کالمز

عوامی نمائندے سٹیٹ سبجیکٹ رول سے خائف کیوں۔۔؟

تحریر: شیر علی انجم

معروف صحافی حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ  1973میں ایک سینئر بیورو کریٹ اجلال حیدر زیدی نے استور آکر مرحوم امان اللہ خان کو پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا صدر بننے کی پیشکش کی اور بتایا کہ ہم اس علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنا رہے ہیں تو امان اللہ خان نے اُن سے پوچھا کہ آپ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کا کیا کریں گے؟ اجلال حیدر زیدی لاجواب ہو گئے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس علاقے کو ڈوگرہ حکومت کے دور میں زور آور سنگھ نے 1840میں فتح کرکے ریاست جموں و کشمیر میں شامل کیا۔ 1947میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ اس علاقے کا گورنر تھا لیکن کرنل مرزا حسن خان سمیت اس علاقے کے مسلمان فوجی افسران اور جوانوں نے بغاوت کرکے گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا اور اس علاقے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے محتاط رویہ اختیار کیا اور 16جنوری 1948کو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔یہاں یہ بات واضح ہوگیا کہ گلگت بلتستان  کوریاست جموں کشمیر کے اکائی کے طور پر 1948 میں ہی تسلیم کی چاچُکی ہے  اور جب تک مسلہ کشمیر کی حل کیلئے رائے شماری نہیں ہوتے اس خطے کی قانونی اور جعرافیائی حیثیت میں تبدیلی سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ1947سے پہلے اور بعد میں ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی موجود تھی لیکن 1947کے بعد اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر زیادہ توجہ نہ دی گئی۔ 1951میں کشمیری رہنما چودھری غلام عباس نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور یہاں مسلم کانفرنس کی تنظیم بنائی لیکن پاکستان کی بیورو کریسی نے کشمیری قیادت کو یہاں قدم نہیں جمانے دیے۔ مسلم کانفرنس کے مقامی رہنما محمد عالم کو استور میں گرفتار کر لیا گیا تو عوام نے حوالات کا دروازہ توڑ دیا جس کے بعد یہاں آزادی اظہار کو محدود کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے ہیرو کرنل مرزا حسن خان کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔رہائی کے بعد انہوں نے گلگت لیگ قائم کی لیکن 1958کے مارشل لا میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید گلگت میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اس علاقے کے حقوق کیلئے یہاں آکر آواز بلند کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما مقبول بٹ اور امان اللہ خان 1970میں بار بار گلگت آئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اسی طرح  پاکستان ہندوستان اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کے مابین طے پانے والے معروف کراچی ملٹری ایگریمنٹ 27 جولائی 1949 میں جو نقشہ جاری کیا تھا  یو این سیکورٹی کونسل کے ریکارڈ کا حصہ  اوربین الاقوامی طور  پر تسلیم شدہ ہے۔اس نقشے کے اندر ریاست جموں کشمیرکے پاکستان    ہندوستان چین اور افغانستان کے ساتھ انٹرنیشنل سرحدوں کے ساتھ عبوری سیز فائر لائین بھی طے ہے اوراس معاہدےمیں اقوام متحدہ ضامن ہے پاکستان اور ہندوستان دستخط کنندہ ہے۔ جموں کشمیر کے مسلئے کے حل تک دونوں ملک اس باونڈری کی پاسداری کے قانونی طور پر پابند ہیں۔ اس معاہدے میں بھی گلگت بلتستان کو ریاست کا حصہ ہے دکھایا گیا ہے ۔

یو این سیکورٹی کونسل  کے ایک اور قرارداد جو 13 اگست 1948 کو منظورہوئی جس پر    پاکستان اور ہندوستان دستخط کار ہیں، حکم ہوا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے  حل کیلئے رائے شماری تک خطے میں لوکل اتھارٹی حکومت کو یقینی بنائیں اور پاکستان اپنی  فورسز کے  انخلاء کو یقینی بنا کر اقوام متحدہ کی  امن فوج کو تعینات کریں۔بدقسمتی سے گلگت بلتستان لوکل اتھارٹی حکومت تو آج تک قائم نہیں ہوئی  جبکہ آذاد کشمیر میں اسی قراراداد کے تحت اسمبلی موجود ہے۔ گلگت بلتستان کے ساتھ ایک دھوکہ یہ بھی ہوا کہ  اس قرارداد پر عمل درآمد کرنے کے بجائے  28 اپریل 1949 کو کشمیری قیادت  اورپاکستان کے وزیر محکمہ مشتاق گورمانی کے درمیان ایک معاہدہ  طے پایاجس کے تحت اُس وقت کے کراچی سرکار نے گلگت بلتستان کا کنٹرول حاصل کیا اور آج بھی یہی ایک دستاویز ہے جو گلگت بلتستان اور اسلام آباد کےتعلق کو جواز فراہم کرتی ہے۔  اسی طرح ترجمان دفتر  خارجہ کے متعدد بار کے بیانات میڈیا کے ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا  کہ گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاری ہے۔ مزیدبراں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے  گزشتہ سال اپنے اوپر لگنے والے ایک الزام کے جواب میں  اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنا تحریری جواب جمع کرکے کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے گفتگو گلگت بلتستان میں ہوئی ،جہاں پاکستان کے قوانین لاگو نہیں ہوتے اور وہ  پاکستان کی  حددود سے باہر کا علاقہ ہے۔ لہذا توہین عدالت کی کارروائی واپس لی جائے ۔

اسی طرح آئین کے آرٹیکل 257 اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعدد فیصلوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں متنازعہ  ریاست کی اکائی اور دونوں ریجن کی قانونی حیثیت یکساں ہے ۔ لیکن آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قانون کے نفاذ کا طریقہ کار بلکل مختلف ہے۔ وہاں آج بھی سٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ ہیں ۔ 1927   کا قانون مہاراجہ جموں کشمیر کا وہ تاریخ کارنامہ ہے جو آج بھی ریاستی عوام کے حق ملکیت کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر لداخ میں یہ قانون 5 اگست 2019 تک نافذ تھے ۔لیکن مودی حکومت نے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان کے آئین میں درج آرٹیکل 370 جس تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل تھی اسے ختم کردیا اور پاکستان آج بھی اس اقدام کو سلامتی کونسل کے قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں گزشتہ دہائیوں سے سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔لیکن یہاں کے عوامی نمائندے اس قانون پر بات کرنے سے خوف کھاتے ہیں یا مفادات کے آگے بے بس  نظر آتا ہے۔ خطے میں خالصہ زمینوں کی غلط تشریح کرنے سرکاری قبضے میں پہلے سے بہت ذیادہ تیزی آئی ہے نان لوکل کو ڈومسائل بھی جاری کی جارہی ہے بیورکریسی اپنی پسند کی زمین کو اپنے نام انتقال کرتے ہیں اس حوالے سے تمام تر تفصیلات لوکل میڈیا پر آچکی ہے۔جبکہ مقامیوںکیلئے زمینوں کا ٹرانسفر  بھی مشکل ہوگیا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال ہزاروں لوگ سڑکوں پر مسلسل آحتجاج کرتے نظر آتا ہے جنکا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سٹیٹ سبجیکٹ بحال کرو،حالانکہ یہ قانون ختم نہیں ہوئی بلکہ خلاف ورزی ہورہی ہے۔ آج وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے خالصہ سرکار کا نام بدل کر گورنمنٹ لینڈ کرنے کا اعلان کیا۔ حالانکہ عوام کا اصل مطالبہ قبضوں خاتمہ تھا۔ اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی سے جہاںگلگت بلتستان کے عوام کو فائدہ ہوگا وہیں گلگت بلتستان کے قومی خزانے کو بھی فائدہ ہوگا۔ کیونکہ یہاں کے ہونے والے ٹریڈ کے تمام ٹرانزیکشن کو گلگت بلتستان کے قومی خزانے جمع کرنا ہوگا جس کیلئے اسلام آباد کے ساتھ ایک عمرانی معاہدہ کرنا ہوگا۔ ایسا ہونے کی صورت میں گلگت بلتستان کسی قسم کے سبسڈی کا محتاج بھی نہیں رہے گا۔ لہذا عوامی نمائندوں کو اسٹیٹ سبجیکٹ کے نام سے خائف ہونے کے بجائے اس پر عملدآمد کرنا ہوگا۔یہ بات ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں اور پاکستان میں شامل ہو کر وہ حقوق حاصل کرنا چاہتی ہے جو 1973 کے آئین میں موجود ہیں لیکن اسی آئین کی دفعہ 257 میں ریاست جموں و کشمیر کا ذکر ہے اور اس ریاست میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطلب مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ جب صوبہ بنانا خلاف ورزی ہے تو سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی مودی کے بیانئے کی تائید ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: