستان خدا میں شامل کر دیتا ہے ۔اسکی ایک اور خوبصورت تعبیر بیان کی گئی ہے۔حروف رمضان پانچ ہیں: ر، م ، ض، ا، ن۔ جوکنایتاً ’’رحمت،محبت،ضمان،امان اور نور کی طرف ہے در حقیقت یہی احکامات ِ خدا وندی ہیں اور یہ پانچ قسم کی عنایتوں کی قدردانی اور شکرگزاری کیلئے پانچ عبادتوں کا اضافہ ہوتا ہے ان عبادات میں روزہ،اعتکاف،تراویح ،شب قدر اور کثرت تلاوت کلام پاک ہے۔مزید برآں روح پرور سنتوں کی روشنی میں اس ماہ بزرگ میں انجام دیے جانے والے گلدستہ اعمال میں کلمہ شہادت کا پڑھنا اور درود شریف کا ورد ہے،اللہ پاک کے حضور نہایت عاجزی سے اپنے خطاوں کی مغفرت طلب کرنا،روزہ داروں کو افطار کرانا اور ہر ایک سے بردباری اور خندہ پیشانی سے پیش آنا۔

آپ ؐ کی تعلیمات کے مطابق’’ روزہ دار کا سوناعبادت ہے،اس کی خاموشی عبادت اور اس کی سانس کی آمدو رفت تسبیح ہے۔ روزہ دار کے منہ کی بوپروردگار عالم کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے‘ ‘ آنحضرت ؐ کے اسوہ ٔحسنہ کے بارے میں اہم روایات میں بیان ہوتا ہے کہ بیسویں رمضان المبارک کے بعدآپؐ مسجد میں اعتکاف پر بیٹھ جاتے اور معمول سے زیادہ عبادات میں مصروف رہتے۔ اعتکاف ماہ مبارک کے آخری عشرے میں مسجد میں گوشہ نشین ہوکر خدا کی عبادت بندگی میں ہمہ تن مشغول رہنا ہے،اعتکاف فرض کفایہ ہے جو رمضان کی اکیسویں شب سے شروع ہوکر چاند رات پر مکمل ہوتاہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو رمضان کا ہر دن ، ہر پہر، ہر گھنٹہ اور ہر لمحہ ایمان و ایقان اور نورانی بہاروں سے بھرپور ہے۔

سیدنا حکیم پیر ناصر خسرو ؒ فرماتے ہیں ’’رمضان کا مہینہ اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک ہے اور ہرسال کے تمام مہنیوں میں سے ایک افضل ترین مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ایک انسان جو بھی نیک کام کر سکتا ہے ان میں سب سے عظیم کام یہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق ضرورت مندوں اور خطرات سے دوچار لوگوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کریں۔

معزز قارئین ! منشائے خدا وندی اور سنت نبویؐ کیمطابق مسلمانان عالم اسلامی سال کے نویں مہینے رمضان المبارک کو جو تمام مہینوں سے افضل ہے انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ ماہ مقدس کی فضیلت کی بنیاد وحی ربانی اور نزول قرآن ہے جس کا رازلیلۃ القدر کی بابرکت رات میں ہے۔ تاریخ عالم کے چند اہم واقعات رمضان شریف کی اہمیت مزید نمایاں کرتے ہیں جیساکہ رمضان المبارک میں سید الشہداء امام حسینؑ کی ولادت باسعادت اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی شہادت ہوئی،معرکہ بدر میں مسلمانوں کی شاندارجیت اور فتح مکہ نصیب ہوااور اسی ماہ اقدس کے دوران حضرت خدیجہ الکبریٰؓ،حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت فاطمہ الزہرہ ؑخاتون جنت کا انتقال ہوا،ہمارا پیارا وطن پاکستان رمضان کے ستائیسوں شب تشکیل پایا۔اے کاش کہ ہم اس کا حق ادا کر پاتے! قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہی’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانیت کیلئے ہدایت ہے‘‘۔(البقرہ)

یقیناماہ مبارک کا عظیم تحفہ قرآن حکیم، کتاب مبین ہے جو تمام آسمانی صحیفوں کا مصدق ،جسکی فصاحت و بلاغت پر اپنے وقت کے نامور فصحاء عرب بے اختیار’’ماھذا کلام البشر‘‘کہہ اُٹھے۔ سبحان اللہ۔ سماوی ہدایت کی جامع و کامل کتاب، جو ہر دور کے انسانی ضرورتوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے رہتی دنیا تک ایک مکمل لائحہ عمل ہے۔جس کی ایک ایک آیت میں علم و حکمت کی ایک دنیا آباد ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’ پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ ضرور پورے مہینے روزے رکھے ‘‘۔البقرہ ۵۸۔روزہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے،جائز جسمانی (جنسی) تعلقات ترک کرنے اور ہر قسم کے گناہ و نافرمانی کے کاموں سے رک جانا ہے۔ہر بالغ،سمجھ دار،تندرست اور صاحب ایمان مرد عورت پر رمضان کے روزے فرض ہیں۔چونکہ اسلام دین فطرت ہے اس میں کسی قسم کا جبر نہیں۔ سورۃ البقرہ ۴۸۱ میں ارشاد ہوتا ہے’’پھر تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو(ناگزیر وجوہات)اس پر دوسرے دنوں کا شمار رکھنا لازم ہے اور جو لوگ اسے مشکل سے برداشت کرسکے ان کے ذمہ فدیہ ہے (جوکہ) ایک مسکین کا کھانا ہے اور جو خوشی سے زیادہ دے تو یہ اس کے حق میں اور بہتر ہے‘‘ ۔ تفاسیر میں بیمارسے مراد وہ مریض ہے جو روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو یا روزہ رکھنے سے مرض کی زیادتی یا پیدا ہوجانے یا دوام کا خوف ہو۔

سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم ، دی میمائرس آف آغا خان کے ایک باب میں روزہ کی اہمیت کے متعلق فرماتے ہیں’’سال میں ایک مہینے کی روزہ داری جو بلکل قابل فہم ہے جسم کی تربیت کا ایک بنیادی حصہ ہے بشرطیکہ یہ(جسمانی) صحت پر شاق نہ گزرے۔اس تربیت کے ذریعے جسم تمام ناپاک خواہشوں کو ترک کرنے کی استعداد حاصل کرتا ہے‘‘۔

سورۃ البقرہ آیت ۳۸۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جائو‘‘۔

نماز کی طرح روزہ کا تصور دنیا کے ہر مذہب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ الہامی ادیان میں جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور تشریف لے گئے تو اس وقت آپؑ نے ۰۴ دن کے روزے رکھے،یہودی آپؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ۰۴ دن کے روزے رکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی ۰۴ دن تک جنگل میں روزہ رکھا جو آج بھی عیسائی برادری میں قائم ہے۔ قرآن میں صوم مریم ؑکا بھی ذکر ملتاہے جس میں آپ ؑ تمام دن کسی سے نہیں بولتی تھی۔ ہندو مذہب میں برت (روزہ)آج بھی انجام دیا جاتا ہے۔اگلی شریعتوں کے برعکس بنی کریمؐ کے امتیوں کیلئے وقت،بدلتے حالات اور دین و دنیا کے بھاری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے سال میں صرف ایک ماہ ِرمضان میں ۰۳ دن کے روزے فرض کیے گئے ہیں تاکہ انسان اپنے سماجی ،معاشی و معاشرتی نظام کو سنبھالتے ہوئے اپنی روحانی و اخروی آبادی کا سامان اکھٹا کر سکیں۔ چونکہ صوم کا بڑا مقصد تقویٰ ہے اور دیگر ارکان اسلام کا حاصل بھی تقویٰ ہے۔یہ دل میں خوف خدا کی کیفیت اجاگر کرنے کا نام ہے جو خدا کے عذاب سے زیادہ اسکی ناراضگی سے ڈرتے ہوئے ،اللہ رب العزت کو ہر جگہ اور ہر پل اپنی رگ جان سے بھی زیادہ قریب محسوس کرتے ہوئے ہرقسم کے ناپسندیدہ / برے کاموں کو ترک کرکے اعمال صالحہ کا پاکیزہ زاد راہ تیار کرتے رہنا ہے۔

حضرت محمد ؐ نے فرمایا ’’جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ،فریب اور گناہ کے کاموں سے باز نہ رہا تو خدا کو اسکے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں‘‘ چنانچہ روزہ صرف فاقہ کشی کا نام نہیں ہے بلکہ نفس کشی کا نام ہے۔یہ عبادت حلق اور معدے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اطلاق تمام اعضاء و جوارح پر ہوتا ہے یعنی روزہ آنکھ،کان ،زبان،ہاتھ،دل ودماغ الغرض صرف جسم کا نہیں روح کا بھی،بصارت و بصیرت اور فکر ونظر کا بھی ہوتا ہے ۔بحیثیت انسان ہم سب میں خامیاں پائی جاتی ہیں ایک مومن کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ طبعی موت سے قبل زیادہ سے زیادہ عیوب کا خاتمہ کیا جائے ،جی ہاں اگر ہم بھی فضول گوئی ،گالی گلوچ ،حب جاہ و مال ،بسیار خوری ،اسرف و ریاکاری اور منشیات جس میں سیگریٹ نوشی،نسوار،چھالیہ اور شراب نوشی وغیرہ جیسی اخلاقی برائیوں سے نجات کا سب سے بہترین طریقہ ماہ صیام کے روزے ہیں۔ آپ نیت کرکے ،مصمم ارادے ،کامل ایمان اور صوم کو اس کے تمام تقاضوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے پایۂ تکمیل تک پہنچائیںگے تو بلاشبہ ہم روزے کی قبولیت کے ساتھ ساتھ اس سماجی و اخلاقی برائی سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پائیں گے۔ خدا نے ہمیں زندگی کی جتنی صلاحتیں / قوتیں بخشی ہیں مثلاً عقل ،حواس،اختیار ،وسائل اور انمول لمحات کو اللہ اور اس کے پیارے نبیؐ کی چاہت و فرمان کے مطابق بروئے کار لائیں تو انشاء اللہ ہماری زندگی کا ہر دن روزے کی روح کے مطابق اور ہر رات قرب خداوندی کا زینہ بن کر دنیا و آخرت میں سرخروئی کا باعث بنے گا۔آمین یارب العالمین۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔